، الزام کیا ہے اور اصل کہانی کیا ہے ؟

لاہور(ویب ڈیسک) قصور میں سول جج آصف ریاض نے گھریلو ناچاقی پر اپنی بیوی کے خلاف مقدمہ درج کرادیا۔شمائلہ بشیر نے مقدمہ کے اخراج کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے مقدمہ کے اخراج کی درخواست پر تھانہ اے ڈویژن قصور پولیس سے مقدمہ کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

درخواست گزار شمائلہ کی طرف سے رب نواز ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ مدعیہ نے بتایا کہ شوہر آصف ریاض قصور میں سول جج ہے، 7 سال قبل اس سے شادی ہوئی تھی اور اس سے دو بیٹیاں 6 سالہ رضیہ اور 4 سالہ حاجرہ پیدا ہوئیں۔درخواست گزار نے بتایا کہ شوہر اس کو زدوکوب کرتا ہے جس سے تنگ آکر بچیوں کو لے کر اپنے میکے سرگودھا آگئی، جس پر اسکے شوہر نے اسکے خلاف اور اس کے بھائی بچیوں کو اٹھا لے جانے کا جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔درخواست گزار نے بتایا کہ اس مقدمے میں مجھ پر اپنے بھائی طاہر بشیر کے ساتھ مل کر بچیوں کو اٹھانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، بچیوں کو کسی نے نہیں اٹھایا بلکہ وہ میرے یعنی اپنی والدہ کے پاس ہیں، ہائی کورٹ سے استدعا ہے کہ مقدمہ کو جھوٹا قرار دے کر خارج کرے اور سول جج شوہر کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Comments are closed.