آپ کی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد اسلم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ کالم نگار آپ کو چینی سے جڑی بھولی بسر ی پاناما کہانی سناناچاہتاہے۔ کہتے ہیں کہ جنرل مشرف کے دورعروج پر باسل سوئٹزرلینڈسے ایک معاشی غارت گر اسلام آباد پہنچا اور اس نے دعوی کیا کہ

وہ شریف خاندان کی کالی دولت کی بیرون ملک سرمایہ کاری کا مشیررہا ہے اسے چھپائے گئے 300ملین ڈالر کی تمام تفصیلات کا علم ہے اگر حکومت پاکستان آمادہ ہوجائے تو یہ رقم برآمدکرائی جاسکتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس رقم کی دوبارہ سرمایہ کاری اس کے ذریعے کی جائے جنرل مشرف کے کورگروپ نے اسے نوسربازاورفراڈیاکہہ کر گھاس نہ ڈالی اوروہ شخص واپس سوئیٹزرلینڈ چلاگیا۔اپنی کمشن کی رقم ڈوبنے پر تلملاتاوہ “سوئس ماہر سرمایہ کاری”کسی نہ کسی طرح براہ راست جنرل مشرف تک رسائی حاصل کرلیتا ہے دوبارہ اسلام آباد پہنچتاہے تو اس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف،جنرل حامد جاوید مرحوم اسے جنرل مشرف سے ملواتے ہیں لیکن غیرسنجیدہ اورنوسربازقراردیتے ہیں جنرل مشرف بڑے رسان لہجے میں کہتے ہیں کہ اس کی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں اس لیے گورنر سٹیٹ بنک کوبلا کر معاملہ ان کے سپرد کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے اور جناب عشرت حسین منظرنامے میں داخل ہوتے ہیں یہ وائٹ کالر کرائم کے ماہر عامر عزیز سے ابتدائی گفتگوکرتے ہیں جو انہیں 6ہفتوں میں تحقیقات کرکے بتاتے ہیں کہ “سوئس ماہر”بالکل درست کہتا ہے اوراس طرح جناب عشرت حسین معالہ ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی سفارش کرتے ہیں اورسٹیج پر واجد ضیا نمودار ہوتے ہیں ۔ جنرل مشرف کو وکلا تحریک کے نتیجے میں گھر جانا پڑتا ہے 2013 کے عام انتخابات کے بعد نوازشریف تیسری مرتبہ طاقتور وزیراعظم بن نمودار ہوتے ہیں اور تقدیر مسکراتی ہے اور پھر پاناما دھماکہ ہوتا ہے قدرت کاملہ ایسے اسباب پیداکرتی ہے کہ

حسین نواز، مریم نواز کے متضاد اور طوطے کی طرح رٹائے انٹرویوز جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں تو وزیراعظم نواز شریف کی ایوان میں تقریر اور دیگر بیانات لطیفہ گوئی اور مزاحیہ سٹیج ڈراموں کی نذر ہو جاتے ہیں جس سے سیاست میں منفرد کردار ادا کرنے والے کڑاکے کڈ دیاں فیم مشاہد حسین سب سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں بار بار فرماتے ہیں …؎رب ناں ڈانگیں مار دا۔۔مت کوّلی دیندا پا۔۔۔اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ‘‘اللہ تعالی لاٹھیوں کے ساتھ کسی کو نہیں مارتا بلکہ اس کی عقل میں فتور پیدا کردیتا ہے’’قہقہے لگاتے اس کالم نگار کو بتاتے کہ کیسے ہمیں ظالم مشرف کی قید میں چھوڑ کر سارے خاندان کو باورچیوں کے طائفہ سمیت نواز شریف کمانڈو جرنیل سے معافی تلافی کرکے جدہ فرار ہو گئے تھے تقدیر اس وقت بھی مسکرا رہی تھی کہ ابھی مشاہد حسین سید نے مریم بی بی کو چکر دے کر ‘‘ووٹ کو عزت دو ‘‘ کا نعرہ ایجاد کرکے رفو چکر ہونا تھا ۔16 ویں کامن گروپ سے تعلق رکھنے والے واجد ضیا کا سٹاف کالج کا ساتھی فواد حسن فوادنوازشریف کاکارخاص اورپرنسپل سیکریٹری نوازشریف کو یقین دلاتاہے کہ وہ واجد ضیا کو ہینڈل کرلے گا لیکن راست گو اورمسلمہ دیانتدارواجد ضیا کوموصوف سمجھ نہ پائے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر جناب عشرت حسین ورلڈاکنامک فورم ڈیوس ،سوئٹزرلینڈ میں اس کالم نگار کے ساتھ رہے ہیں کل انہیں فون پر واجد ضیا اور تحقیقاتی پاناماسکینڈل کی تفصیلات بارے گپ شپ کی توانہیں نے کہا کہ 15برس پرانی بات ہے مجھے اب کچھ یاد نہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *