؟ صف اول کے صحافی کی خاص خبر

لاہور (ویب ڈیسک) دیوار سے لگے میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی تو اپنی نااہلی کا بدلہ چکانے کے لئے غالباً استعفوں سمیت ہر کارڈ کھیلنے کے لئے تیار ہیں مگر پیپلز پارٹی اور اے این پی ان سے متفق ہے نہ مولانا کے بارے میں وثوق سے کچھ کہنا آسان کہ

نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالیں گے۔ ؎ بڑی باریک ہیں واعظ کی چالیں لرز جاتا ہے آواز اذاں سے پیپلز پارٹی کے پاس سندھ میں حکومت ہے اور استعفے کیا‘ نئے انتخابات کی صورت میں بھی اُسے یقین نہیں کہ وہ دوبارہ سندھ کی حکمرانی حاصل کر پائے گی یا نہیں‘ سو موجودہ سواد سے محروم ہونا اسے گوارا نہیں‘ استعفوں کی دھمکی دے کر وہ حکومت اور اپوزیشن سے جو فوائد حاصل کر سکتی ہے وہ سندھ حکومت سے محرومی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر مکمل تصادم کی صورت میں ممکن نہیں۔ مسلم لیگ ن کے سارے ارکان اسمبلی استعفوں پر راضی ہیں؟ یہ بھی واضح نہیں‘ جن لوگوں کو اُمید تھی کہ میاں نواز شریف کی انقلابی تقریروں سے فوجی قیادت بیک فٹ پر چلی جائے گی اور وہ عمران خان سے فاصلہ کر کے اپوزیشن کی توقعات اور خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنے گا وہ جان چکے ہیں کہ ان تقریروں سے فاصلے بڑھے نہیں بلکہ تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں البتہ شریف خاندان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ لاہور میں جلسے کے بعد اپوزیشن کی آپشنز مزید محدود ہو جائیں گی‘ اگلے مرحلے میں اسے مجبوراًدھرنا دینا پڑے گا اور پھر استعفوں کا آخری کارڈ کھیلنا ہو گا‘ اگر یہ دونوں کارڈ بھی توقعات کے مطابق ازکار رفتہ ثابت ہوئے تو پی ڈی ایم کیا کرے گی؟ آج سربراہی اجلاس میں اس سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔موجودہ احتجاج اور دھرنوں‘ استعفوں سے عمران خان کا تو شائد کچھ نہ بگڑے‘ میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن بھی اپنی جگہ مطمئن کہ انہیں تین چار ماہ تک دل کا غبار نکالنے کا بھر پور موقع ملا‘ دونوں کو قائد جمہوریت‘ محافظ جمہوریت‘ سقراط‘ حسین حلاج اور چی گویرا نہ جانے کیا کچھ سمجھا اور کہا گیا (ویسے سچی بات ہے سقراط‘ حسین حلاج اور چی گویرا سے یہ مذاق ماضی میں کبھی کسی نے نہیں کی کسی نے دعویٰ کیا نہ کوئی بدذوقی پر آمادہ ہوا)مگر ان خوش فہموں کو ضرورت سے زیادہ مایوسی ہو گی جو پی ڈی ایم کی تحریک سے پاکستان میں مثالی جمہوریت کی بحالی ‘ اسٹیبلشمنٹ کی شکست‘ شریف خاندان کی باردگر حکمرانی اور معلوم نہیں مزید کیسی کیسی توقعات وابستہ کئے بیٹھے ہیں‘ اجتماعی استعفوں سے اپوزیشن عمران خان کی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے مگر پیپلز پارٹی اس پر تیار ہو گی نہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے منتخب ارکان کی ایک بڑی تعداد راضی‘درون خانہ بُری بھلی جمہوریت کا بوریا بستر گول کرنے کا کوئی منصوبہ ہے تو پھر لگے رہو منا بھائی۔

Comments are closed.