آج سے ایک سال بعد تحریک انصاف کا کیا حشر نشر ہونیوالا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفاق میں برسر اقتدار پاکستان تحریکِ انصاف کی آزاد کشمیر میں جیت کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ گلگت بلتستان ہو یا آزاد کشمیر، دونوں جگہ کے ووٹرز وفاق میں برسر اقتدار جماعت ہی کو جتوانے کی روایت کے حامل ہیں۔

ووٹرز جائز طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ فنڈز اور طاقت و اختیار کا سرچشمہ وفاقی حکومت ہے۔ اس لئے وفاق میں برسراقتدار جماعت کو ووٹ دے کر وہ اپنے فنڈز اور زیادہ سے زیادہ حقوق کے حصول کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے دور افتادہ علاقے نہیں رہے۔ ذرائع مواصلات میں جدت اور موبائل و کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی وجہ سے سیاست اور اطلاعات کے حوالے سے یہ علاقے کسی طور پر بھی پاکستان سے پیچھے نہیں رہے، یہی وجہ ہے کہ اِس بار آزاد کشمیر کی انتخابی مہم پاکستان سے مختلف نہیں تھی، وہی رنگ ڈھنگ، وہی مغلطات اور وہی نعرے۔آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی جیت کو صرف وفاقی حکومت کے مرہونِ منت قرار دینا بھی درست نہیں۔ اِس حوالے سے دوسرے عناصر کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ مریم نواز صاحبہ نے آزاد کشمیر میں زور دار مہم چلائی اور بڑے بڑے مجمعوں سے خطاب کیا۔بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہے۔ اگر تو جلسے جلوسوں کا رنگ ڈھنگ دیکھا جائے تو پھر ن لیگ کو بہت کم سیٹیں ملی ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مریم نواز کراؤڈ پُلر ہیں، لوگ اُن کے جارحانہ خطابات کو سننے کے لئے آتے ہیں جبکہ حکومتی جلسوں میں کوئی ایسا مقرر نہیں تھا جس کی اسٹار ویلیو ایسی ہو۔آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی جیت ن لیگ کے لئے جھٹکا ہے۔ ن لیگ کے حامیوں کے لئے دو بیانیوں کی کشتیوں میں سواری ایک مشکل مرحلہ ہے۔ ایک طرف شہباز شریف کا مفاہمانہ رویہ ہے تو دوسری طرف مریم نواز کا جارحانہ رویہ۔ن لیگ نے اپنی حکمتِ عملی یہ بنا رکھی ہے کہ پارٹی سیاست اور عوامی جذبات کے لئے مریم نواز کو لیڈ دی

جائے جبکہ پارلیمانی سیاست اور اتحادی سیاست کے لئے شہباز شریف کو آگے رکھا جائے۔ بظاہر یہ حکمتِ عملی کامیاب رہی، پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ن لیگ مسلسل جیتتی رہی لیکن آزاد کشمیر میں یہ حکمت عملی کام نہیں آئی اور کامیاب جلسوں کے باوجود ن لیگ زیادہ سیٹیں نہ لے سکی بلکہ پیپلز پارٹی بآسانی ان سے کہیں زیادہ سیٹیں لے گئی۔پی ٹی آئی کو آزاد کشمیر میں اپنی فتح پر جشن منانے کا حق حاصل ہے مگر اسے یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان کے اگلے انتخابات سے ایک سال پہلے حکومت کمزور ہوگی اور اپوزیشن مضبوط ہوتی چلی جائے گی۔جب حکومت مخالف ہوا چلے گی تو پھر معاشی کارکردگی اور دوسرے معاملات کا ایسا حشر نشر ہوگا کہ حکومت کے لئے اپنا دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ حکومت کی خوش قسمتی رہی ہے کہ اسے مقتدرہ کی طرف سے مکمل حمایت حاصل رہی جبکہ ماضی میں مقتدرہ اور حکومت میں ہمیشہ ٹھنی رہتی تھی۔دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا اگلے انتخابات اور پھر اس کے بعد بھی یہی انتظام چلے گا یا پھر اس میں تبدیلی آ جائے گی؟ ن لیگ کے لئے آنے والے اشارے تشویشناک ہیں، اسے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ دو بیانیوں والی روش آئندہ انتخابات میں کارگر ہوتی نظر نہیں آتی۔ ن لیگ کےپالیسی سازوں کو پاکستان کے آئندہ انتخابات کے لئے ایسی حکمت عملی بنانی چاہئے جس سے یہ تاثر ملے کہ اگلا اقتدار انہیں ملے گا۔ یہ تاثر ہوگا تو 97یا 2013کی طرح کے نتائج آ سکتے ہیں۔

Comments are closed.