آنکھوں دیکھا احوال آپ کو بہت کچھ سمجھا دے گا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پیپلز پارٹی کا ایک بہت بڑا جیالا ہے،قید و بند بھی کاٹ چکا ہے۔اُس کا کہنا تھا سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ ضرور بنیں گے، سارا ملتان اُن کے لئے دُعائیں کر رہا ہے۔باقی اکثر لوگوں کی رائے بھی یہی تھی

کہ ملتان کو ایک بار پھر سید یوسف رضا گیلانی کی بدولت اقتدار میں حصہ ملنے والا ہے۔اسے کوئی نہیں روک سکتا،کچھ دیر مجھے یہاں بیٹھ کر یوں لگا کہ منو بھائی کی بات شاید درست ثابت ہونے والی ہے کہ جس کا ملتان مضبوط ہے،اُس کا اسلام آباد مضبوط ہے۔گیلانی صاحب کا ملتان تو آج کل بہت مضبوط نظر آ رہا ہے۔مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، قوم پرست سیاسی تنظیمیں حتیٰ کہ خود تحریک انصاف والے بھی اندر سے یہی چاہتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ کا منصب ملتان کو ملے، سید یوسف رضا گیلانی کے لئے ملتانیوں کے جذبات کا اندازہ اِس بات سے لگایئے کہ جب وہ سینیٹ کا انتخاب جیتے تو شہر کے ہر کونے میں مٹھائی بانٹی گئی اب الیکشن کمیشن نے اُن کا نوٹیفکیشن روکنے کی درخواست مسترد کی تو بھنگڑے، جشن اور مٹھائی کی محفلیں سجائی گئیں۔اب تو یہ ثابت ہے کہ گیلانی صاحب کا ملتان مضبوط ہے،کیا منو بھائی کے کلیئے کی رو سے 12مارچ کو ان کا اسلام آباد بھی مضبوط ہو جائے گا،اس کا سب کو شدت سے انتظار ہے۔حکومت کی اب تک اس حوالے سے جو اضطرابی کیفیت سامنے آئی ہے،اُس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سید یوسف رضا گیلانی کا راستہ ہر قیمت پر روکنا چاہتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے تو قریبی وزراء کے اجلاس میں دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین نہیں بننے دیں گے۔اگرچہ بعد میں وزارت اطلاعات نے جو پریس ریلیز جاری کیا اُس میں اسے ”عزم کا اظہار کیا“ سے بدل دیا تاہم حقیقت وہی ہے جو سامنے آئی کہ حکومت کسی بھی طرح سید یوسف رضا گیلانی کا راستہ روکنا چاہتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.