آئی ایم ایف کو بھی علم ہے کہ اب پی ٹی آئی دوبارہ حکومت میں نہیں آسکے گی ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد ولید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ایک اور تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا ہے، کل تک عمران خان سے توقعات باندھنے والے آج ان کی ناکامی پر طرح طرح کے غیر منطقی دلائل لا کر انہیں ووٹ دینے کے اپنے فیصلے کو درست سمجھتے

اورسمجھاتے پائے جاتے ہیں۔ گھروں میں خواتین اگربتاتی ہیں کہ عمران خان خود تو ٹھیک ہیں مگر ان کی ٹیم ٹھیک نہیں ہے تو پارکوں میں مرد حضرات ان کی جانب سے دیئے جانے والے نیب آرڈیننس کو جائز قرار دے کر اب بھی ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کی توقع باندھے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ اب تو خود عمران خان اور ان کی کابینہ کی بدعنوانی کے قصے میڈیا کی زینت بننے لگے ہیں۔خیرلوگوں کا کیا ہے کہ تو کل اگر اس لئے خوش تھے کہ جنرل مشرف نے بدعنوانی ختم تھی تو آج اس لئے خوش ہیں کہ عمران بدعنوانی ختم کرے گا۔جبکہ ہم جانتے ہیں کہ پہلے اگر انہوں نے عمران خان کے آنے کی خوشی منائی تھی تو اب اس کے جانے کی خوشی منائیں گے۔ دوسری جانب نون لیگ میں دوبارہ سے ہلچل پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔ کہیں پارٹی اجلاس ہو رہے ہیں تو کہیں جنوبی پنجاب کے دورے کئے جا رہے ہیں۔ وہاں دوسرے درجے کی قیادت نے پارٹی کی باگ ڈورسنبھال لی ہے اور کافی حد تک باہمی اختلافات کو دبا کر رکھا ہوا ہے جس کا ایک سبب یہ ہو سکتا ہے کہ ابھی پارٹی کی سنیئر قیادت ان کے سروں پر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مریم نواز اور حمزہ شہباز کا قصہ ہو یا شاہد خاقان عباسی اور رانا تنویر کا معاملہ یا پھر جاوید لطیف اور خواجہ آصف کی نوک جھونک، شیخ رشید کی بھرپورخواہش کے باوجود ابھی تک نون لیگ سے شین لیگ اور شین لیگ سے میم لیگ نہیں نکل پائی ہیں۔

کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ شیخ رشید نون سے شین اور شین سے میم نکالتے نکالتے خود دوبارہ نون میں جا گھسیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر سیاست سے ریٹائر ہوجائیں گے اور ایک اور جاوید ہاشمی بن جائیں گے!اس وقت پی ٹی آئی سے بھی زیادہ پتلی حالت پیپلز پارٹی کی ہے جو بلاول بھٹو کے آئٹم سانگ پرپورے سرکٹ میں چھاجانا چاہتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بلاول کا جتنازیادہ زور لگ رہا ہے اتنی ہی زیادہ پیپلز پارٹی سکڑتی جارہی ہے۔ خاص طور پرپنجاب میں تو اس کی بے توقیری دیدنی ہے۔ اس کا بڑاسبب آصف زرداری کی مفاہمت کی وہ پالیسی ہے جو نہ صرف انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے روا رکھی بلکہ پی ٹی آئی کو بھی مستعار دیئے رکھی۔ایسے میں پارٹی کے جیالے کیونکر اپنے قائد کی تقلید سے باز رہتے؟وہ ان سے بھی تیز نکلے اور ندیم افضل چن سے لے کر شوکت بسرا تک،بہت سے ستارے پیپلز پارٹی کے افق سے ٹوٹ کر پی ٹی آئی کے ماتھے کا جھومر بن گئے اورپیپلز پارٹی کا بیوہ پن مزید عیاں ہوگیا۔کچھ ایسا ہی حال جماعت اسلامی کا ہے جس کا سارا وجود اس کے امیر کے اخباری بیانات میں سکڑ کر رہ گیا ہے اور اب تو ان بیانات سے بھی کچھ خاص ارتعاش پیدانہیں ہوتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے جماعت اسلامی سے اسلامی انقلاب کی توقع توڑ لی ہے۔ البتہ مولانافضل الرحمٰن کا بیدارمغز اپنی للکار سے ان صفوں میں ارتعاش پیدا کئے ہوئے ہے جو اس بات کے حامی ہیں کہ پاکستان کی ترقی تبھی ممکن ہے

اگر ملک کے طاقتور ادارے مداخلت بے جا کی روش ترک کردیں۔دوسری جانب جہاں ایک جانب شیخ رشیدمریم نواز کی جانب سے فوج پرتنقید پرجزبز ہوتے نظر آتے ہیں وہاں پرعدلیہ اپنا سا منہ لئے بیٹھی ہے کیونکہ نواز شریف کی ”مجھے کیوں نکالا“کی مہم نے اس کے چہرے کا نقاب ہٹادیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلاہے کہ عوام کاایوان عدل سے یقین اٹھ گیاہے اور وہ اپنے جھگڑے عدالتوں سے باہر نپٹاتے اور عدالتوں کے اندر اپنے حریفوں کو لتاڑنے جاتے ہیں۔ حالات کے ستائے عوام نے اگر اپنی ہتھیار سیدھے کر لیے توکیا بنے گا؟….ایسے میں نیب آرڈیننس پر دستخط کرکے صدر عارف علوی نے اپنے آپ کو سابق صدر فضل الٰہی سے بھی بڑھ کر ثابت کردیا ہے۔عوام منتظر ہیں کہ کہیں سے احتجاجی تحریک کا آغاز ہو تو وہ اپنے دل کی بھڑاس نکالیں۔ لوگ اب پوچھتے ہیں کہ احتجاج کب ہوگا، سڑکوں پر کب نکلیں گے، بجلی کے بل کب جلائے جائیں گے، خود پر پٹرول چھڑک کا آگ کب لگائی جائے گی، تقریریں کب ہوں گی، لانگ مارچ کی تاریخ کب نکلے گی، الیکٹرانک میڈیا کب سچ بولے گا، جھوٹ کا بازار کب ٹھنڈا پڑے گا، اور اس حکومت سے کب جان چھوٹے گی؟….تاہم دوسری جانب پی ڈی ایم کے رویے سے بالعموم اور نون لیگی قیادت کے رویے سے بالخصوص ایسا لگتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عوام تبدیلی کا مزہ کچھ مزید چکھ لیں تاکہ آئندہ تبدیلی کے نام پر کانوں کو ہاتھ لگاتے توبہ توبہ کریں۔ ہم پی ڈی ایم اور نون لیگ کی قیادت سے یہی کہیں گے کہ جلسے جلوسوں کا موسم آگیا ہے، انہیں خالی پاک فوج میں عہدوں کی تبدیلی پر خوش ہونے کی بجائے حکومت میں تبدیلی کا ڈول ڈالنا چاہئے کیونکہ اگر انہوں نے عوامی نبض کو نہ پہچانا اور اسی سست روی کا شکار رہے تو عین ممکن ہے کہ جب وہ تیار ہوں تب دوبارہ سے لاک ڈاؤن کا موسم آجائے۔ بہتر یہ ہے کہ میدان عمل میں کود پڑیں اور نواز شریف کی وطن واپسی سے پہلے گراؤنڈ گرم کریں تاکہ اگلا سال واقعی انتخابات کا سال ثابت ہو وگرنہ آئی ایم ایف والے اس غیر مقبول جماعت کے ہاتھوں عوام کا تیل نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے کیونکہ آئی ایم ایف والے بھی جانتے ہیں کہ اب کے بعد پی ٹی آئی دوبارہ اسلام آباد نہیں آسکے گی!

Comments are closed.