آخر کوشش ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کی تھی ، مگر کیسے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیرت ہے حال ہی میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے مسئلے پر اعظم تارڑ پر اعتراض یہ تھا کہ وہ بے نظیر کے کیس میں مبینہ ملزمان کے وکیل ہیں۔ مگر وزیر اعلیٰ کے نام کے لئے چوہدری پرویز الٰہی

کو لانے کی کوششیں۔ ویسے تو وہ ماشاء ﷲ ڈپٹی پرائم منسٹر بھی بنائے گئے کہ 2008 کے بعد اگر یہ سب کرنا ہی تھا تو کم از کم ان سے وہ قلم ہی واپس لے لیا جاتا جو چوہدریوں کو غالباً جسٹس مولوی مشتاق نے دیا تھا، جس سے بھٹو کی تختہ دار کی سزا کے پروانے پر دستخط کئے گئے تھے۔ ایک بار چوہدری پرویز الٰہی سے میں نے پوچھا تھا کہ زرداری صاحب نے اپنی پہلی ملاقات میں کیا پیغام دیا تھا’’ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ نہیں چاہتے ہمارے بچے یہ دشمنیاں لے کر آگے جائیں، میں نے بھی اس بات کا خیر مقدم کیا ‘‘۔ بریگیڈیر ایس ایم ترمذی نے اپنی کتاب ’’پروفائل آف انٹیلی جنس‘‘ میں ایک جگہ لکھا کہ بھٹو ٹرائل کے دوران ایک پرچہ ان کے ہاتھ لگا جو امریکی سفارت خانے کو امریکہ سے بھیجا گیا تھا جس میں سزا کو یقینی بنانے پر زور تھا۔ میرا ذاتی ردعمل تھا کہ اب ہم اس مقام پر ہیں جہاں وارنٹ بھی امریکہ سے آتا ہے۔یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ بھٹو کی جان بچانے کی آخری کوشش ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کی جنہوں نے مارچ 1979ء کو 10صفحات پر مشتمل ایک خط جنرل ضیاالحق کو لکھا کہ ان کو بچانا کیوں ضروری ہے؟ اس سلسلے میں انہوں نے ترکی کا خفیہ دورہ بھی کیا اور صدر سے بھی ملے۔ چلیں اچھا ہوا ’کورونا‘ کی وجہ سے اس بار برسی کا جلسہ گڑھی خدا بخش سے پنڈی منتقل ہونے سے بچ گیا۔ یہ جگہ ایسے ہی آباد نہیں ہوئی، سیاست پنڈی سے قریب ہونے کی خبر ہے، اس قبرستان کو یہیں رہنے دیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *