، جھنڈے اتار کر نعرے لگانے والے اس وقت کہاں اور کس حال میں ہیں ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاک افغان طورخم سرحد پر پاکستان سے افغانستان جانے والے امدادی سامان کے ٹرک سے پاکستان کا جھنڈا اتارے جانے کو افغان تالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے ’بدترین واقعہ‘ قرار دیا ہے۔اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے ذبیح اللہ نے کہا کہ

’ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور کوشش کریں گے کہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔‘واضح رہے کہ اتوار کے روز پاکستان سے افغانستان جانے والے امدادی سامان کے ٹرک پر لگے پاکستانی پرچم کو افغان تالبان نے افغانستان کی حدود میں اتار دیا تھا۔ یہ امدادی سامان پاک افغان تعاون فورم کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔اس حوالے سے منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد عبور کرنے کے بعد جب امدادی سامان سے بھرا یہ ٹرک افغانستان میں داخل ہوتا ہے تو وہاں انتظار میں کھڑے افغان تالبان ٹرک کو روکتے ہیں اور اس پر لگے پاکستانی پرچم کو اتار دیتے ہیں۔افغان تالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے کہا ہے کہ اس واقعے پر ’پوری تالبان قیادت غصے میں ہے‘ لہذا اس واقعے میں ’ملوث افراد کو جلد ہی گرفتار کیا جائے گا اور سخت سے سخت سزا دے جائے گی‘۔یاد رہے کہ اس وقت تک واقعہ میں ملوث تالبان لڑاکوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور تالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کو سخت ترین سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے ۔ اتوار کے روز پاک افغان کارپوریشن فورم کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے دررمیان طورخم سرحد پر امدادی سامان سے بھرے 17 ٹرک جن میں 300 ٹن اشیا تھیں افغانستان روانہ کیے گئے۔اس حوالے سے سرحد پر ایک تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے عمائدین نے شرکت کی۔اس امدادی سامان میں آٹا، دالیں، گھی، چینی، چاول اور کھانے پینے کی دیگر اشیا کے ساتھ ادویات بھی بھیجی گئی تھیں۔

صحافی محمود جان بابر کو عینی شاہدین نے بتایا کہ ان 17 ٹرکوں میں پہلے ٹرک پر پرچم نہیں تھا بلکہ دوسرے ٹرک پر پاکستان کا جھنڈا لگا ہوا تھا، جس کو دیکھتے ہی سرحد پر کھڑے ہتھیاروں سے لیس تالبان نے اس ٹرک کو روکا اور پرچم کے ساتھ لگا ڈنڈا توڑ کر اسے اتار دیا۔عینی شاہدین کے مطابق جھنڈا اتارنے کے بعد ہی ٹرک کو آگے جانے دیا گیا جبکہ ان 17 ٹرکوں میں سے صرف ایک پر پاکستان کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔پیر کے روز چار مزید ٹرالر پر بھی امدادی سامان افغانستان بھیجا گیا لیکن ان ٹرالر میں سے کسی پر بھی پاکستان کا پرچم نہیں لگا تھا۔پاک افغان تعاون فورم کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کی حدود تک یہ سامان ان کی ذمہ داری تھی اور اس سامان کی حوالگی تک ماحول بھی بہت خوشگوار تھا۔انھوں نے بتایا کہ تالبان کے ذمہ داران نے خود ان سے یہ سامان وصول کیا اور یہ ٹرک تالبان کی موجودگی میں ہی افغانستان کے اندر چلے گئے۔عہدیدار کے مطابق اس کے بعد انھیں نہیں معلوم کہ وہاں کیا ہوا تاہم اس واقعے کی یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان کی جانب سے تحقیقیات جاری ہیں کہ یہ پرچم کیوں اتارا گیا۔اس حوالے سے سرحد پر موجود افغان تالبان کے پاس جو مقامی کمانڈر تھے، ان سے جب رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو بتایا گیا کہ ابھی وہ افراد وہاں موجود نہیں جن کی ڈیوٹی کے دوران یہ واقعہ پیش آیا۔

Comments are closed.