آج کی سب سے بڑی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) مجھے تو یہ بھی مریم نواز کا ایک سیاسی چھکا لگتا ہے کہ انہوں نے فوج سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔انہیں یہ پیشکش ہوئی ہے یا نہیں،اس کی تصدیق کون کرے گا؟البتہ اس ایک بات سے مریم نواز نے کئی اہداف حاصل کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ضرور کی ہے۔

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکومتی وزیروں اور مشیروں نے اُن کی اِس بات پر حسب ِ توقع اپنی توپوں کے رُخ مریم نواز کی طرف کر دیئے ہیں۔یہ سوچے بغیر کہ اُن کی باتوں سے فوج کا دفاع کر رہے ہیں یا اس خوف میں مبتلا ہیں کہ فوجی قیادت کہیں مریم نواز کی پیشکش مان ہی نہ لے۔پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ مریم نواز نے یہ بات کہہ کر کیا اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے؟جو وزراء یہ تنقید کر رہے ہیں کہ فوج کے خلاف بیانیہ کو ختم کر کے مریم نواز اب اسی سے مذاکرات کی بات کر رہی ہیں، وہ اس نکتے کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ مریم نواز نے بڑی ہوشیاری سے اس راز کو فاش کر دیا ہے کہ ملک میں سول حکومت کی نہیں، فوج کی حکمرانی ہے۔اس میں کتنی صداقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مریم نواز کو مذاکرات کی پیشکش ہوئی ہے یا نہیں؟یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے بڑی خوبصورتی سے اپنے اس بیانیہ کو نئی ترکیب سے دہرایا ہے کہ ملک میں اصل فیصلے اسٹیبلشمنٹ اور فوج کرتی  ہے۔ مریم نواز کی یہ صرف ایک سیاسی چال بھی ہو سکتی ہے،جس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حیثیت ایک کٹھ پتلی وزیراعظم کی ہے، اصل طاقتیں تو کچھ اور ہی کھیل کھیلنا چاہتی ہیں۔مذاکرات کے لئے پہلے حکومت ختم کرنے کی شرط رکھ کر گویا اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک کے دباؤ سے اسٹیبلشمنٹ مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ ہوئی ہے

اور اس کے پاس یہ طاقت اور اختیار بھی ہے کہ حکومت کو چلتا کرے۔ بظاہر یہ سب مفروضے ہیں اور کسی بھی اسٹیک ہولڈر کی طرف سے ان کی تصدیق نہیں ہوئی،لیکن مریم نواز نے اس سے ملک میں مزید بے یقینی اور بے چینی پھیلانے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔یہ شاید اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی طرف سے فوج کو اس طرح براہِ  راست سیاست میں ملوث کیا گیا ہے،حکومتوں کے خلاف تحریکیں تو پہلے بھی چلتی رہی ہیں اور پہلے بھی سیاسی تحریکوں کا مقصد یہی ہوتا تھا کہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ اور فوج مداخلت کر کے حکومت کو گھر بھیجیں اور نئے انتخابات کرائیں،مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ باقاعدہ فوج سے مذاکرات کے لئے یہ شرط رکھی گئی ہو کہ وہ پہلے منتخب حکومت کو اقتدار سے باہر کرے…… جنہوں نے مریم نواز کا انٹرویو سنا ہے، وہ جان گئے ہوں گے کہ فوج سے مذاکرات پر آمادگی کی بات کرتے ہوئے انہوں نے پہلے اپنی جماعت کا کہا، لیکن فوراً ہی انہیں احساس ہو گیا کہ تحریک اکیلی اُن کی جماعت نہیں،پی ڈی ایم چلا رہی، اس لئے اپنا جملہ انہوں نے یہ کہہ کر مکمل کیا کہ اس پیشکش پر پی ڈی ایم کے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔سوال یہ ہے کہ جب کسی مصدقہ ذرائع سے مذاکرات کی پیشکش ہی نہیں ہوئی اور یہ اختراع بھی صرف مریم نواز کی ہے تو پھر بلاول بھٹو زرداری یا مولانا فضل الرحمن اس پر غور کیوں کریں گے؟

اصولاً تو ایسی کوئی پیشکش مولانا فضل الرحمن کو ہونی چاہئے تھی، جو پی ڈی ایم کے صدر ہیں،صرف مریم نواز کے قریبی لوگوں سے اسٹیبلشمنٹ نے کیوں رابطہ کیا؟اس کا جواب کسی کے پاس نہیں، تاہم یہاں بھی مریم نواز نے بڑی مہارت سے اِس بات کو عام کیا کہ پی ڈی ایم میں کلیدی اہمیت نواز شریف اور ان کی ہے۔اب کوئی عقل کا اندھا ہی اس بات کو تسلیم کرے گا کہ اسٹیبلشمنٹ یا فوج مسلم لیگ(ن) سے مذاکرات کر سکتی ہے۔ وہ بھی اس شرط پر کہ حکومت کو ختم کیا جائے۔ آخر اسٹیبلشمنٹ یا فوج کو ایسی کیا مجبوری پڑی ہے کہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھائے اور مریم نواز کے بچھائے ہوئے جال میں آ جائے۔ نواز شریف کے سارے الزامات اور بیانیہ کو درست مان لے کہ پاکستان میں ووٹ کی کوئی عزت نہیں، حکومتیں بنانے اور گرانے میں فوج کا ہاتھ ہے۔ کیا اسٹیبلشمنٹ اس طرح علی الاعلان آئین کو پامال کر سکتی ہے۔ کیا ملک میں واقعی ایسی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے کہ ملک خطرات سے دوچار ہو گیا ہو اور آئینی ادارے مفلوج ہو گئے ہوں۔شاید مریم نواز کے تحت الشعور میں آرمی چیف کی وہی چھڑی ہے، جو ماضی میں گھمائی جا چکی، مگر وہ یہ بھول گئی ہیں کہ ماضی میں کسی آرمی چیف نے مذاکرات کی شرط پر یہ چھڑی نہیں گھمائی اور نہ حکومت کو گھر بھیجا ہے۔ حکومت کے وزراء اور ترجمانوں کو کچھ عقل کرنی چاہئے اور مریم نواز کی اس سیاسی چال کو سمجھنا چاہئے۔ مریم نواز کو مجرمہ، چور اور اسی قسم کے القابات دینے کی بجاے اس نکتے پر زور دینا چاہئے کہ حکومت آئینی بنیاد پر کھڑی ہے،مضبوط ہے اور اسے غیر آئینی طریقے سے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔جب تحریک چل رہی ہو تواس کے دوران اپوزیشن مختلف حربے اور ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے، جن کا مقصد ملک میں بے یقینی اور انتشار پھیلانا ہوتا ہے۔ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے تو ایسا کچھ نہیں کیا جا رہا، تاہم مسلم لیگ(ن) اس محاذ پر سرگرم ہے۔ اس سے پہلے بھی دیکھا گیا کہ نواز شریف نے اپنے خطاب میں نام لے کر متنازعہ باتیں کیں، جن سے پی ڈی ایم میں اختلاف پیدا ہوئے،اب اِس بات پر بھی پی ڈی ایم میں لے دے ہو گی، تاہم مریم نواز کو اس سے کوئی غرض نہیں،انہوں نے ٹھہرے پانی میں جو پتھر پھینکنا تھا، پھینک دیا۔ مقصد یہی ہے کہ فوج اور حکومت میں دراڑ پیدا کی جائے۔یہ کوشش پہلے بھی کی جا چکی ہے، مگر لگتا نہیں کہ عمران خان اور قمر جاوید باجوہ کے درمیان موجود گہری انڈر سٹیڈنگ ان کوششوں سے ختم ہو جائے۔البتہ اِس بات کو اب تسلیم کر لینا چاہئے کہ مریم نواز سیاسی میدان کی منجھی ہوئی کھلاڑی بن چکی ہیں

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *