آئندہ الیکشن کے لیے جنوبی پنجاب سے کس کا پلہ ابھی سے بھاری نظر آرہا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پیپلز پارٹی کے جنوبی پنجاب کے طوفانی دوروں کے بعد حکومتی جماعت تحریک انصاف نے بھی آج سے جنوبی پنجاب میں ڈیرے ڈالنے کے لئے حکمت عملی تیار کر لی ہے اور پارٹی کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی پہلے مرحلہ میں بہاولنگر پہنچ رہے ہیں جہاں وہ پارٹی کے ارکان

اسمبلی، عہدیداروں اور کارکنوں سے ملاقاتیں اور آنے والے بلدیاتی الیکشن کے لیے امیدواروں کے چنائو کیلئے ان سے انٹرویوز کریں گے۔ علاوہ ازیں پارٹی کے تنظیمی معاملات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اقتدار میں آنے کے تین سال بعد تحریک انصا ف کا یہ پہلا فیکٹ فائنڈنگ مشن ہے جو بلدیاتی الیکشنوں کے علاوہ 2022ء یا 2023 ء میں ہونے والے الیکشنوں کے بارے میں امیدواروں کا جائزہ بھی لے گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ مستقبل میں ہونے والے الیکشن میں جنوبی پنجاب کے گیارہ اضلاع سے -46 ارکان قومی اسمبلی کو منتخب کیا جانا ہے جن میں سے دس سے پندرہ سیٹوں کو محفوظ خیال کیا جاتا ہے۔ جہاں مزاری ، لغاری، دریشک اور کھوسوں کے دیگر قبائلی شخصیتوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان حلقوں سے ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں اور ان میں سے زیادہ تر جیتنے والے حزب اقتدار کا حصہ ہوتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے آئندہ الیکشن کے ضمن میں بتایا گیا ہے کہ بعض امیدواروں نے رابطے شروع کر دیئے ہیں کہ وہ مستقبل میں کس سیاسی کشتی میں سوار ہوں گے۔ حکمران جماعت کو جنوبی پنجاب سے بھاری اکثریت میں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ حکومت میں آنے کے بعد پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام سے متعلق طاہر بشیر چیمہ کی سربراہی میں ایگزیکٹوکونسل تشکیل دیدی۔ ابھی اس کونسل نے اپنا کام شروع نہیں کیا تھا کہ بہاول پور کے بااثر سیاستدان حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے ایم این اے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے پریس کانفرنس میں جنوبی پنجاب صوبہ کے ساتھ بہاول پور صوبہ بحالی کا مطالبہ کر دیا۔ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ کا درجہ کب ملے گا اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ لیکن سیاست دانوں کی آنیاں جانیاں دیکھی جارہیں ہیں اور معاملہ جوں کا توں ہے اور سیاست جاری ہے۔

Comments are closed.