آپ کی سیاست اور ایماندار ی ہمارے کس کام کی ۔۔۔۔؟؟؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ خلائی مخلوق سے شروع ہونے والی سیاست جنات سے ہوتی ہوئی جنتر منتر اور طوطا فال تک پہنچ گئی ہے۔ ہماری سیاست بھی عجیب ہے کبھی یہاں فتوؤں کا دور تھا۔ فتوے کو پہلی مرتبہ شہرت ایوبی دور میں حاصل ہوئی۔

وقت کے حکمران کے خلاف مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ الیکشن لڑرہی تھیں، ایوب خان نے اپنے سب سے تیکھے وزیر کی ڈیوٹی لگائی کہ عورت کی حکمرانی کے خلاف فتویٰ حاصل کیا جائے۔ یہ وزیر بعد میں ایک بڑی پارٹی کا بڑا لیڈر بنا۔ اس وزیر بہادر نے ایک بڑے مولانا کے والد سے فتویٰ حاصل کیا۔ یہ دونوں مولانا بھی قومی سیاست کا حصہ رہے۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ پھر محترمہ بےنظیر بھٹو کے خلاف یہی فتوے کسی اور جماعت نے حاصل کئے۔ اس سے بھی بڑا ستم یہ ہوا کہ اب اس جماعت میں بھی ایک عورت بڑی رہنما بن گئی ہے۔دست شناسی کا دور بھی تھا، ستر کی دہائی میں یہ سلسلہ عام تھا، اس کا رواج 80ء کی دہائی تک رہا۔ 90ء کی دہائی میں بات اس سے بھی آگے نکل گئی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ محترمہ بےنظیر بھٹو اور میاں نواز شریف دونوں ہی مانسہرہ کے قریب بابا دھنکا کے پاس جاتے تھے، بابا دھنکا چھڑیاں رسید کیا کرتے تھے۔ وہ کمر پر چھڑی رسید کرتے، اگر دو چھڑیاں پڑتیں تو مطلب یہ لیا جاتا کہ حکومت دو سال کے لئے ملے گی اور اگر چھڑیاں تین مرتبہ لگتیں تو یہ مطلب لیا جاتا کہ اب حکومت کو تین سال ملیں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ دور آیا کہ بڑے لیڈر الیکشن مہم کا آغاز کسی بڑی روحانی درگاہ سے کرنے لگے۔ پرویز مشرف کی آمریت کے دوران ہمارے لیڈر بیرون ملک بیٹھ کر حساب کتاب لگوایا کرتے تھے۔ یہاں کالے بکروں کے صدقے کا بھی رواج رہا۔

آصف علی زرداری اقتدار میں آئے تو ایک دھوتی پوش روحانی شخصیت ان کے دائیں بائیں رہتی تھی۔ میاں نواز شریف حکومت میں آئے تو وہ بھی ایک بہت پڑھے لکھے روحانی آدمی سے مشاورت کرتے تھے۔ عمران خان کا دور آیا تو بات گھر تک پہنچ گئی۔ مخالفین آئے روز اُن کی اہلیہ سے متعلق نئی نئی باتیں سناتے ہیں، کبھی ٹونے کی بات کرتے ہیں تو کبھی موکلوں کےساتھ جنتر منتر اور طوطا فال کا تذکرہ کرتے ہیں، مولانا نے تو بات جنات تک پہنچا دی ہے۔ مسلم لیگ ن سے متعلق پی ٹی آئی کے لوگ یہ باتیں کرتے ہیں کہ مریم نواز کے ہاتھ میں ایک لمبا سا گلاس کون سے جنتر منتر کی کہانی ہے؟ ویسے پچھلے دور میں شریف فیملی کے قریبی کسی فرد نے ڈھاکہ کے ریجینسی ہوٹل میں ماہر عاملوں سے ملاقات کی تھی، بعد میں مبینہ طور پر یہ وزیراعظم ہائوس میں بھی آئے تھے۔ بنگالی بابا کی باتیں بھی پھر کسی دن۔ان سب قصے کہانیوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو تب بھی پاکستانی سیاست میں پیروں کا داخلہ بند نہیں ہو سکتا۔ ہر جماعت میں سے بہت سے گدی نشین الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ سارا کھیل پاکستانی اشرافیہ کے لئے سجایا جاتا ہے۔ عوام بےچارے بےقصور ہیں۔ پچھلے پینتیس، چالیس برسوں سے ویسے ہی اس ملک پر گویا آسیب کا سایہ ہے۔ ان برسوں میں تعلیم اور صحت سمیت بہت سے شعبے برباد کر دیے گئے۔ لوگوں کی زندگیوں میں بتدریج مشکلات آتی گئیں اور اب حالت ناگفتہ بہ ہے۔ اس سارے نظام کی تباہی میں انہی لوگوں کا دخل ہے جو فتوے حاصل کرتے ہیں، ٹونوں یا جنتر منتر کا سہارا لیتے ہیں، پاکستانی لوگ تو پاکستان سے محبت کرتے ہیں، وہ اپنے ملک کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں مگر ترقی کے رستے میں یہی اہلِ سیاست حائل ہیں۔ انہوں نے زندگی کے دوسرے شعبوں کے اہم افراد کو بھی ساتھ ملا لیا ہے۔ پاکستانی معاشرہ ایسی سیاست نہیں چاہتا بلکہ وہ تو خدمت کی سیاست چاہتا ہے، ترقی چاہتا ہے، ملکی معاشی حالت میں بہتری چاہتا ہے، توڑ پھوڑ کی سیاست کسی کی خواہش نہیں۔ پینتیس، چالیس برسوں سے حکمرانی کرنے والوں سے ایک ہی سوال ہے کہ کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ لوگوں کو صحت، تعلیم، انصاف، خوراک اور چھت مہیا کرے۔ کیا پاکستانی ریاست میں یہ سب کچھ دستیاب ہے؟ اگر یہ سب کچھ نہیں تو پھر یہ سیاست کس کام کی۔