آخر کیا ہورہا ہے ؟ اہم حقائق سامنے رکھ دیے گئے

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی رؤف حسن اپنے ایک خصوصی کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔آج کل کچھ لوگ پستی کے گرداب میں پھنسے نظر آ رہے ہیں۔ ان کی منزل جوں جوںان سے دور ہورہی ہے اتنی ہی تیزی سے یہ لوگ بے جان گھوڑوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔

ایک طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) خاندان کے دو گروپوں کے درمیان تقسیم اور دوسری طرف پیپلزپارٹی وینٹی لیٹر پر مشکل سے سانس لیتی ہوئی۔ یہ وہ محرکات ہیں جن کی وجہ سے چند کرائے کے سپاسی نئے سرے سے ان بے جان گھوڑوں میں زندگی ڈالنے کی سعی میں مصروف ہیں جن کے ماضی کے ادوار ملک میں رشوت اور کنبہ پروری کے فروغ کے لئے بدنام ہیں۔ ان پارٹیوں کی لیڈر شپ تو ہر صورت ان کے خاندانوں تک ہی محدود رہتی ہے لیکن اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے انہوں نے ریاستی اداروں کو مکمل تباہ کیا اور وہاں قابلیت کے برخلاف اپنے سرکردہ نوکروں کو متعین کیا تاکہ رشوت کو فروغ دینے میں ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ موجود نہ رہے۔اپنے مستقبل سے ناامید ہونے کی وجہ سے ان لوگوں نے حکومت کے ہر اچھے اقدام کو اس کی ناکامی سے تشبیہ دینا شروع کر دیا ہے۔ بعض اوقات اپوزیشن جماعتیں اس سے بھی آگے بڑھ جاتی ہیں اور ریاستی پالیسیوں اور منصوبوں پر کڑی تنقید کی جاتی ہے جو دراصل ان کے زہر آلود رویوں کی ترجمان ہے۔پنڈورا پیپرز کے انکشافات کے بعد مضحکہ خیز مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ ملک کے ایک سابق وزیراعظم کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ پنڈورا پیپرز میں سامنے آنے والے 700 کے لگ بھگ شخصیات کوفوری سزا دی جائے کیونکہ ماضی میں اسی طرز کے پانامہ پیپرز کی بنیاد پر نواز شریف کو سزا دی گئی تھی۔ میاں صاحب کو سزا دینے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ تحقیقاتی اداروں کو اپنے اثاثوں کی بیرون ملک منتقلی، غیرملکی جائیدادوں کی خریداری اور کاروبار کیلئے رقوم کی ترسیل کے ذرائع فراہم کرنے میں ناکام رہے جس کے لئے نواز شریف کو 2 برس کا عرصہ دیا گیا لیکن وہ ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور جو شواہد پیش کئے وہ بھی جھوٹ اور جعلسازی پر مبنی نکلے۔ یہاں تک کہ تین بار وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے شخص نے پارلیمنٹ کے فورم پر بھی غلط بیانی سے کام لیا۔ سزا پانے کے بعد علالت کا بہانہ بنا کر بیرون ملک علاج کے لئے جعلی میڈیکل رپورٹ جمع کرائی لیکن حقیقت میں نہ تو ان کا ابھی تک علاج شروع ہوا ہے اور نہ ہی ان کی وطن واپسی ہوئی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کو ’’کلین چٹ‘‘ دلوانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جو دیانتداری سے عاری ہے۔

Comments are closed.