آخر پنجاب میں ہو کیا رہا ہے ؟ بی بی سی کی رپورٹ میں ناقابل یقین انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب میں دو برس میں چھٹے انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی نے جہاں پاکستان تحریکِ انصاف کی گورننس پر سوال اٹھایا ہے وہیں نئے آئی جی کے انتخاب پر پولیس سروس کے اندر سے بھی آوازیں اٹھی ہیں۔شعیب دستگیر کی جگہ انعام غنی کو بطور آئی جی پی مقرر کرنے کے بعد

خبروں کے مطابق لاہور پولیس کے افسران میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور انھوں نے کافی کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔نامور صحافی عابد حسین اور اعظم خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔کراچی کے سابق کیپِٹل سٹی پولیس آفیسر اور سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے وسیم احمد سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کی موجودہ صورتحال نہایت مایوس کن ہے۔’اس میں کوئی شک نہیں کہ شعیب دستگیر ایک ایماندار شہرت کے حامل افسر ہیں۔ یہ بہت افسوسناک صورتحال ہے جس کا اثر ادارے پر آئے گا اور اس سے جونئیر افسران کے مورال پر بھی اثر پڑے گا۔’وسیم احمد کا مزید کہنا تھا کہ جب تک سیاسی حکومت پولیس کے معاملات میں دخل اندازی کرتی رہے گی اور خودمختاری کو یقینی نہیں بنائے گی تو یہ ادارے کی افادیت کو متاثر کرے گا۔’کسی بھی فورس کے لیے ضروری ہے کہ میرٹ کی بنیاد پر تبادلے کیے جائیں لیکن یہاں ہمیں ایک خفیہ ایجنڈا نظر آتا ہے۔ یہ منافقت ہے کہ جب آپ سندھ کے پولیس افسران کا تبادلہ کرتے ہیں تو وفاقی حکومت کا رویہ مختلف ہوتا ہے لیکن دوسرے صوبے میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت ایک صفحے پر نظر آتی ہے۔’وسیم احمد کا کہنا تھا کہ جب ایک افسر کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا ہو کہ انھیں پروموشن نہیں دی جائے گی، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انھیں ایک بڑے عہدے یعنی سی سی پی او لاہور کے طور پر تعینات کر دیا جائے۔

سابق آئی جی پی سندھ اور سابق ڈی جی نیشنل پولیس بیورو افضل شگری نے بھی اس تبادلے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کی وجہ سے بہت منفی رد عمل سامنے آیا ہے اور دو سال میں چھ بار آئی جی تبدیل کرنے کا مطلب ہے کہ کسی کو بھی کام کرنے کا پورا موقع نہیں ملا ہے۔’افسران کی جانب سے اس فیصلے پر اتنے کھل کر ناراضگی کا اظہار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں بس، بہت ہو گیا۔ کسی بھی ادارے کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے خودمختاری کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔’افضل شگری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے یہ فیصلے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں اور انھیں چاہیے کہ وہ اصولوں کی پاسداری کریں۔اگست 2018 میں حکومت کے قیام کے بعد ڈاکٹر کلیم امام کی تعیناتی اور پھر ان کی تبدیلی سے شروع ہونے والی یہ لہر محمد طاہر، امجد جاوید سلیمی، عارف نواز خان اور شعیب دستگیر سے ہوتی ہوئی انعام غنی تک آ پہنچی ہے۔شعیب دستگیر تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران سب سے زیادہ عرصہ یعنی نو ماہ تک پنجاب پولیس کے سربراہ کے عہدے پر تعینات رہے لیکن پھر ایک افسر کی تعیناتی کا تنازع ان کی رخصتی کی ممکنہ وجہ بن گیا۔نئے تعینات ہونے والے آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ان کی پہلی ترجیح ‘رِٹ آف دی سٹیٹ’ بحال کرنا ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے کام میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے تاہم پولیس کو پالیسی دینا تو سیاسی حکومتوں کا ہی کام ہوتا ہے۔

شعیب دستگیر کو کیوں ہٹایا گیا؟ اس حوالے سے حکومت اور ہٹائے جانے والے آئی جی کے موقف میں تضادات ہیں۔یہ بات تو واضح ہے کہ شعیب دستگیر کو آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹائے جانے کے پس منظر میں لاہور کے سی سی پی او کے عہدے پر عمر شیخ کی تعیناتی کا معاملہ بھی تھا۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اس سلسلے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم کوئی افسر لگائیں اور کوئی آ کر کہے کہ یہ نہ لگائیں، یہ نہیں ہو سکتا’۔ادھر شعیب دستگیر نے بھی میڈیا کو ایک بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ان کے ایک بیان سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹائے گئے شعیب دستگیر گریڈ 22 کے افسر ہیں۔ وہ اس کمیٹی کا بھی حصہ تھے جس نے عمر شیخ کی گریڈ 20 سے 21 میں ترقی کے خلاف سخت رائے دی تھی، جس کے بعد انھیں ترقی نہ مل سکی۔شعیب دستگیر کی عمر شیخ سے حالیہ ناراضگی کی وجہ عمر شیخ کا ایک متنازع بیان بتایا جاتا ہے۔ شعیب دستگیر نے میڈیا کو بتایا کہ ’تعیناتی کے بعد لاہور کے نئے سربراہ نے اپنے ماتحت افسران کا ایک اجلاس بلایا اور اس میں کہا کہ وہ ان کی بات پر کان دھریں اور آئی جی کی کسی ہدایت پر عمل نہ کریں۔‘شعیب دستگیر کے مطابق انھوں نے اس صورتحال کے بارے میں وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم کو آگاہ کیا

اور ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا کہ لاہور پولیس کے سربراہ کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ادھر عمر شیخ نے آئی جی سے معافی مانگتے ہوئے کہا ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر ان تک پہنچایا گیا ہے۔تاہم شعیب دستگیر منگل کو اپنے دفتر نہیں آئے اور ذرائع ابلاغ کے مطابق مطالبہ کیا کہ جب تک حکومت کی طرف سے عمر شیخ کے خلاف کوئی انضباطی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی تب تک وہ کام نہیں کر سکتے۔اس صورتحال کے بعد حکومت نے شعیب دستگیر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر گریڈ 21 میں کام کرنے والے ان کے ماتحت پولیس افسر انعام غنی کو پنجاب پولیس کا نیا سربراہ مقرر کر دیا۔شعیب دستگیر کے ساتھ کام کرنے والے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق آئی جی یہ جانتے تھے کہ ’جب وہ ایسا کریں گے تو حکومت انھیں ہٹا دے گی جو ان کے لیے ایک ‘سیف ایگزٹ’ جیسا آپشن ہو گا کیونکہ اب حکومت کا ان پر اعتماد کم ہو گیا تھا۔‘پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے مختلف سابق افسران نے شعیب دستگیر کے بارے میں کہا کہ وہ بہت قابل افسر ہیں۔شعیب دستگیر کے ایک سابق انسٹرکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ’ہمیشہ جہاں بھی کام کیا بہت محنت اور دیانت داری سے کیا اور ان کے جانے سے پولیس کا مورال یقینی طور پر کم ہوگا۔‘ان کے مطابق ‘اس نوعیت کے فیصلوں سے پولیس کا اپنے افسران اور عوام کا پولیس، دونوں کا ایک دوسرے پر اعتماد کم ہوگا۔ بالخصوص پولیس میں یونیٹی آف کمانڈ بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور اس کو ٹھیس پہنچی ہے۔’

ماضی میں بلوچستان اور اسلام آباد میں آئی جی کے عہدے پر تعینات رہنے والے سابق افسر قادر حئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شعیب دستگیر کو تبدیل کرنے کا فیصلہ بہت مایوس کن تھا اور اس سے پنجاب پولیس کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا لیکن انھوں نے ساتھ ساتھ سی سی پی او عمر شیخ کی تعیناتی کی بھی حمایت کی۔’شیخ عمر بہت محنتی افسر ہیں اور لگن سے کام کرتے ہیں اور ان کے بارے میں میڈیا میں جو چل رہا ہے وہ ایسے نہیں ہیں اور انھوں نے ماضی میں بہت اچھا کام کیا ہے۔’تاہم انھوں نے اس پر مزید کہا کہ عمر شیخ کو پروموشن نہیں ملی وہ ایک علیحدہ معاملہ ہے اور ماضی میں بھی کئی اچھے افسران ایسے ہیں جنھیں پہلے پروموشن نہیں ملی تھی لیکن بعد میں مل گئی۔پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار اس خیال سے متفق نہیں ہیں کہ ان کی پولیس سربراہان سے نہیں بنتی۔ انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ماضی کے تمام پولیس سربراہان سے ان کے اچھے تعلقات رہے ہیں۔تاہم ان کے مطابق اگر کوئی افسر حکومت سے یہ کہے کہ اس کی مرضی کا افسر تعینات نہیں کیا تو یہ قبول نہیں ہے۔کیا ان تبدیلیوں کا محرک پنجاب حکومت ہے یا وفاقی حکومت؟ اس سوال کے جواب میں تجزیہ نگار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ پنجاب کی حکومت کی کارکردگی کافی غیر موثر رہی ہے۔’ماضی میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت تھی جنھیں ریاستی مشینری اور نوکرشاہی کے ساتھ کام کرنا آتا تھا تاہم پی ٹی آئی کا

معاملہ مختلف ہے۔ ان کو نہیں سمجھ آتی کہ صوبے میں کام کیسے کیا جائے اور اس کے بجائے وہ کوشش کرتے ہیں کہ وفاق سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پنجاب کے انتظامات چلائیں اور ایسا نہیں ہو سکتا۔’زاہد حسین کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کی اپنی ایک مخصوص صفت ہے اور ماضی میں بھی حکومتوں نے کوشش کی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے تبادلے کریں اور افسران کی تعیناتی کریں۔’پی ٹی آئی کی حکومت چاہتی ہے کہ اسلام آباد سے صوبے کے انتظامات چلائیں لیکن اس فیصلے کی وجہ سے حالات مزید بگڑ جائیں گے۔ پنجاب کی اپنی اسٹیبلشمنٹ ابھی بھی نواز لیگ کے بہت قریب ہے اور پی ٹی آئی اس مخمصے کا شکار ہے کہ اس کا کیا کریں۔’سابق آئی جی پی سندھ اور سابق ڈی جی نیشنل پولیس بیورو افضل شگری نے اس پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ’شاید صوبائی حکومت کہتی ہے کہ ہم سے معاملات نہیں نمٹ رہے اور اس کے بعد وفاقی حکومت اپنے فیصلے لیتی ہے۔‘ان کے مطابق ‘اپنے اختیارات کا استعمال کرنا ہو تو اس کے لیے بھی طریقہ ہوتا ہے اور اس کے لیے قواعد کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔’البتہ پولیس کے ایک سابق اعلیٰ افسر کے مطابق ان تبدیلیوں کی ذمہ داری دونوں صوبائی اور وفاق پر لاگو ہوتی ہے۔’پنجاب حکومت کی نااہلی اور وفاقی حکومت کی اپنے طور پر ناکامی ہی اس کا سبب ہے۔ پنجاب حکومت نے دو سال میں متعدد بار پولیس آئی جی اور چیف سیکریٹری تبدیل کیے، آپ اتنی تیزی سے لوگوں کو نہیں بدل سکتے۔ جبکہ وفاق میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اصلاحات لے کر آئیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔’

انعام غنی کو بطور آئی جی پنجاب تعیناتی کے بعد سب سے پہلے جس تنازعے کا سامنا کرنا پڑا وہ پولیس سروس میں ان کی مدت ملازمت اور گریڈ سے متعلق ہے۔یہ معاملہ پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی کے عہدے پر فائز طارق مسعود یاسین نے اٹھایا۔ اپنے ایک خط میں انھوں نے حکومت پنجاب کو یہ کہہ کر اپنی ٹرانسفر کی درخواست کی ہے کہ وہ اپنے سے ایک جونیئر پولیس افسر کے ماتحت کام نہیں کر سکتے۔انعام غنی کا کہنا ہے کہ طارق مسعود ان کے ‘بیچ میٹ’ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر کوئی کام نہیں کرنا چاہتا تو بہتر ہے کہ وہ ابھی چلا جائے۔’ماضی میں بھی انعام غنی کا کریئر تنازعات سے پاک نہیں رہا ہے۔ ایف آئی اے میں بطور ڈائریکٹر تعیناتی کے دوران انھیں ایک انکوائری کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا اور تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں انعام غنی کو مبینہ طور پر ہیومن ٹریفکینگ کے جرائم میں ملوث قرار دیا تھا۔ایف آئی اے کی انکوائری ٹیم نے ایک سال قبل اپنی انکوائری مکمل کر کے وزیر اعظم عمران خان کو بھیجی اور وہ بعد میں اس میں بری ہو گئے تھے۔گذشتہ سال جنوری میں ایف آئی اے کی انکوائری رپورٹ میں انعام غنی پر الزامات لگائے گئے تھے کہ انھوں نے بطور ڈائریکٹر اسلام آباد زون مبینہ طور پر ایک گروہ کی مدد کی اور ان کے جرائم کو چھپایا۔اس رپورٹ میں انعام غنی پر الزامات لگائے گئے تھے ماضی کے ان تنازعات پر انعام غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تمام الزامات سے بری ہو کر اس وقت اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور اب پنجاب پولیس کے سربراہ کے طور پر قانون کی عملداری ان کی ترجیح ہوگی۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Comments are closed.