آصف زرداری نے پی ڈی ایم سے بے وفائی کرکےاندر کھاتے عمران حکومت سے کیا فیور حاصل کر لی ؟

‘لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عمران یعقوب خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔واقفانِ حال‘‘ کے مطابق پیپلزپارٹی نے پنجاب میں اقتدار کا جو فارمولہ دیا تھا اس کے مطابق مسلم لیگ(ق)‘ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی مل کر بزدار سرکارکو ہٹا سکتے تھے۔ یہ فارمولہ مسلم لیگ (ن) نے رد کر دیا کیونکہ

مسلم لیگ(ن) کو پنجاب میں عثمان بزدار جیسا کمزور وزیراعلیٰ ہی سوٹ کرتا ہے تاکہ وہ اسی وزیراعلیٰ کی کمزوریوں کو بنیا د بنا کر اگلے الیکشن میں عوام کے سامنے اپنا مضبوط کیس لے کر جاسکیں۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی اقتدار میں آکر پنجاب اور خصوصاً جنوبی پنجاب میں اپنے لیے جگہ بناناچاہتی ہے۔ آصف زرداری کا خیال یہ ہے کہ پنجاب میں چھوٹے چھوٹے گروپوں اورالیکٹ ایبلز کو پیپلزپارٹی میں شامل کر کے پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو کسی حد تک بہتر کیا جا سکتا ہے جو کہ مسلم لیگ (ن) کیلئے کسی طور بھی قابل قبول نہیں‘ لہٰذا جہاں کہیں بھی موقع ملے گا یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر وار کرنے یا سبقت لے جانے سے گریز نہیں کریں گی۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانافضل الرحمن اور میاں نوازشریف دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ آصف علی زرداری پی ڈی ایم کے کندھے پر چڑھ کر نہ صرف مقتدرہ کے ساتھ اپنے معاملات بہتر کرنے میں مصروف ہیں بلکہ کسی حد تک اپنے اور اپنے ساتھیوں کیلئے نرم گوشہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔اس ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں اپنی پوزیشن کو مزید بہتر بنانے کیلئے اپنے طور پر بھی سیاسی سرگرمیاں بڑھائے گی۔ نواز شریف‘ شہبازشریف‘ مریم نواز اور حمزہ شہباز چاروں اس بات پر متفق ہیں کہ اپنی ہوم گراؤنڈ پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور ان کی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا جائے اور مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں کئے جانے والے ترقیاتی کاموں اور روز مرہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو بنیاد بنا کر عوام سے رجوع کیا جائے۔ادھرمریم نواز کی نیب میں پیشی ایک چھوٹا موٹا سیاسی ایونٹ بن گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) ان پیشیوں کو سیاسی بنا کر عوام کی نظروں میں اپنے اس بیانیے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ یہ تمام کیسز انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے بنائے گئے ہیں۔ اس پیشی کو بھی ایک طرف سیاسی ورکرز کو چارج کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے اور پیپلز پارٹی کو ایک پیغام دینے کیلئے بھی کہ اگر وہ ساتھ نہ آئے تو یہ گاڑی اس کے بغیر بھی چل نکلے گی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *