آف شور کمپنیاں ایسے بنتی ہیں ۔۔۔۔!!!

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری خادم حسین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اب تو یہ لکھتے وقت شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ ملک میں قومی مفاہمت لازم ہے،اور ملک کے اہم اور بنیادی مسائل پر سب کا متفق ہونا ضروری ہے۔یوں لگتا ہے یہ خلل ہے،میرے دماغ کا،

کہ یہاں سب جانتے اور سمجھتے ہیں اور جو جان بوجھ کر بھولا بن جائے،اسے کون سمجھا سکتا ہے،یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، پنجابی میں کہتے ہیں ”اک ہووے پاگل نے سمجھائے ویہڑہ، جے ویہڑہ ای ہووے پاگل سے سمجھائے کیہڑا“ یہاں تو ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں، میری پیشہ ورانہ (صحافتی) زندگی کا قریباً سارا وقت رپورٹنگ میں گذرا اسی لئے میری یہ حس اب بھی بیدار ہے، حالانکہ رپورٹنگ سے الگ کئے گئے مجھے چند سال گذر ہی گئے ہیں۔ایک بار جب محمد نواز شریف وزیراعظم تھے اور ان کا چاروں دانگ طوطی بولتا تھا تو میری حس رپورٹنگ اور بعض معلومات نے مجھے اکسایا اور میں نے خیال ظاہر کیا کہ کہیں مارشل لاء کی ”بو“ آ رہی ہے،تو میری پیار بھری سرزنش ہو گئی، اور کہا گیا، ”اب آپ مارشل لاء کو بھول جائیں“ لیکن کیا کِیا جائے یہ نحوست تھی یا واقعتا چھٹی حس اور اس اطلاع کا کمال تھا کہ وزیراعظم(سابق) محمد نواز شریف نے جو اُن دِنوں طاقتور وزیراعظم تھے۔ ایک ایسا اقدام کیا، جس کے نتیجے میں ان کو معزول ہونا پڑا اور ملک پر جنرل(ر) پرویز مشرف مسلط ہو گئے۔یہ بھی عجیب داستان ہے کہ ان کو کیسے برطرف کیا گیا،جب وہ ہوا میں تھے،اور پھر زمین پر ان کے حامیوں نے کیسا انتظام کیا،یہ سب تاریخ ہے،اور ہر بات آشکار ہو چکی۔جناب محمد نواز شریف لندن اور جناب جنرل(ر) پرویز مشرف دبئی میں ”زیر علاج“ہیں۔یہ قصہ ماضی قریب ہے اور اس کا ذکر چلتا ہی رہتا ہے،اور یہ مہینہ بھی غم تازہ کرنے والا ہے کہ کیسے

محترم پرویز مشرف نے مکا لہرا کر اپنی طاقت کا لوہا منوایا،اور پھر کیسے کراچی میں خوں بہا،جس میں ہمارے بے گناہ ساتھی بھی متاثر ہوئے۔یہی وہ مہینہ ہے جب محترمہ بے نظیر بھٹوخود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے واپس کراچی پہنچیں،اور جہاز کی سیڑھیوں سے قرآن کے سائے میں اُتریں تو ان کی آنکھوں سے مسرت کے آنسو اُبل آئے تھے، اور پھر یہ بھی اسی16اکتوبر کے دن کا معاملہ ہے جب ان کے جلوس پر اٹیکس ہوئے،اور جلوس میں شریک سینکڑوں افراد ناگہانی موت کا شکار ہوگئے۔ پھر یہ بھی تاریخ ہی ہے کہ محترمہ نے اس سانحہ عظیم کے بعد بھی اپنا سفر ملتوی نہ کیا،اور آخر کار لیاقت باغ راولپنڈی کا جلسہ ان کی قربانی کا ذریعہ بھی بن گیا۔یہ بھی تاریخ ہے کہ نہ صرف بھٹو کے مجرم بلکہ بے نظیر بھٹو کے مجرم بھی زندہ ہیں،بلکہ مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کے کیس بھی کھوہ کھاتے میں چلے گئے۔یہ وقت اور یہ مہینہ میرے لئے زبردست دباؤ اور دُکھ لے کر آیا ہے،میں بہت خوفزدہ ہوں کہ میری رپورٹنگ والی حس پھر سے مجھے کہہ رہی ہے کہ اللہ سے توبہ اور رسولؐ سے شفاعت مانگو کہ برا وقت نہ آئے، ورنہ ہم اور ہمارے سبھی راہنما کسی فکر و تدبر کے بغیر ”سازشوں“ کا شکار ہو کر خود بھی ذریعہ بنے ہوئے ہیں، معنوی اعتبار سے ان کو اپنی ذات اور اپنے مفاد کی فکر ہے، کسی کو قوم اور ملک کا غم نہیں،نام عوام اور ملک ہی کا لیا جاتا ہے،اور ایسے اقدامات جاری ہیں کہ حکومتی ناکامیوں کے

ساتھ ساتھ معاشرہ ایک بھیانک نفرت کا شکار ہو رہا ہے،ہمارے بھائی، بیٹے، سرحدوں پر قربان ہو رہے ہیں،ہمارے سپہ سالار اور ان کے ساتھی ملکی دفاع کے لئے ہمہ تن مصروف دکھائی دیتے ہیں،اس کے باوجود میں پریشان ہوں کہ معاشرے میں مایوسی اور نفرت کا سامان کر دیا گیا ہے،اور دُکھ یہ ہے کہ جن پتوں پر تکیہ تھا وہی ہَوا دے رہے ہیں۔میں اپنی افواج کے بھائیوں، بیٹوں کا بے حد احترام کرتا ہوں،میں ان کی قربانیوں کا معترف اور ان سے آگاہ ہوں، میرے اپنے عزیز فوجی ہیں،میری پھوپھی(ابو کی منہ بولی بہن) کے بیٹے بھی فوج سے ریٹائر ہوئے اور مجھے یہ فخر ہے کہ میرے ان بھائیوں نے اپنی ملازمت کے دوران اپنے والد کے نقش ِ قدم کی پیروی کی اور دیانت، امانت اور محنت کی مثال پیدا کی،ایک بھائی اللہ کو پیارا ہوا، اور اس سے بڑے ریٹائرڈ بریگیڈیئر ہیں، وہ عسکری میں رہائش پذیر ہیں،ان کا یا میرے ہم عمر میجر جنرل(ر) کا نام کسی پاناما، پنڈورا پیپرز میں نہیں،اور نہ ہی ان کے بڑے بڑے بنگلے ہیں، میں نے1965ء اور1971ء کی دونوں لڑائیوں کے دوران رپورٹنگ کے فرائض انجام دیئے اور مجھے آج بھی ان جوانوں سے محبت ہے جن سے میرا واسطہ رہا، میرے اپنے بہنوئی فوجی فرٹیلائزر سے اعلیٰ ترین عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔ یہ سب یوں لکھنا پڑا کہ جو عرض کرنے والا ہوں،اسے کوئی دوسرے معنی نہ پہنائے جا سکیں۔ میں نہیں چاہتا کہ کسی تحریر یا تقریر سے فوج اور سول سوسائٹی کے درمیان کوئی غلط فہمی جنم لے اِس لئے بہت احتیاط کے بعد بھی کچھ لکھنے

سے گریزاں ہوں۔میری خواہش اور کوشش یہی ہے کہ ہم واپس اس معاشرتی زندگی کے مطابق زندگی بسر کریں، جب بڑوں کا احترام اور چھوٹوں کی عزت ہوتی تھی،ماں، بہن سانجھے رشتے ہوتے تھے اور بیٹے کی غلطی ہو نہ ہو دوسروں کے بیٹوں سے جھگڑے پر اپنے بچے کو ڈانٹا جاتا تھا۔ یہ سب خواب وخیال ہو کر رہ گیا،اور آج میرا دِل کانپ رہا ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور ہمارے سیاست دانوں کے اعمال ہمارے سامنے آنے والے ہیں،بہت گہرے انداز اور اندرونی سطح پر ”مہربانوں“ کی ناک کے نیچے ایسے اقدام ہو رہے ہیں،جو اس ملک کو ”طویل نوعیت کی بدامنی “ میں دھکیل دیں گے مَیں تفصیل میں نہیں جا سکتا، جو لکھا ہے،متعلقہ حضرات بخوبی جانتے ہیں،عرض صرف یہ ہے کہ ذات کی نفی کر دیں،اقتدار کی ہوس ترک کر دیں کہ بالکل اسی طرح کسی کا نہیں ہوتا جیسے جوا کسی کا نہیں ہوتا۔اس ملک کی حالیہ ماضی قریب کی تاریخ میں میری نظر سے محترم حسین سہروردی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو جیسا کوئی ذہین و عظیم سیاست دان نہیں گزرا،ان کی وفات جیسے ہوئی، یہ بھی تاریخ ہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے اقتدار اور اپنے مخالفوں کے لئے لیگل پریکٹیشنر ایکٹ میں ترمیم کی اور جب ان کا مقدمہ کیس تھا تو یہی ترمیم آڑے آئی،اور پھر انہی ذوالفقار علی بھٹو نے جن پر اعتماد کر کے ان کو بااختیار بنایا، وہ ان کے ہی خلاف وعدہ معاف گواہ بنے،اب اللہ کا نام لو،عوام، آئین اور انصاف کا نام لے کر اقتدار کی لڑائی ترک کرو،ورنہ جو آرڈیننس تم جاری کر رہے ہو، یہ تمہارے لیے بڑی مصیبت بن جائیں گے ۔