آخر کیا گیم ڈالی جارہی ہے ؟ ہارون الرشید کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کپتان کی ٹیم اپنے ملک کے معروضی حالات سے کس قدر بے بہرہ ہے۔ایک قادیانی کو معاشی ٹیم کا ممبر وہ بنا نہ سکے‘حالانکہ اس میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ تھی۔ قبول اسلام کو روکنے کے لئے وہ قانون بنانے چلے ہیں۔

وہ نہیں بنا سکیں گے۔سیاست ممکنات کا کھیل ہے، شاعری نہیں۔ مذہب کی جبری تبدیلی یقینا جرم ہے۔ بنو امیّہ کا عہد یاد آتا ہے‘ جوق در جوق جب لوگ مسلمان ہونے لگے۔تعیش پسند حکمرانوں نے فیصلہ کیا کہ نومسلموں پر جزیہ نافذ رہے گا۔خلافت راشدہ میں اس کا تصور بھی کیا نہ جا سکتا۔وہ شاندار عمارتیں بناتے اوربعض خورونوش کے باب میں تقریباً دیوانے تھے۔مثلاً سلیمان بن عبد الملک چار پانچ آدمیوں کا کھانا ہڑپ کر جاتا۔ ایمان کا معاملہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے۔اگراس حال میں بھی کہ تلوار گردن جانے والی ہو‘کلمہ پڑھ لے تو اْسے مسلمان سمجھا جائے گا۔فوری طور پر ایک مسلمان کے سو فیصد حقوق اسے مل جائیں گے۔ امویوں کے جبر کا خاتمہ سیدنا عمر بن عبدالعزیزؓ نے کیا۔اوِل شاہی خاندان کی تمام جاگیریں ریاست کے حوالے کر دیں اور سب سے پہلے اپنی جاگیر۔پھر خاندان والوں کی۔اہل بیت پر اموی عہد میں تبرّا کیا جاتا۔آدمی کا دل دکھ سے بھر جاتا ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ پر بھی۔آپؓ نے ان کی تکریم اس طرح بحال کی کہ خود مدینہ منورہ پہنچے۔خود ایک ایک کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ان میں سے کسی کا سامنا ہوتا تو مؤدب کھڑے رہتے اور پوچھتے کہ کیا خدمت وہ انجام دے سکتے ہیں۔اپنے عمل سے امت کو یاد دلایا کہ زمین پر کوئی سانس لینے والا نہیں‘جس کی گردن پہ سرکارﷺ کے احسانات کا قرض نہ ہو۔ عشا کی نماز کے بعد اہل علم کو زحمت دیتے۔خود ایک عظیم فقیہہ اور عظیم الشان منتظم تھے

مگر دیر تک مشاورت کیا کرتے۔دوسروں سے زیادہ جانتے تھے کہ اب باب میں حکم کیا ہے’’و امرھم شوریٰ بینہم‘‘ اہل ایمان اپنے معاملات مشورے سے طے کرتے ہیں۔کسی نے یہ کہا:جس تیزی سے ٹیکس آپ کم کرتے جا رہے ہیں، خزانہ خالی ہو جائے گا۔قلب مومن کا جلال چمک اٹھا۔ارشاد کیا:میں یہی چاہتا ہوں کہ خزانہ خالی ہو جائے اور میں اس میں جھاڑو دے دوں۔ کم ہونے کی بجائے محصولات بڑھتے گئے‘حتیٰ کہ آخری برس سیدنا فاروق اعظمؓ کے دور میں وصول ہونے والے ٹیکس کے برابر ہو گئے۔ادا کرنے والوں کو علم تھا کہ حکمران نہیں‘یہ خلقِ خدا پہ صرف ہوں گے۔خاص طور پر افتادگان خاک پر۔اس لئے کہ ریاست پر سب سے زیادہ حق انہی کا ہوتا ہے۔ جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے بل پر پھیلا تو وہ کمال بے خبری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔انڈونیشیا میں تو کبھی کوئی اسلامی فوج اتری ہی نہیں‘پھر وہ دنیا کی سب سے بڑی مسلمان مملکت کیسے بن گئی۔اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے۔مسلمان تاجروں کے طفیل!حسنِ کردار کے طفیل۔ چین کے لئے تین ممتاز مسلمان جنرل روانہ کئے گئے۔ان میں سے دو راستے میں جان ہار گئے۔تیسرا بھی کچھ زیادہ عرصہ قیام نہ کر سکا۔اس کے باوجود چینی ترکستان میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آ گئی۔اس لئے کہ کنفیوشس کے ماننے والوں کو اسلام سے کد نہیں تھی۔نہ صرف قبول اسلام کی کچھ مزاحمت نہ کی بلکہ بعض اوقات حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔اس لئے کہ وہ بہترین شہری تھے۔ریاست کو ان سے کبھی کوئی خطرہ درپیش نہ ہوا۔

یہ چار عشرے پہلے کا معجزہ ہے کہ نیویارک کی جس بستی میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ جاتی، جرائم کم ہونے لگتے۔ تھرپارکر کے ہندو شہری‘پاکستان کے بہترین شہریوں میں سے ہیں۔ایک عشرہ ہونے کو آیا‘اتفاق سے تھر کے دور دراز دیہات میں ایک پورا دن بتانے کا موقع ملا۔اس دورے کی دو باتیں دل پر نقش ہیں۔ایک گاؤں میںپوچھا:کیا کبھی کسی حکومت نے آپ کی پروا کی؟انہوں نے کہا:ہاں!ایک آدمی تھا‘ذوالفقار علی بھٹو۔اس کے بعد پاکستانی فوج کے سوا‘کسی نے کبھی حال نہ پوچھا۔پھر ایک شخص نے دھیمی آواز میں کہا:دوسروں پر ہمیں قیاس نہ کیجیے۔ہم شریف لوگ ہیں‘ہم تھری ہیں۔ چھوت چھات کی ستائی ہندو خواتین اپنی آزاد مرضی سے مسلم نوجوانوں سے بیاہ رچاتی ہیں۔این جی او والے اس پہ چیختے کیوں ہیں۔اس لیے کہ مغرب کے مال پر پلتے ہیں۔جس کا کھاتے، اس کا گاتے ہیں۔ان کا ایجنڈہ اپنا نہیں‘دوسروں کا عطا کردہ ہے۔پاکستان کے نقطہ نظر سے وہ دنیا کو نہیں دیکھتے بلکہ مغرب کے نقطہ ء نظر سے اپنے وطن کو۔بیچارے‘احساس کمتری کے لا علاج مریض۔ پچھلے برس کافرستان جانے کا اتفاق ہوا۔دریائے چترال کے کنارے یہ ایک یادگار سفر تھا‘جس کی یادیں برقرار رہیں گی۔چترالی بہت اجلے‘سادہ اطوار اور مختلف لوگ ہیں۔سمٹتے سمٹتے کافرستان کے یونانی النسل برائے نام رہ گئے۔سکندر اعظم کی واپسی کے باوجود پوٹھوہار اور نواح میں۔پہ ان کے اجداددس برس تک حکمران رہے۔آخر کار ایک دن بھاگ اٹھے۔ اس دشوار گزار وادی میں پناہ لی، جس کا سفر آج بھی سہل نہیں۔کچھ خراسان پہنچے‘جو اب افغانستان ہے۔ان کے صوبے کو اب نورستان کہا جاتا ہے۔

وہ سب کے سب مسلمان ہو گئے۔اقلیت تادیر اکثریت پہ حکومت نہیں کیا کرتی۔اڑھائی ہزار برس پہلے وہ ہزاروں کی تعداد میں ہوں گے۔اب بھی ان کی تعداد زیادہ سے زیادہ اتنی ہی ہو گی بلکہ شاید اس سے بھی کم۔ کسی نے جبراً انہیں مسلمان نہیں کیا۔اپنے مردوں کو کھلا چھوڑ دینے والے کفر کی تاریکی سے خود نکلے۔نکلتے جا رہے ہیں۔ایک دن تاریخ کا حصہ ہو جائیں گے۔ تھرپارکر میں بھی کم ایسا ہوا ہوگا‘جب کسی احمق نے جبراً کسی خاتون کو مسلمان کیا ہو۔وفاقی حکومتایک مسودہ قانون پہ کام کر رہی ہے‘جس کے تحت قبول اسلام کو مشکل تر بنادیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی کمیٹی نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کسی مسلمان مرد سے شادی کرنے کی آرزومند بعض ہندو خواتین مسلمان ہو جاتی ہیں۔مسئلہ اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ آئن سٹائن نے کہا تھا:علم کی ایک حد ہوتی ہے مگر جہالت کی نہیں۔ خفیہ ایجنسیاں آسانی سے تعین کر سکتی ہیں کہ کیا اس باب میں جبر کارفرما ہے؟اگر ہے تو اس کا سدباب چاہیے۔قبول اسلام کو مگر مشکل کیوں بنایا جائے؟اٹھارہ سال کی شرط کیوں عائد کی جائے۔’’وَلَن تَرضَی عَنکَ الیَہْودْ وَلاَ النَّصَارَی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہْم۔‘‘ یہود اور نصاریٰٰ‘تم سے کبھی راضی نہ ہوں گے‘جب تک کہ تم ان کا مذہب اختیار نہ کر لو۔ یہ اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے‘باقی ریاست مدینہ کے علمبردار عمران خان صاحب کی مرضی۔حضورِ عالی!اسلامی ریاست دین کے باب میں غیر جانبدار نہیں ہوتی بلکہ اسلام کی دعوت دینے والی۔ کپتان کی ٹیم اپنے ملک کے معروضی حالات سے کس قدر بے بہرہ ہے۔ایک قادیانی کو معاشی ٹیم کا ممبر بنا نہ سکے‘حالانکہ اس میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ تھی۔ قبول اسلام کو روکنے کے لئے وہ قانون بنانے چلے ہیں۔وہ نہیں بنا سکیں گے۔سیاست ممکنات کا کھیل ہے، شاعری نہیں۔

Comments are closed.