آج پاکستان بھر میں 133 سٹورز کے مالک مشہور بزنس مین کو اسکے والد نے پہلی دکان کھولتے وقت کیا گر سکھایا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ڈیٹا ثابت کرتا ہے دنیا کے تمام کام یاب لوگوں میں ایک عادت کامن ہوتی ہے اور وہ ہے اسٹارٹ‘ کام یاب لوگ اپنے آئیڈیا پر اگلے ہی دن کام اسٹارٹ کر دیتے ہیں اور کسی مخالفت اور رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتے‘

کام یاب لوگوں کی طرح ناکام لوگوں میں بھی ایک عادت کامن ہوتی ہے اور وہ ہے ’’اسٹارٹ نہ لینا‘‘ دنیا کا ہر ناکام شخص سوچتا ہی رہ جاتا ہے‘ یہ مشورے کرتا کرتا تھک جاتا ہے چناں چہ کام یابی اور ناکامی میں صرف ایک چیز کا فرق ہوتا ہے اور وہ ہے ’’اسٹارٹ‘‘ اور آپ اگر کام یاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ بھی بس اسٹارٹ کریں۔آپ نے سیرت النبیؐ کا وہ واقعہ سنا ہو گا جب ایک صحابیؓ آتا ہے اور نبی اکرمؐ سے امداد طلب کرتا ہے‘ آپؐ اس سے پوچھتے ہیں تمہارے گھر میں کیا کیا ہے؟ وہ بتاتا ہے ایک پیالہ اور ایک کمبل‘ آپؐ وہ دونوں چیزیں منگوا کر فروخت کردیتے ہیں اور آدھی رقم اسے دے کر فرماتے ہیں تم اس کا اپنے اہل خانہ کو کھانا خرید کر دے دو اور باقی رقم سے کلہاڑی خرید کر لے آئو‘ وہ اہل خانہ کو کھانا دے کر کلہاڑی خرید لاتا ہے اور آپؐ اس میں دستہ ٹھونک کر فرماتے ہیں تم اس سے جنگل سے لکڑیاں کاٹو اور بازار میں بیچو‘ اللہ تمہارے رزق میں اضافہ فرمائے گا اور اللہ نے اس کے رزق میں اضافہ بھی فرمایا‘ وہ شخص چند ہفتوں میں خوش حال ہو گیا۔سیرت کے اس واقعے کا مغز بھی ’’اسٹارٹ‘‘ تھا‘ آپؐ نے اس سے بزنس فزیبلٹی نہیں بنوائی‘ اس سے مارکیٹ سروے نہیں کرایا اور اس سے تعلیم اور ہنر کے بارے میں نہیں پوچھا‘ اسے بس فوری اسٹارٹ کا حکم دیا اور اس فوری اسٹارٹ نے اسے چند ہی دنوں میں اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا‘

ہمارے بزنس سیشنز میں لوگ اکثر گلہ کرتے ہیں ہمارے پاس کاروبار کے لیے رقم نہیں ہے اور میں ان سے کہتا ہوں کاروبار کرو گے تو ہی رقم آئے گی اور وہ ہنس کر پوچھتے ہیں ’’پھر کاروبار کرنے کا طریقہ کیا ہے‘‘ میں جواب دیتا ہوں ’’بس اسٹارٹ کرو‘‘۔آپ کو یہ بات عجیب محسوس ہو گی لیکن یہ حقیقت ہے دنیا کے ہر مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے ’’لیٹس اسٹارٹ‘‘ بس شروع کرو اور مسئلہ حل ہونا شروع ہو جاتا ہے‘ آپ پڑھنا چاہتے ہیں بس پڑھنا شروع کر دیں‘ آپ اسمارٹ ہونا چاہتے ہیں آپ بس ایکسر سائز شروع کر دیں‘ آپ ٹائم کی پابندی کرنا چاہتے ہیں آپ بس ٹائم کی پابندی شروع کر دیں۔آپ لوگوں کا احترام کرنا چاہتے ہیں آپ بس احترام شروع کر دیں‘ آپ بزنس کرنا چاہتے ہیں آپ بس بزنس شروع کر دیں اور آپ گلوکار بننا چاہتے ہیں‘ اداکاری کرنا چاہتے ہیں‘ لکھاری یا شاعر بننا چاہتے ہیں‘ صحافی یا اینکر بننا چاہتے ہیں یا پھر آپ نوکری کرنا چاہتے ہیں تو اس کا صرف ایک ہی حل ہے آپ بس شروع کر دیں‘ آپ یقین کریں آپ کا ہر آنے والا دن اور ہر اٹھنے والا قدم آپ کو منزل کے قریب لے جائے گا‘ آپ کام یابی کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے۔میری زندگی میں سیکڑوں ایسی مثالیں ہیں جن میں لوگوں نے کام شروع کیا‘ اللہ تعالیٰ ان کے کاموں میں برکت ڈالتا رہا اور وہ اپنے گول تک پہنچ گئے‘ میں نے ایک پاکستانی ڈاکٹر کی کہانی پڑھی تھی‘ وہ میڈیکل کا طالب علم تھا‘حادثہ ہوا

اور وہ زندگی بھر کے لیے مفلوج ہو گیا‘ ڈاکٹروں نے اسے بتایا تم زندگی میں دوبارہ بستر سے نہیں اٹھ سکو گے لیکن نوجوان نے یہ میڈیکل ایڈوائس ماننے سے انکار کر دیا۔وہ روز بستر پر لیٹ کر اپنی مفلوج ٹانگیں اٹھانے کی کوشش کرتا تھا اور ناکام ہو جاتا تھا لیکن اس نے کوشش نہ چھوڑی اور پھر ایک دن اس کی ایک ٹانگ میں حرکت ہوئی‘ یہ حرکت آہستہ آہستہ بڑھتی رہی یہاں تک کہ وہ بستر سے اٹھا‘ فرش پر کھڑا ہوا‘ میڈیکل کالج میں گیا‘ ایم بی بی ایس کیا‘ ڈاکٹر بنا‘ سیکڑوں لوگوں میں شفاء تقسیم کی۔ ’’تیسرا جنم‘‘ کے نام سے کتاب لکھی اور ہزاروں بے ہمت پاکستانیوں کو زندگی کا نیا راستہ دکھا دیا‘ میرے پاس ایک بزنس مین آئے‘ یہ اس وقت ملک میں 145 اسٹورز کے مالک ہیں۔انھوں نے بتایا میں کاروبار کا سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہا تھا‘ میرے والد کو پتا چلا تو وہ غلہ منڈی گئے‘ کیری ڈبے میں چینی‘ چاول اور آٹے کی بوریاں لادیں‘ ہمارا ڈرائنگ روم گلی کی طرف کھلتا تھا‘ والد نے بوریاں ڈرائنگ روم میں رکھیں‘ محلے کی مسجد میں اعلان کرایا ’’ہم نے کریانہ کی دکان کھول لی ہے‘‘ پہلا گاہک آیا‘ والد نے مجھے بلا کر اس کے سامنے کھڑا کیا اور کہا ’’لو تمہارا بزنس شروع ہو گیا‘‘ اور پھر وہ دن ہے اور یہ دن ہے‘ میں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔میری آپ سے بھی درخواست ہے آپ زندگی میں جو کچھ کرنا چاہتے ہیں آپ اس کی لمبی چوڑی پلاننگ نہ کریں‘ بس اٹھیں اور اسٹارٹ کر دیں‘ دنیا کی کوئی رکاوٹ آپ کا راستہ نہیں روک سکے گی اور یہ بھی یاد رکھیں صرف مسافر ہی منزلوں پر پہنچا کرتے ہیں اور زاد سفر کا انتظار کرنے والے پوری زندگی اپنے گھر کی دہلیز پار نہیں کر پاتے۔