،سینئر صحافی نصرت جاوید کی موجودہ سیاسی بھونچال پر انوکھی پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانگیر ترین کے وفادار اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی ایک علیحدہ گروپ کی صورت منظر عام پر آگئے ہیں۔ عمران حکو مت کو عدم استحکام سے دو چارکرنے میں یہ گروپ یقینا اہم کردار ادا کرے گا۔

انجام اس کا بھی تاہم ’’کمال کی ہٹی‘‘ جیسا ہوگا۔یہ ہٹی ایم کیو ایم کے کئی برسوں تک جانثار رہے مصطفیٰ کمال نے ’’پاک سرزمین‘‘ سے محبت کے دعویٰ کے ساتھ چلانے کی کوشش کی تھی۔ لندن میں بیٹھا ’’بانی‘‘ اس کا نشانہ تھا۔ وہ بے نقاب اور کمزور ہوگیا تو مصطفیٰ کمال کی ضرورت باقی نہ رہی۔ 2018کے انتخابات کی بدولت تحریک انصاف کراچی کی ’’نمائندہ‘‘ جماعت بن گئی۔مصطفیٰ کمال کے ساتھ ’’دُکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں‘‘ والا معاملہ ہوگیا۔جہانگیر ترین کی حمایت میں کھڑا ہوا گروپ ہماری ’’تاریخ‘‘ کو دہراتا نظر آرہا ہے۔2021کا پاکستان مگر 1993اور 1996کے پاکستان سے بہت مختلف ہے۔ صدرِ پاکستان کو مثال کے طورپر اب قومی اسمبلی برطرف کرنے کا اختیار حاصل نہیں رہا۔ وزیر اعظم کو فقط تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہی فارغ کیا جاسکتا ہے۔جہانگیر ترین کی حمایت میں کھڑے ہوئے اراکین قومی اسمبلی کی معاونت سے ایوان زیریں میں موجود تمام اپوزیشن جماعتیں باہم مل کر عمران خان صاحب کو و زارت عظمیٰ کے منصب سے ممکنہ طورپر فارغ کرسکتی ہیں۔اس کے بعد مگر کیا ہوگا؟ اس سوال پر ہمارے ’’ذہن ساز‘‘ غور کی زحمت ہی نہیں کررہے۔عمران خان صاحب کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کے بعد نیا وزیر اعظم بھی منتخب کرنا ہوگا۔اس حوالے سے کئی نام زیر بحث ہیں۔ میرا جھکی ذہن تاہم انہیں یاوہ گوئی شمار کرتا ہے۔ فرض کیا اگر شہبازشریف بھی نئے وزیر اعظم منتخب ہوگئے تو انہیں ’’قومی حکومت‘‘ جیسی کوئی شے بنانا ہوگی۔ یہ حکومت مگر ’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا‘‘ جمع کرتے ہوئے

تحریک انصاف کی حکومت سے بھی کہیں زیادہ کمزور نظر آئے گی۔اس میں شامل افراد اپنے جثے سے کہیں بڑھ کر حصہ لینے کو بے چین رہیں گے۔نئے انتخاب کے علاوہ کوئی اور راستہ ہی باقی نہیں رہے گااور حال ہی میں ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج واضح انداز میں بیان کررہے ہیں کہ ’’قبل از وقت ‘‘ انتخاب کی بازی کونسی جماعت جیتے گی۔مجھے اس کا نام لینے کی ضرورت نہیں ۔ یہ دعویٰ کرنے کو اگرچہ مجبور ہوں کہ جہانگیر ترین سے وابستہ گروپ ’’قبل از وقت‘‘انتخاب کے بعد 1990کی دہائی میں حامد ناصر چٹھہ کے گرد جمع ہوئے گروپ کی طرح ہی نظر آئے گا۔گزشتہ چند دنوں سے عمران خان صاحب تواتر سے ’’حکومت جاتی ہے تو جائے میں گروہوں کے ہاتھوں پریشرائز نہیں ہوں گا‘‘والا فقرہ دہرائے چلے جارہے ہیں۔ان کی تکرار کو ذہن میں رکھتے ہوئے باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کے بجائے موجودہ قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ کرلیں۔اس فیصلے کے بعد مگر 90دنوں میں آئندہ انتخاب کے لئے ایک ’’عبوری حکومت‘ ‘بھی بنانا ہوگی۔ آئین کے مطابق وزیر اعظم کو قائد حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت سے یہ حکومت بنانا ہے۔عمران خان صاحب مگر شہباز شریف کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی گوارہ نہیں کرتے۔’’عبوری حکومت‘ ‘لہٰذا کچھ ’’اور‘‘ لوگوں کو بنانا ہوگی۔فاروق لغاری کی بنائی عبوری حکومت کی طرح یہ حکومت بھی نوے دنوں میں نئے انتخابات کروانے کے بجائے ’’سنگین قومی بحران‘‘سے کماحقہ انداز میں نبردآزما ہونے کے لئے ’’کم از کم دو برس‘‘ کی طلب گار ہوگی

۔یہ خواہش ’’سیاسی بحران‘‘ کو مزید گھمبیر بنادے گی۔سپریم کورٹ نے مطلوبہ مہلت فراہم کرنے سے انکار کردیا تو ’’قدم بڑھانا‘‘ ہوگا وگرنہ نوے دنوں کے دوران انتخاب کروانے کے سوا کوئی اور راستہ ہی موجود نہیں رہے گا۔نئے انتخاب کے منتظر ’’ذہن ساز‘‘ ایک اور اہم ترین پہلو پر بھی توجہ نہیں دے رہے۔مثال کے طورپر وزیر اعظم کو فقط قومی اسمبلی کی تحلیل کا مشورہ دینے کا اختیار میسر ہے۔ صوبائی اسمبلیاں اس مشورے کی زد میں نہیں آتی۔ فرض کرلیتے ہیں کہ عمران خان صاحب کے ساتھ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب بھی نئے انتخابات کو تیار ہوجائیں تب بھی آئینی اور قانونی اعتبار سے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ صوبائی اسمبلی تحلیل کا فیصلہ کریں۔ خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ بھی ایسا ہی رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔اس صورت میں قبل از وقت انتخاب فقط نئی قومی اور پنجاب اسمبلی کی تشکیل کے لئے منعقد کروانا پڑیں گے۔ سندھ اور خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومتیں اپنی جگہ قائم رہیں گی۔ہماری سیاسی تاریخ میں ایسا قضیہ پہلی بار نمودار ہوا نظر آئے گا۔ ’’سیاسی بحران‘‘ اس کی بدولت گھمبیر ترہوجائے گا۔میرے مرحوم دوست فاروق قیصر نے ایک بار ’’افراتفریح‘‘ کی ترکیب ایجاد کی تھی۔ اپنے گھر میں گوشہ نشین ہوا میں سنجیدگی سے محسوس کررہا ہوں کہ جہانگیر ترین کے وفاداروں نے عمران خان صاحب سے جدائی کا اعلان کرتے ہوئے ’’افراتفریح‘‘ کا ماحول بنا دیا ہے۔یہ ماحول میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کی پریشانیوں کا ازالہ نہیں۔اک تماشہ ہوگا جو شاید ہمارا جی بہلانے میں مدد گار ثابت ہو۔

Comments are closed.