آج کل عمران خان کی تقریر کوئی شخص غور سے نہیں سنتا ، لیکن مریم نواز کی تقریر کو بڑے شوق سے دیکھا جاتا ہے ،

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اپوزیشن کا جلسہ کامیاب ہو یا نہ ہو حکومتی وزراء کا ردعمل اسے ضرور کامیاب بنا دیتا ہے لگتا یہی ہے جس دن پی ڈی ایم کا جلسہ ہوتا ہے اور خاص طور پر اس میں مریم نواز بھی شریک ہوتی ہیں

تو وزراء صبح سے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں کہ جلسہ ختم ہو اور کب وہ اپنی توپوں کا رخ اپوزیشن کی طرف کر سکیں۔ فیصل آباد میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہوا تو متعدد وزراء نے اسے ناکام قرار دینے اور مریم نواز پر تنقید کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ میں سمجھتا ہوں پی ڈی ایم کی ا صل کامیابی یہی ہے کہ اس کے جلسے پر پوری حکومتی ٹیم بیک زبان ہو کر تنقید کرتی ہے۔ یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی گئی ہے اپوزیشن کی تحریک کو نظر انداز کرنا ہی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے، مگر جب جواب آں عزت کا ماحول بنا کر اپوزیشن لیڈروں کی باتوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیا جاتا ہے تو فائدہ بالآخر اپوزیشن کو ہی پہنچتا ہے کیونکہ ایک واضح محاذ آرائی کا سماں بندھ جاتا ہے۔ یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اپوزیشن والوں کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، حکومت کے نمائندوں کو بس پرانی باتیں ہی دہرانا ہوتی ہیں۔ اس لئے اس شعبے میں مقابلہ ہمیشہ اپوزیشن جیتتی ہے اور حکومت اتنی تالیاں نہیں بجوا سکتی جتنی اپوزیشن کے جلسے میں بج چکی ہوتی ہیں۔یہ بات تو ماننا پڑے گی مریم نواز کی باتوں میں طنز کے نشتر بڑے سخت ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کی تقریر سنتے ہیں۔ اب وزراء اگر ان کی باتوں کا صرف یہی جواب دیں گے کہ وہ لوٹ مار کی ماہر ہیں یا اپنے والد کا لوٹا ہوا مال بچانا چاہتی ہیں تو یہ ایک گھسا پٹا ردعمل ہوگا۔ مریم نواز کے پاس کہنے کو اس لئے بھی بہت کچھ ہے کہ

حکومت کی معاشی کارکردگی بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ فیصل آباد کا جلسہ ہوا تو اس سے چند گھنٹے پہلے ہی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں ساڑھے دس روپے فی لٹر اضافے کا نوٹیفیکشن جاری کیا۔ اس سے ایک دن پہلے بجلی کی قیمت بھی بڑھائی گئی۔ جبکہ اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا یہ اتنا بڑا ایندھن تھا۔ جو خود حکومت نے پی ڈی ایم کو فراہم کیا اس پر جب مریم نواز کو خطاب کا موقع ملا تو انہوں نے عمران خان پر چن چن کے تنقیدی وار کئے۔ انہی کی کہی باتوں کو دہرا کر جلسے کے ماحول کو خوب گرمایا۔ اب ظاہر ہے ان باتوں کا تو وزراء کے پاس کوئی جواب نہیں، ان کی ٹیپ تو انہی پرانے الزامات پر چل رہی ہے جو لوٹ مار کے حوالے سے ہر وزیر کا تکیہ کلام بنے ہوئے ہیں۔ مگر مریم نواز جب یہ کہتی ہیں پٹرول مہنگا ہو جائے تو سمجھو آپ کا وزیر اعظم چور ہے تب وہ خود سے کچھ نہیں کہہ رہی ہوتیں بلکہ عمران خان کے کہے ہوئے الفاظ دہرا رہی ہوتی ہیں اب اس محاذ پر تو وزراء مریم نواز سے نہیں جیت سکتے جب وہ نوازشریف اور موجودہ حکومت کے ادوار میں مہنگائی کا موازنہ کر رہی ہوتی ہیں اس میں تو زمین آسمان کا فرق آ چکا ہے اب اس بات کو اگر مریم نواز اچھالتی ہیں تو درحقیقت وہ عوام کے جذبات کی ترجمانی کر رہی ہوتی ہیں۔ایک اور بات جس سے غالباً حکومتی وزراء کو بہت تکلیف پہنچتی ہے وہ پی ڈی ایم کے جلسوں میں تقریر کرتے ہوئے مریم نواز کا بار بار نوازشریف کے نام کی گردان کرنا ہے۔

فیصل آباد کے جلسے میں بھی انہوں نے ہر بات کے ساتھ نوازشریف کا نام لیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا وہ جب جلسے کے لئے آ رہی تھیں تو نوازشریف کی لندن سے کال آئی اور انہوں نے کہا جلسے کے شرکاء اور چاروں صوبوں کے عوام کو میری طرف سے یہ پیغام دینا کہ عوام کے موجودہ حالات کو دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اب یہ ایک جذباتی بیان بھی ہو سکتا ہے لیکن حکومتی وزراء کے لئے اس میں ایک بہت بڑا تازیانہ چھپا ہے اس لئے انہوں نے اپنے ردعمل میں نہ صرف نوازشریف بلکہ مریم نواز پر بھی تنقید کی اور کہا یہ لوگ لوٹ کا پیسہ بچانے کے لئے سارا واویلا کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے اگر اس جلسے میں مریم نواز شریک نہ ہوتیں اور ان کی جگہ شہباز شریف یا حمزہ شہباز جاتے تو حکومت کا ردعمل اتنا شدید نہیں ہونا تھا۔بعض اخبارات (جن میں پاکستان شامل نہیں) نے حکومتی وزراء کے موقف کی ہیڈ لائن لگائی اور جلسے کو صفحہ اول پر کم جگہ دی، یہ بھی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لئے کچھ اور حربے بھی آزما رہی ہے تاہم یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ پورے سیاسی منظر نامے پر حکومت اگر کسی سیاسی شخصیت سے خوفزدہ ہے تو وہ مریم نواز ہے۔ حکومت کو مولانا فضل الرحمن کی کوئی پروا ہے اور نہ شہباز شریف کی کوئی فکر، فکر ہے تو مریم نواز کے بیانیئے کی، شاید اس لئے کہ وہ نوازشریف کا بیانیہ لے کر چل رہی ہیں۔

اگرچہ مریم نواز نے اب اپنی تقریروں میں اسٹیبلشمنٹ کا ذکر کرنا کچھ کم کر دیا ہے۔ سلیکٹرز پر تنقید میں بھی کچھ کمی آئی ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے لہجے کی سختی برقرار ہے، وہ عمران خان کی سب سے بڑی ناقد ہیں بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا ان کی تقریر کا مرکزی موضوع نوازشریف اور عمران خان کا موازنہ ہوتا ہے اور اس موازنے میں وہ نوازشریف کی معاشی کارکردگی کو موجودہ حالات کے مقابلے میں جس طرح ایک دلیل بنا کے پیش کرتی ہیں، وہ انہیں حکومت پر سبقت دلانے کا باعث بنتا ہے۔بہر حال لگتا یہی ہے آنے والے دنوں میں سیاسی محاذ آرائی میں شدت آئے گی۔ پی ڈی ایم کے جلسے جاری رہے اور ان میں حکومت پر تنقید کا ٹمپو یہی رہا جو فیصل آباد میں نظر آیا اور جواب میں وزراء نے یہی شدید ردعمل دیا تو اس محاذ آرائی کے نقوش مزید گہرے ہو جائیں گے۔ حکومت کے پاس اس سارے مسئلے کا حل اگر یہ وزراء کا ردعمل ہی ہے تو وہ شدید خوش فہمی کا شکار ہے۔ اس محاذ پر اگر حکومت اپوزیشن کو ناکام بنانا چاہتی ہے تو اسے بے لگام مہنگائی کو بریک لگانا ہو گی۔ یہ نہیں ہو سکتا عوام پر آئے روز مہنگائی کا جھٹکا گرایا جائے اور یہ توقع بھی رکھی جائے وہ حکومت کا ساتھ دیں یہ تو اپوزیشن کی غفلت ہے کہ اس نے مہنگائی کو اپنی تحریک کا ایندھن نہیں بنایا، اگر وہ مہنگائی کے خلاف جلسوں کا اعلان کر دے تو وہ لوگ بھی ان جلسوں میں آئیں گے۔ جو اپوزیشن جماعتوں سے سیاسی ہمدردی نہیں رکھتے مگر مہنگائی کے ستائے ہوئے ضرور ہیں حکومتی وزراء کو بھی چاہئے وہ اپنا بیانیہ تبدیل کریں۔ یہ آئے روز جو وہ اس بات کی گردان کرتے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی دوسرے ممالک کی نسبت آج بھی کم ہے، یہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتی ہے، حقیقت یہ ہے عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے اور وہ مدد کے لئے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

Comments are closed.