آف دی ریکارڈ باتیں سب کے سامنے آگئیں

لاہور (ویب ڈیسک) میر ظفر اللہ جمالی کھلے ڈلے اور منہ پھٹ آدمی ہوتے ہوئے کسی بھی اعتبار سے ’’سازشی‘‘ انسان نہیں تھے۔ اقتدار مگر بہت ظالم شے ہوتا ہے۔ بقول ابن انشاء یہ اورنگ زیب جیسے دیندار شخص کو بھی نماز کے علاوہ اپنا کوئی بھائی ’’نہ چھوڑنے‘‘ کو مجبور کردیتا ہے۔

نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایچی سن کالج میں گزارے وقت کی وجہ سے لاہور کے خواجہ احمد طارق رحیم جمالی صاحب کے قریب ترین دوستوں میں شامل تھے۔موصوف ایک کھلے دل والے ہیں۔شہرت اگرچہ ان کی یہ ہوچکی ہے کہ ہمہ وقت ’’ان‘‘ کے ایماء پر کوئی نہ کوئی ’’گیم‘‘ لگاتے رہتے ہیں۔خواجہ صاحب کے ’’اُکسانے‘‘ پر جمالی صاحب نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے امریکہ کی پاکستان میں سفیر نینسی پاول کو اپنے آبائی گائوں میں رات گزارنے کو مدعو کرلیا۔امریکی سفیر نے وہاں قیام کے دوران جمالی صاحب کے حلقے میں چند ترقیاتی کاموں کے لئے امداد فراہم کرنے کا اعلان بھی کردیا۔امریکی سفیر کا جمالی صاحب کے حلقے میں جانا ہر حوالے سے ایک غیر اہم اور معمول کی بات تھی۔ جنرل مشرف کو تاہم اس کی بابت شک وشبے میں مبتلا کردیا گیا۔ انہیں باور کروایا گیا کہ جمالی صاحب امریکہ سے “Direct”ہورہے ہیں۔مجھ تک یہ خبر آئی تو دل ہی دل میں جمالی صاحب کی بابت ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘والے وسوسے میں مبتلا ہوگیا۔ چند ہی روز بعد خبر آئی کہ جمالی صاحب کے برسوں پرانے دوست اور پاک فوج سے ریٹائر ہوئے ایک نیک نام افسر کو جنہیں وزیر اعظم نے اپنا مشیر بنارکھا تھا چند بے بنیاد ’’افواہوں‘‘ کی وجہ سے فارغ کردیا گیا ہے۔ میں جبلی طورپر یہ جان سکتا تھا کہ ایسے دوست کو فارغ کرتے ہوئے جمالی صاحب کے دل پر کیا گزری ہوگی۔اس فراغت کے چند روز بعد میری چودھری شجاعت حسین صاحب سے ایک سماجی تقریب میں ملاقات ہوگئی۔

میں نے رپورٹروں والی ڈھٹائی سے ان سے استفسار کیا کہ جمالی صاحب کی جگہ کس کو لانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ہجوم میں وہ خاموش رہے۔ تقریب سے نکلنے کے بعد تاہم انہوں نے مجھے کہا کہ میں اپنی گاڑی کی چابی اور موبائل فون ان کے ایک بندے کے حوالے کردوں اور ان کی گاڑی میں بیٹھ کر چودھری صاحب کے F-8والے گھر تک جائوں۔گاڑی سٹارٹ ہوتے ہی چودھری صاحب نے حیرت سے پوچھا کہ جمالی صاحب کی فراغت والی ’’خبر‘‘ مجھے کہاں سے ملی ہے۔میں یہ اصرار کرتا رہا کہ میرے پاس’’خبر‘‘ نہیں رپورٹروں والے ’’ٹیوے‘‘ ہیں۔ میرے اعتراف کے بعد البتہ چودھری صاحب نے انکشاف کیا کہ جنرل مشرف اس امر پر قائل ہوچکے ہیں کہ خواجہ احمد طارق رحیم کے توسط سے جمالی صاحب امریکی سفیر سے مسلسل رابطے میں ہیں۔انہیں ’’کمزور‘‘ کرنے کی گیم لگائی جارہی ہے۔چودھری صاحب نے مزید انکشاف یہ بھی کیا کہ انہوں نے جنرل مشرف کو سنجیدگی سے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جمالی صاحب ’’ایڈے جوگے‘‘ یعنی سازشی گیم لگانے کے قابل ہی نہیں۔جنرل مشرف مگر اپنا ذہن بناچکے تھے۔ جمالی صاحب کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا گیا۔بلوچستان سے نمودار ہوئے ایک کھلے ڈلے اور منہ پھٹ سیاست دان کی بے بنیاد شکوک وشبہات کی بنیاد پر فراغت ہماری حکمران اشرافیہ کے کھوکھلے پن کا بھرپور اظہار تھا۔جمالی صاحب کو فا رغ کرتے ہوئے کسی نے یہ یاد رکھنا بھی ضروری نہ سمجھا کہ ان کا خاندان بلوچستان کے ان معدودے چند خاندانوں میں سے ایک تھا جس نے قیام پاکستان کے لئے قائد اعظم کا دیوانہ وار ساتھ دیا تھا اور قیامِ پاکستان کے بعد وہ بلوچستان کے ’’علیحدگی پسندوں‘‘ کے خلاف توانا ترین کردار ادا کرتے رہے۔ اقتدار پر بلاشرکتِ غیرے گرفت کی ہوس ’’بادشاہوں‘‘ کو مگر اندھا اور خود غرض بنادیتی ہے۔میر ظفر اللہ جمالی اس کی زد میں آنے کے بعد اپنے انتقال تک اداس اور رنجیدہ رہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.