آج وہی پنڈت کیا پیشگوئی کررہے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک)سیاسی پنڈت پیش گوئی کر رہے تھے کہ نواز شریف کا عہد تمام ہوا۔ خواہشیں تجزیوں میں ڈھل رہی تھیں۔ آج ہرکوئی بچشمِ سر دیکھ سکتا ہے کہ سیاست نواز شریف کے گرد گھوم رہی ہے۔ ملک میں ایک ہی بیانیہ ہے۔ وہی جو انہوں نے پیش کیا۔ آپ اس بیانیے کے حامی ہیں

یا مخالف۔ نامور کالم نگار خورشید ندیم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس کے سوا کوئی انتخاب نہیں۔ فیصلے بولنے لگے ہیں کہ ایک نئے دور کی نمود ہے۔ کوئی خدشات میں مبتلا ہے کہ ”دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا‘‘۔ کوئی طرب انگیز جوش میں پکارتا ہے کہ ”تماشا دکھا کر مداری گیا‘‘۔مسئلہ وہی سخن شناسی کا ہے‘ ورنہ مقدمہ واضح ہے۔ اس وقت بیانیہ اہم ہے‘ اسے پیش کرنے والا نہیں۔ بیانیہ پیش کرنے والا اس لیے اہم ہے کہ اس نے بیانیہ پیش کیا۔ جو بات بین السطور کہی جاتی تھی‘ انہوں نے اسے چوراہے میں کہہ دیا۔ اس کے باوصف‘ میرا کہنا یہ ہے کہ افراد اب مقدمے کے محتاج ہیں‘ یہ مقدمہ کسی کا محتاج نہیں۔ صداقت اپنے وجود پر خود گواہ ہے۔ اسے کسی گواہی کی ضرورت نہیں۔ گواہی دینے والا تو اپنے لیے بلندیٔ درجات کا سامان کرتا ہے۔آج اس بیانیے کی مخالفت میں کچھ کہنا آسان نہیں۔ اس کے مخالفین بھی یہ بات جانتے ہیں۔ اس لیے وہ حیلوں بہانوں سے کام لیتے ہیں‘ ہمارے بعض ناقدینِ مذہب کی طرح۔ وہ جانتے ہیں کہ مذہب کے مقدمہ کو غلط ثابت کرنا مشکل ہے۔ اس میں ناکامی کے بعد‘ وہ مولوی کو ہدف بناتے ہیں‘ اس لیے کہ وہی ہے جو سماج میں مذہب کا مقدمہ پیش کرتا ہے۔ مولوی کو غلط ثابت کرنے سے‘ ان کا گمان ہے کہ مذہب کا مقدمہ غلط ثابت ہو جائے گا۔ یہی حربہ اس بیانیے کے ناقدین نے اختیار کیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کی صداقت پر خود پاکستان

کی تاریخ گواہ ہے۔ اس کا رد ممکن نہیں‘ اس لیے بیانیہ پیش کرنے والے کو برا کہو‘ شاید اس سے کوئی بات بن جائے۔ اسی لیے یہ جملہ دہرایا جاتا ہے: نواز شریف خود آمریت کی پیداوار ہیں۔نواز شریف جب کہتے ہیں کہ اس ملک میں ستر بہتّر برس سے ایک کھیل کھیلا جا رہا ہے تو اس میں جنرل ضیاالحق کے دس سال بھی شامل ہیں۔ وہی دور جب نواز شریف خود ایک آمر کے حلیف تھے۔ جب وہ اس کھیل کا ذکر کرتے ہیں تو زبانِ حال سے اس عہد سے اعلانِ برات کر رہے ہوتے ہیں۔ سخن شناسی ہو تو بات کو سمجھا جا سکتا تھا مگر اب میدان میں مزید نشانیاں بھی ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ یادش بخیر اعجازالحق نواز شریف کے بڑے ناقد بن کر سامنے آ گئے ہیں۔ ضیا مرحوم کی پرانی حلیفوں کی انجمن میں ان کو غدار ثابت کر رہے ہیں۔ کیا اس کے بعد بھی نواز شریف کی سیاسی قلبِ ماہیت کی کوئی دلیل چاہیے؟بیانیے پر جب براہ راست تنقید ممکن نہ ہو سکی تو ایک اور حیلہ استعمال کیا گیا: ”یہ بیانیہ دفاعی ادارے کے خلاف ہے‘‘۔ یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ کوئی پاکستانی دفاعی ادارے کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے؟ نواز شریف صاحب نے لیکن اس باب میں بھی کوئی ابہام نہیں رہنے دیا۔ انہوں نے بتا دیا کہ برف پوش بلندیوں سے تہ سمندر تک‘ ملک کے جغرافیے کی حفاظت کرنے والے‘ بری‘ بحری اور فضائی عساکر کے جوان اور افسر انہیں بہت عزیز ہیں۔کون پاکستانی ہے جسے اپنے یہ جوان پیارے نہیں ہیں؟ ان سے محبت ہمارے ڈی این اے میں ہے۔ میجر عزیز بھٹی اور راشد منہاس ہمارے چمن کے گلِ سرسبد ہیں‘ انہیں کون بھول سکتا ہے؟ ان کے احترام کے لیے کسی قانون کی نہیں‘ صرف ضمیر کی ضرورت ہے۔ نواز شریف صاحب اس مقدمے کو لڑنے کے لیے کوئی مثالی راہنما نہ تھے۔ ان کو ابھی مزید ثبوت فراہم کرنے ہیں کہ وہ اپنے ماضی کی غلطیوں سے رجوع کر چکے۔ ابھی نون لیگ کو اپنی صفوں میں جمہوریت لانی ہے۔ انہیں ابھی بہت سے خدشات کو مخاطب بنانا ہے جو ان کی سیاست ا ور معیشت کے حوالے سے زیرِ بحث رہتے ہیں۔ اس کے باوجود‘ اس میں مجھے کوئی شبہ نہیں کہ آج وہی ہیں جنہوں نے اس ملک کو درپیش اصل مسئلے کو مخاطب بنایا ہے۔ وہ مسئلہ جس کو حل کیے بغیر سیاسی استحکام آ سکتا ہے نہ معاشی۔ وہ مثالی نہ سہی‘ لیکن کون ہے جو ان کے سوا‘ اس بیانیے کا پرچم اس جرأت کے ساتھ تھامے ہوئے ہے؟

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *