، جب معاملہ کی تحقیق کروائی گئی تو کیا راز کھلا ؟ عائشہ اکرم کیس کے تناظر میں ایک پرانا واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ میں بطور صحافی سمجھتا ہوں کہ میڈیا کو ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوناچاہئے اوراس کے لئے اس کے رنگ، نسل اور مذہب کے ساتھ ساتھ کریکٹر سرٹیفیکٹ کا انتظار نہیں کرنا چاہئے مگر عملی طور پر ہوتا کچھ اور ہے۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے رپورٹنگ کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی کھلی کچہری میں بارہ، تیرہ برس کی لڑکیاں دیکھیں جن کادعویٰ تھا کہ ان سے غلط کاری کرکے انہیں پریگننٹ بنا دیا گیا ہے ۔ جب تحقیق ہوئی تو علم ہوا کہ یہ ایک گروہ ہے جس کاکام ہی ایسے الزامات سے پیسے بٹورنا ہے۔ اسی طرح شہباز شریف حکومت میں حافظ آباد کے ایک شخص نے دہائی دی کہ چوہدریوں نے (جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر تھے) اس کو دونوں ہاتھوں سے محروم کر دیا ہے جب تحقیق کی گئی تو علم ہوا کہ ہاتھ تو ٹوکے میں غلطی سے آگئے مگر اس شخص نے ہاتھوں سے محروم ہونے کے بعد پانچ لاکھ روپے لئے اوراس کے ساتھ ہی اس خاندان کی لڑکی کا رشتہ بھی بطور معاوضہ مانگ لیا جس پر لڑائی ہوگئی۔ ہاتھوں سے محروم شخص لاہور پریس کلب ظلم کی جھوٹی کہانی لے کر پہنچ گیا۔ میں اس معاشرے میں رہتا ہوں جہاں مظلوم نظر آنے والے بھی بڑے ظالم ہیں، دھوکے باز ہیں، فراڈئیے ہیں۔چلتے چلتے ریمنڈ ڈیوس کیس کا حوالہ بھی دہراتا چلوں کہ میں نے ان دونوں نوجوانوں پر اٹیکس کے عین بعد سروسز ہسپتال میں دیکھا تھا۔ وہ شکل، جثے اور حلیے سے ہی لٹیرے لگ رہے تھے مگر چونکہ مقابلے میں ایک امریکی ایجنٹ تھا لہذا وہ قومی ہیرو بن گئے۔ ریاستی اداروں کی مدد سے ان کے لواحقین کو کروڑوں روپے دلوائے گئے اور ان پیسوں نے لٹیروں کے خاندانوں کو کس طرح تباہ کیا، وہ ایک الگ کہانی ہے۔