آئن سٹائن نے اپنی زندگی میں کیا کیا دکھ دیکھے ؟

لندن (مارگریٹا روڈریگز ) آئن سٹائن کی زندگی کے بارے میں تحقیق کرنے والے روزن کرینز نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ‘ان کی زندگی میں بہت دکھ تھے۔’آئن سٹائن کی پہلی بیوی میلووا میرک کے دو اور بچے بھی تھے۔پہلے بچے کی زندگی ایک معمہ بنی رہی جسے بہت سے لوگوں نے سمجھنے کی کوشش کی

جبکہ دوسرے بچے نے اپنی کہانی خود سنائی۔آئن سٹائن کے ایک بیٹے ہانس ایلبرٹ کا کہنا ہے ‘میرے والد غیر معمولی تھے کیونکہ وہ بہت ساری ناکامیوں کے باوجود بھی مسائل حل کرنے میں لگے رہتے تھے۔ اگر غلط نتائج بھی سامنے آ رہے ہوں، تب بھی وہ بار بار کوشش کرتے رہتے۔ ان کی زندگی میں شاید ایک چیز تھی جس کے سامنے انھوں نے ہمت ہار لی اور وہ میں تھا۔ انھوں نے مجھے مشورہ دینے کی کوشش کی لیکن وہ بھانپ گئے تھے کہ میں بہت ضدی ہوں اور ماننے والا نہیں۔’آئن سٹائن کی پہلی بیٹی لیزرل 1902 میں پیدا ہوئیں۔روزن کرینز کا کہنا ہے کہ ‘ہم نہیں جانتے کہ دو سال بعد ان کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ بات تاریخ میں کھو گئی ہے۔‘اسی وجہ سے اس کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں بھی کی گئیں۔’ہوسکتا ہے کہ بچی کو کسی کو گود دے دیا گیا ہو یا وہ فوت ہوگئی ہو۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔’آئن سٹائن پیپرز پروجیکٹ کے تحت مشہور سائندان کی زندگی سے متعلق دستاویزات اور خطوط کو محفوظ کیا گیا ہے اور یہ ان کے کردار کے انسانی پہلو کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہیں۔ان دستاویزات کی بدولت ہی ان کی پہلی بیٹی کی پیدائش کا انکشاف بھی ہوا۔آئن سٹائن نے سوئٹزرلینڈ سے میلووا میرک کو لکھا تھا ’کیا وہ صحت مند ہے؟ کیا وہ آسانی سے روتی ہے؟ اس کی آنکھیں کیسی ہیں؟ ہم میں سے کون اس سے زیادہ مماثلت رکھتا ہے؟ اسے دودھ کون دیتا ہے؟

کیا وہ بھوکی ہے؟ وہ مکمل طور پر گنجی ہوگی۔ میں ابھی اسے نہیں جانتا لیکن میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں۔’اس خط کے اقتباسات والٹر آئیزیکسن کی کتاب ’آئن سٹائن: ہز لائف اینڈ ہز ورک‘ (ان کی زندگی اور ان کی خدمات) میں شائع ہوئے تھے۔میلووا نے جب پہلی بیٹی کو جنم دیا تو وہ آئن سٹائن سے دور سربیا میں مقیم تھیں۔میلووا نے بچہ پیدا کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ کیوں چھوڑا اور اپنے کنبے کے پاس کیوں گئیں؟اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں نہ صرف تاریخ میں بلکہ نوجوان آئن سٹائن کے گھر بھی پہنچنا ہوگا۔حال ہی میں آئن سٹائن پر شائع ہونے والی کتاب ‘آئن سٹائن آن آئن سٹائن’ کے مصنف ہیناک گٹ فرنڈ نے بی بی سی منڈو کو بتایا ‘ان کی والدہ میلووا سے ان کی شادی کے خلاف تھیں۔ انھیں لگتا تھا کہ میلووا کے ساتھ ان کے بیٹے کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔‘’انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر میلووا امید سے ہوگئی تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ اُس زمانے میں شادی سے پہلے پاؤں بھاری ہونا ایک سکینڈل کی مانند ہوتا تھا۔لیکن سچ تو یہ تھا کہ میلووا اور آئن سٹائن ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔خیال کیا جاتا ہے کہ جب ان کے مراسم قائم ہوئے تو آئن سٹائن کی عمر 19 سال اور میلووا میرک 23 برس کی تھیں۔وہ میونخ پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ میں ان کی پارٹنر تھیں جہاں میلووا نے نوجوانی میں ہی طبیعیات میں اپنی مہارت دکھائی۔آئیزیکسن کے مطابق آئن سٹائن کے خطوط سے نہ صرف ان کی میلووا سے محبت

بلکہ اس رشتے کے خلاف ان کی والدہ کے جذبات کا بھی پتہ چلتا ہے۔آئن سٹائن لکھتے ہیں: ‘میرے گھر والے ایسے سوگ منا رہے ہیں جیسے میں چل بسا ہوں ۔ وہ وقتاً فوقتاً شکایت کرتے ہیں کہ تمہارے لیے محبت میرے لیے بدقسمتی کا باعث بنے گی۔ ان کے خیال میں تم میرے لیے ٹھیک نہیں ہو۔’لیکن آئن سٹائن نے اپنے دل کی بات مانی اور جب میلووا امید سے ہوئیں تو انھوں نے اسے یقین دلایا کہ وہ ایک اچھے شوہر ثابت ہوں گے۔بچی کی پیدائش سے پہلے آئن سٹائن برن میں تھے۔ وہ فیڈرل آفس آف انٹلیکچوئل پراپرٹی کے سرکاری دفتر میں نوکری ملنے کے امکان پر بھی پرجوش تھے۔اس وقت آئن سٹائن ریاضی اور طبیعیات میں ٹیوشن پڑھاتے تھے۔ یہ ملازمت ان کی زندگی میں استحکام لانے والی تھی۔اس وقت لکھے گئے خطوط میں انھوں نے مستقبل میں ساتھ رہنے کی امید کے ساتھ کچھ خدشات کا بھی اظہار کیا۔آئن سٹائن نے لکھا: ‘ہمیں صرف ایک ہی مسئلہ درپیش ہوگا، وہ یہ ہے کہ ہم لیزرل کو اپنے ساتھ کیسے رکھیں گے۔ میں نہیں چاہتا کہ میں اسے چھوڑ دوں۔’آئن سٹائن جانتے تھے کہ اس دور کے معاشرے میں کسی ‘نہ چاہے بچے کو پالنا کتنا مشکل تھا، خاص طور پر اس شخص کے لیے جو ایک معزز سرکاری اہلکار کی حیثیت سے نوکری حاصل کرنا چاہتا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ آئن سٹائن اپنی پہلی بیٹی لیزرل سے کبھی نہیں مل پائے اور میلووا نے اسے سربیا میں اپنے رشتہ داروں کے پاس چھوڑ دیا۔آئیزیکسن نے امکان ظاہر کیا ہے کہ

میلووا کے ایک قریبی دوست نے ان کی بیٹی کی پرورش کی ہو لیکن اس حوالے سے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔گٹ فرنڈ کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں صرف ان کے محبت بھرے خطوط کے ذریعہ ان کی بیٹی کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ اس موضوع پر کتابیں بھی لکھی گئیں لیکن کوئی ٹھوس جواب نہیں دیے جا سکے۔‘روزن کرینز کے مطابق کچھ صحافی اور محقق دستاویزات کی تلاش میں سربیا بھی گئے تھے لیکن اس حوالے سے کوئی ٹھوس چیز نہیں مل سکی۔ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اس کے بارے میں آخری بار اس وقت لکھا گیا تھا جب بچی دو سال کی تھی۔ ’اس وقت اسے سکارلٹ بخار ہو گیا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ بچ گئی تھی یا نہیں۔ ‘اس وقت سکارلٹ بخار ایک خوفناک بیماری تھی اور اسے چھوٹے بچوں کے لیے بہت ہی خطرناک سمجھا جاتا تھا۔آئن سٹائن کی وفات سنہ 1955 میں ہوئی اور خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹی کے بارے میں کبھی کسی سے بات نہیں کی۔جب آئن سٹائن کو برن میں مستقل ملازمت ملی تو میلووا ان کے پاس آگئی اور دونوں نے 1903 میں شادی کر لی۔ان کا دوسرا بیٹا ہانس ایلبرٹ 1904 میں پیدا ہوا اور پھر 1910 میں ایڈورڈ کی پیدائش ہوئی۔ اس وقت خاندان میونِخ میں رہتا تھا۔آئیزیکسن کے مطابق ہانس ایلبرٹ نے بتایا تھا ‘جب میری والدہ گھر میں مصروف ہوتی تھیں تب ہمارے والد اپنا کام چھوڑ کر گھنٹوں ہمارا خیال رکھتے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے اور ہمیں خاموش رکھنے کے لیے وائلن بجایا کرتے تھے’

ایڈورڈ کا بچپن مشکل تھا، وہ زیادہ تر وقت بیمار رہتے تھے۔آئن سٹائن انسائیکلوپیڈیا کے مطابق جب ایڈورڈ چار سال کے تھے تو وہ کئی ہفتوں تک شدید علیل رہے اور بستر پر تھے۔جب 1917 میں ایڈورڈ کے پھیپھڑوں میں سوجن آئی تھی تو آئن سٹائن نے ایک دوست کو لکھے گئے خط میں کہا تھا ‘میرے بچے کی صحت مجھے بہت افسردہ کر دیتی ہے۔’اس سب کے باوجود ایڈورڈ ایک اچھے طالب علم تھے اور انھیں فنون لطیفہ سے دلچسپی تھی۔ وہ نظمیں لکھنے کے علاوہ پیانو بجانے میں بھی دلچسپی لیتے تھے۔انھوں نے اپنے والد کے ساتھ موسیقی اور فلسفے پر کئی سنجیدہ مباحثے کیے۔آئن سٹائن نے لکھا ہے کہ ان کا بیٹا زندگی سے متعلق اہم چیزوں پر ان کے ساتھ مذاکرہ کرتا تھا۔جب آئن سٹائن سائنس کے میدان میں ترقی کر رہے تھے تو ان کے اپنی بیوی سے تعلقات خراب ہونا شروع ہوگئے۔حالات اس وقت اور خراب ہوئے جب آئن سٹائن کا اپنی کزن سے معاشقہ شروع ہو گیا۔سنہ 1914 میں آئن سٹائن کا کنبہ برلن چلا گیا لیکن ان کے برتاؤ کی وجہ سے میلووا واپس سوئٹزرلینڈ لوٹ آئیں۔سنہ 1919 تک بات طلاق ہو چکی تھی۔گٹ فرنڈ کے مطابق آئن سٹائن کے لیے اپنے بچوں سے دور رہنا بہت مشکل تھا، اسی وجہ سے انھوں نے اپنے دونوں بچوں سے تعلقات مضبوط رکھنے کی کوشش کی۔روزن کرینز کا بھی یہی کہنا ہے کہ انھیں اپنے بچوں سے بہت پیار تھا۔آئن سٹائن کو جب بھی موقع ملتا وہ اپنے بچوں سے ضرور ملتے۔ انہوں نے لکھا، ‘میں بچوں کو چھٹیوں پر لے جاتا ہوں۔

جب وہ بڑے ہوجائیں گے تب میں ان کو برلن بلاؤں گا تاکہ ہم ایک ساتھ وقت گزاریں۔’آئن سٹائن اور ان کے بیٹے ایڈورڈ کے مابین خط و کتابت بھی چلتی تھی۔سنہ 1930 میں آئن سٹائن نے اپنے بیٹے کو لکھا ‘زندگی سائیکل چلانا سیکھنے کی مانند ہے، توازن برقرار رکھنے کے لیے آگے بڑھتے رہنا ضروری ہے۔’ماہرین کے مطابق ہانس آئن سٹائن کی الگ شخصیت تھی۔ برسوں بعد جب آئن سٹائن نے اپنے بیٹے کو خط لکھے تو انھوں نے نہ صرف اپنا نظریہ بتایا بلکہ بیٹے کو بھی نوکری تلاش کرنے کا مشورہ دیا۔آئن سٹائن کا سب سے چھوٹا بیٹا بھی طبیعات دان بننے کا خواب دیکھتا تھا اور سِگمنڈ فرائڈ کے نظریات میں بھی دلچسپی لیتا تھا۔1932 میں اسے سوئٹزرلینڈ کے ایک نفسیاتی ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ اس وقت وہ طب کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔گٹ فرینڈ کا کہنا ہے کہ آئن سٹائن کو اس بات سے شدید تکلیف ہوئی۔گارڈیئن اخبار کے مطابق آئن سٹائن نے بعد ازاں لکھا ‘میرے بہترین بچوں میں سے ایک جسے میں بالکل اپنے جیسے سمجھتا تھا، ایک لاعلاج ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔’1933 میں جب جرمنی میں نازی انقلاب کا خطرہ بڑھتا جا رہا تھا تو ایلبرٹ آئن سٹائن نے امریکہ جانے کا انتخاب کیا۔ملک چھوڑنے سے پہلے آئن سٹائن وہاں گئے جہاں ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کو داخل کرایا گیا تھا۔ یہ آخری موقع تھا جب باپ بیٹا ایک دوسرے سے ملے تھے۔میلووا گھر میں ہی ایڈورڈ کا خیال رکھتی تھیں لیکن جب اس کی ذہنی بیماری نے شدت پکڑ لی تو اسے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔

سنہ 1948 میں ملووا کی موت کے بعد ایڈورڈ کی دیکھ بھال کے لیے ایک قانونی سرپرست مقرر کیا گیا جس کا خرچ آئن سٹائن اٹھاتے تھے۔روزن کرینز کا کہنا ہے کہ ‘مجھے نہیں لگتا کہ آئن سٹائن اور ایڈورڈ نے اس دوران ایک دوسرے کو خط لکھے ہوں گے۔‘آئیزیکسن کے مطابق ایڈورڈ کو امریکہ جانے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ وہ ذہنی مریض تھے اور انھوں نے اپنی زندگی کے آخری دن ہسپتال میں تنہا گزارے۔ان کی 55 سال کی عمر میں 1965 میں وفات ہو گئی۔آئن سٹائن کے دوسرے بیٹے ہانس ایلبرٹ نے میونخ کے فیڈرل پولی ٹیکنک سکول میں تعلیم حاصل کی۔1924 میں لکھے خط میں آئن سٹائن نے اپنے بیٹے کے فرسٹ آنے پر خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ‘میرا بیٹا ایلبرٹ ایک قابل اور دیانت دار آدمی بن گیا ہے۔’ہانس نے 1926 میں گریجویشن کیا اور 1936 میں ڈاکٹر آف ٹیکنیکل سائنس کی ڈگری حاصل کی۔کیلیفورنیا یونیورسٹی میں شائع ہونے والی ان کی مختصر سوانح عمری میں لکھا گیا ہے ‘ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے ان کا تھیسز سیڈیمنٹ ٹرانسپورٹ پر ایک ٹھوس کام ہے اور دنیا بھر کے انجینئر ان کے کام کو تسلیم کرتے ہیں۔1938 میں ہانس ایلبرٹ نے اپنے والد کے مشورے پر امریکہ چلے گئے اور وہاں انہوں نے سیڈیمنٹ ٹرانسپورٹ پر اپنے تحقیقی کام کو جاری رکھا۔ہانس آئن سٹائن کی سوانح حیات لکھنے والے روبرٹ ایٹیما اور کورنیلیا موٹیل نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ‘ہانس ایلبرٹ نے نظریاتی بصیرت اور عملی طریقے تیار کیے ہیں جو ہماری موجودہ تفہیم کو ترقی دینے میں مدد کرتے ہیں

کہ بہتے ہوئے پانی میں تلچھٹ کیسے ہوتی ہے۔‘سنہ 1988 میں امریکن سوسائٹی آف انجینئرز نے ہانس ایلبرٹ کی یاد میں ایک ایوارڈ پیش کیا جو ان شعبوں میں قابل ذکر کام کرنے والوں کو نوازتا ہے۔امریکہ پہنچنے کے بعد ہانس نے جنوبی کیرولائنا زرعی تجرباتی سٹیشن اور پھر وہاں کے محکمہ زراعت میں کام کیا۔بعد میں انھوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں ہائیڈرولک انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ ہانس آئن سٹائن نے بہت سے دوسرے ممالک میں سیڈیمنٹ ہائیڈرولکس کی ترقی کو بھی متاثر کیا۔آئن اسٹائن کے اپنے بچوں کے ساتھ تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے۔ اپنے خطوط میں وہ کبھی محبت سے کام لیتے اور اور کبھی سرزنش کرتے نظر آتے تھے۔روزن کرینز کا کہنا ہے کہ ان کے اپنے بچوں سے بھی کچھ جھگڑے ہوئے تھے۔مثلاً آئن سٹائن کا رد عمل اس وقت منفی تھا جب نوجوان ہانس نے اپنے والد کو بتایا کہ وہ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔برسوں بعد ایک اور اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب آئن سٹائن نے ہانس کی شادی کے انتخاب کی مخالفت کی۔اس معاملے میں صرف آئن سٹائن ہی نہیں میلووا نے بھی احتجاج کیا تھا۔لیکن ہانس نے دونوں کی اعتراضات نظرانداز کرتے ہوئے 1927 میں فریڈا نیکٹ سے شادی کی جو ان سے نو سال بڑی تھیں۔بعد میں آئن سٹائن نے اپنے بیٹے کے فیصلے کو قبول کیا اور اس کی بیوی کو اپنے خاندان میں خوش آمدید کہا۔ ان کے تین پوتے پوتی تھے۔آئنسٹائن اور ان کے بیٹے کا میل جول تو

تھا لیکن دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب نہیں تھے۔گٹ فرینڈ کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آئن سٹائن مشرقی ساحل پر رہتے تھے جبکہ ان کا بیٹا ہانس مغربی ساحل پر مقیم تھا۔ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ تعلقات میں فاصلے کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ آئن سٹائن نے اپنا دوسرا گھر بھی بسا لیا تھا۔آئن سٹائن نے ایلسا سے شادی کر لی تھی جن کی ایک پچھلی شادی سے دو بیٹیاں بھی تھیں۔ہانس نے فریڈا کی موت کے بعد ماہر بایو کیمسٹ الزبتھ روبوز سے شادی کی اور سنہ 1973 میں 69 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔آئیزیکسن کا کہنا ہے کہ ایک بار آئن سٹائن نے میلووا کو بتایا تھا کہ ان کے دو بچے ان کے ضمیر کی عکاس ہیں۔آئن سٹائن نے کہا تھا کہ ان کے جانے کے بعد بھی ان کی اولاد ان کی میراث کو زندہ رکھے گی۔لیکن ایک عظیم سائنسدان اور ایک ایسا شخص جس نے کائنات کے بارے میں ہمارے رویے کو تبدیل کیا، اس کی اولاد ہونے کی اپنی ہی پیچیدگیاں تھیں۔ایڈورڈ نے ایک بار لکھا تھا ‘بعض اوقات انتہائی اہم انسان کی اولاد ہونا پریشانی پیدا کر دیتا ہے کیونکہ ہم اپنے آپ کو معمولی سمجھنے لگتے ہیں۔’ہانس آئن سٹائن کی مشہور تھیوری آف ریلیٹیوٹی کی اشاعت سے ایک سال قبل پیدا ہوا تھا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنے بڑے سائنسدان کا بیٹا ہونا کیسا محسوس ہوتا ہے، تو انھوں نے کہا تھا کہ ‘اگر میں نے بچپن سے ہی ہنسنا نہیں سیکھا ہوتا تو میں پاگل ہو جاتا۔'(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.