آخر ایسا کیوں ؟ ہارون الرشید کی زبردست تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دھما چوکڑی ہے۔ مچھلی بازار ہے۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ کب تک، آخر کب تک؟ وہی بے یقینی اور مایوسی۔وہی اندیشے، وہی خطرات۔ پھر وہی سوال یہ جامہ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا مہلت ہی نہ دی فیض کبھی بخیہ گری نے

اس پارلیمانی نظام، ان وراثتی سیاسی پارٹیوں، اس جاگیردارانہ نظام، اس بد حکومتی اور بد اشرافیہ نے خلقِ خدا کو اضطراب کے سوا کیا دیا؟ لکھنے والے، کہنے والے لکھتے لکھتے، کہتے کہتے تھک گئے کہ پیوند کاری سے کام نہیں چلے گا۔ بنیادی خرابیوں کی فہرست بنانا اور اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا۔ وہ لوگ اصلاح پہ آمادہ کیسے ہوں، کردارکشی جن کی فطرتِ ثانیہ بن چکی۔ ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کچلی جاتی ہے۔ اب تو ہاتھی بھی زخمی ہیں اور دوا دارو کرنے والا کوئی نہیں۔ دو آدمی ایک دوسرے پہ چیخ چلا رہے تھے اور سرکارﷺکی موجودگی میں۔ آپﷺکا مزاج یہ تھا کہ عمر بھر کبھی ہیجان میں مبتلا ہوئے، برہم اور نہ مشتعل۔ حضرت بلال ؓکے سوانح نگار کریگ نے لکھا ہے کہ عالی مرتبت ؐپیچیدہ مسائل کا ہمیشہ آسان حل تلاش کرتے۔ یہ منظر آپؐ نے دیکھا تو فرمایا: ایک ایسا کلمہ مجھے معلوم ہے کہ اگر یہ پڑھ لیں تو تلخی تمام ہو جائے ’’اعوذ بااللہ من الشیطٰن الرجیم‘‘ بھاگتا ہوا کوئی گیا اور ان میں سے ایک کو بتایا۔ اس نے جواب دیا ’’کیا میں پاگل ہوں؟‘‘ اشتعال کا پہلا خاصہ یہ ہوتا ہے کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھن جاتی ہے۔ کان بند ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ ذہن منجمد ہو جاتا ہے۔۔صرف خوئے انتقام باقی رہتی ہے۔ ہر روز ایک اذیت ناک اطلاع۔ تازہ ترین محترمہ مریم نواز سے منسوب ایک ٹیپ کی اشاعت ہے۔ وہ کہتی سنائی دیتی ہیں: فلاں اور فلاں اخبار نے حکومت کی ایسی تیسی کردی۔ ابھی تک تردید نہیں آئی۔

ایک مریم نواز ہی پہ کیا موقوف سبھی کا حال یہی ہے۔علی امین گنڈا پور کے بیان کی بازگشت باقی ہے کہ اپوزیشن کو ترقیاتی فنڈنہیں ملیں گے۔ گنڈا پور اپنے منصب پہ براجمان رہیں گے۔ سارے محمود خاں،سارے شہریار آفریدی اور ہر قسم کے عثمان بزدار بھی۔ تحریکِ انصاف کے ایک لیڈر نے یہ کہا کہ مہنگائی وبالِ جان بن گئی۔ اکثریت کا خیال یہ ہے کہ دھڑے بندیوں نے کباڑا کر دیا۔ جی نہیں بلکہ پارٹی کی ناقص تنظیم اور بدحکومتی۔ ہزار بار خان صاحب کو بتایا گیا کہ گلاب کی جھاڑی میں کانٹ چھانٹ نہ ہو تو پھول نہیں صرف کانٹے اگتے ہیں۔سن کر نہ دیا۔ تحریکِ انصاف مختلف ہے۔ تنظیم سبھی کی ناقص ہے۔ فرق یہ ہے کہ نون لیگ میں شریف خاندان کا حکم حتمی ہوتا ہے۔چیف آف آرمی سٹاف کی توسیع کا سوال اٹھا تو خواجہ آصف لندن سے نواز شریف کا پیغام لے کر آئے کہ میاں صاحب نے حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ دو تین جزبز ہوئے، مثلاً ڈاکٹر نثار چیمہ، باقی سب مودب۔سارے محمود اور سارے ایاز ایک ہی صف میں۔ 2018ء کے الیکشن سے پہلے پیپلزپارٹی کے لیڈروں اور امیدواروں نے بلاول بھٹو سے رجوع کا سلسلہ شروع کیا تو والدِ گرامی نے اعلان کیا: کہاں جاتے ہو؟ ٹکٹ مجھے جاری کرنے ہیں۔ یہی بات خان صاحب نے کہی۔ شریف خاندا ن، مولانا فضل الرحمٰن، عبد الصمد اچکزئی اور باچا خان کے گھرانے کو تنبیہ کی ضرورت ہی نہ تھی۔ بار بار تاریخ نے خود کو دہرایا ہے۔ معاشی ترقی اگر ہوئی تو فوج کے مسلط کردہ صدارتی نظام میں۔

فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل محمد ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں۔ جمہوریت نہیں تھی، فقط جمہوریت کی آرزو تھی۔ آزادی کے آرزومند فعال طبقات برہم تھے۔ اس کے باوجود ایوب خاں کے دور میں بڑے پیمانے پر صنعت کاری ہوئی۔ تربیلا اور منگلا ایسے عظیم الشان ڈیم بنے۔ زرعی تحقیقاتی ادارے بنائے گئے۔ نئے بیجوں کا اہتمام ہوا اور زرعی پیداوار دو گنا تک بڑھ گئی۔ اقتصادی شرحِ نمو آٹھ فیصد کو جا پہنچی تھی۔ کہا جانے لگا کہ یہ ملک دوسرا جاپان یا کیلیفورنیا بن سکتا ہے۔ جرمنی، جاپان اور دوسری عالمگیر لڑائی سے متاثر دوسرے ممالک امریکہ کے مارشل پلان سے فیض یاب ہو رہے تھے۔ پاکستان کا اپنا ایک مارشل پلان تھا۔ حکومت پہ ایوب خاں کی گرفت مضبو ط تھی۔ پانچ سات وزراپر مشتمل کابینہ، جن میں ذو الفقار علی بھٹو اور وزیرِ خزانہ محمدشعیب نمایاں تھے۔ اس کے باوجود کہ پاکستان سیٹو اور سینٹو کا ممبر تھا لیکن عوامی جمہوریہ چین سے گہرے تعلقات استوار ہوئے، جس کے ثمرات ہم سمیٹ رہے ہیں۔ بار بار جیسا کہ ذکر ہوتا ہے، پی آئی اے دنیا کی بہترین فضائی کمپنیوں میں سے ایک تھی۔ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں، جس نے کتنی ہی ائیرلائنز کو سینچا اور پروان چڑھایا۔ریل منافع میں تھی اور مدتوں رہی۔ ایوب خان برطانیہ گئے تو ملکہ نے ان کا استقبال کیا۔ واشنگٹن میں صدر کینیڈی نے۔ خوش حالی کے باوجود کانٹے چبھتے رہے۔ جمہوری نظام کارفرما نہ تھا۔ بالغ رائے دہی کی بجائے ایوب خاں بلدیاتی کونسلروں کے بل پہ منتخب ہوئے۔

1964ء کے الیکشن میں، جس کا نتیجہ دو جنوری 1965ء کو سامنے آیا، ڈٹ کر انہوں نے دھاندلی کی۔ اس سے پہلے بھی ہوتی آئی تھی لیکن اب کی بار زخم گہرا تھا۔ گڑبڑ زیادہ بڑے پیمانے پر ہوئی۔ وہ بھی مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف۔ دائیں اور بائیں بازو کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں جن پر متفق تھیں۔ جن کا کردار بے داغ تھا اور وہ اپنے بھائی کی یاد دلاتی تھیں۔ آئینی سیاست کی تین چار صدیوں کا سب سے قد آور آدمی، جس پر کبھی جھوٹ، خیانت اور وعدہ خلافی کا الزام تک عائد نہ ہوا۔ جس کی دردمندی، دلیری، فراست اور جذباتی توازن کی کہانیاں تابہ ابد کہی جاتی رہیں گی۔ آزادی انسانوں کا حق ہے۔یاد نہیں پڑتا کہ امیر معاویہ یاشاید جناب عمر بن العاصؓسے عمر فاروقِ اعظم ؓنے کہا تھا: انسانوں کو ان کی ماؤں نے آزاد جنا تھا۔ کب سے تم انہیں غلام بنانے لگے۔ اصول یہ ہے کہ انسانی صلاحیت آزادی میں پنپتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ڈسپلن قائم رہے۔یہ طاقتور اور آزاد سول اداروں، پولیس، عدلیہ، شائستہ سول سروس اور اجلی ایف بی آر کے بل پہ ممکن ہے، بابائے قوم کے بعد کسی حکمران، کسی لیڈر کو جس کا ادراک نہ تھا۔ شورش پہ شورش ہوتی رہی۔ تجزیے کا دماغ کسی کو نہ تھا۔ سبھی دل کا بوجھ ہلکا کرنے والے، کتھارسز کے خوگر۔ بار بار مارشل لا۔ باربار تخریب کاری۔ پھر سے تعمیر کا آغازاور ہر تعمیر کا انجام تخریب کی ایک مہم۔ کبھی کسی کو غور کرنے کی مہلت ہی میسر نہ آئی کہ زندگی بھڑک اٹھنے اور بجھ جانے کا نہیں بلکہ سلگتے رہنے کا نام ہے۔ خرابیاں پہلے بھی تھیں۔ غیر ملکی مداخلت بھی۔ بد حکومتی اب زیادہ اور غیر ملکی سازشیں بھی ۔ مغلطات پہلے بھی۔ اب اس کے لیے ادارے قائم ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے میڈیا سیل اور ان پہ فخر کرنے والے لیڈر۔ ان لیڈروں کے لاتعداد بے مغز پیروکار۔ دھما چوکڑی ہے۔ مچھلی بازار ہے۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ کب تک، آخر کب تک؟

Comments are closed.