آگے سے کیا جواب ملا ؟ حیران کن رپورٹ

سیول (ویب ڈیسک) شمالی کوریا عالمی ادارہ صحت کے تمباکو کنٹرول کے معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ اس نے سنہ 2005 میں اس پر دستخط کیا۔ اس وقت سے شمالی کوریا میں تمباکو کے خلاف مہم چل رہی ہے۔تمباکو کنٹرول ایکٹ کے تحت تمباکو کی مصنوعات کی پیکنگ پر انتباہات شائع کیے جاتے ہیں

اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کی ممانعت ہے۔ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔کے سی این اے کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2019 میں تمباکو نوشی کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے ایک جامع مہم شروع کی گئی ہے۔کورین سنٹرل ٹیلی ویژن پر ان لوگوں کو بے شرم کہا گیا جو صبح یا شام سگریٹ پیتے ہیں۔رواں سال تمباکو نوشی کے خلاف ایک ویب سائٹ شروع کی گئی ہے۔ پروپیگنڈا چلانے والی ویب سائٹ ایریرانگ میاری کے مطابق ‘تمباکو نوشی کے خلاف مہم میں سائنس اور ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرتی ہے۔’لیکن ملک کے رہنما کِم جونگ خود بہت زیادہ سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ وہ اکثر ہاتھ میں سگریٹ تھامے دیکھے جاتے ہیں۔ چاہے کسی میزائل ٹیسٹ کا معائنہ ہو یا بچوں کے کیمپ کا دورہ ہو ان کے ہاتھ میں سگریٹ نظر آتا ہے۔سنہ 2019 میں جب وہ ٹرین سے امریکی صدر سے ملاقات کے لیے ویت نام گئے تو وقفے کے دوران انھیں سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان کی بہن کم یو جونگ ان کے لیے ایش ٹرے کے ساتھ دیکھی گئیں۔کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق کم کی اہلیہ رِی سُول جُو نے ان سے سگریٹ ترک کرنے کی گزاررش کی ہے لیکن وہ سنتے نہیں۔ کیا یہ سچ ہے کہ شمالی کوریا میں خواتین تمباکو نوشی نہیں کرتی ہیں؟گذشتہ کئی سالوں کے دوران شمالی کوریا میں تمباکو نوشی کی شرح زیادہ رہی ہے لیکن حالیہ برسوں میں اس میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ سنہ 2019 کی عالمی ادارہ صحت

کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں پندرہ سال سے زیادہ عمر کے 46.1 فیصد مرد سگریٹ پیتے ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق یہاں کوئی عورت تمباکو نوشی نہیں کرتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ شمالی کوریا کے معاشرے میں تمباکو نوشی کرنے والی خواتین کو برا سمجھا جاتا ہے۔شمالی کوریا میں کام کرنے والی ایک امریکی غیر سرکاری تنظیم کوریاناکنیکٹ کی جیمز بینفل نے بی بی سی مانیٹرنگ کو بتایا: ‘شمالی کوریا میں خواتین کے لیے سگریٹ نوشی پر ثقافتی اور معاشرتی طور پر پابندی ہے۔ کچھ شادی شدہ خواتین یا عمر رسیدہ خواتین نجی طور پر سگریٹ پیتی ہیں۔’این کے نیوز کے صحافی من چاو چو کا کہنا ہے کہ ‘شمالی کوریا میں مردوں میں ہی تمباکو نوشی زیادہ عام ہے۔ شمالی کوریا کے مردوں کی سماجی، کام کی جگہ یا فوجی زندگی میں سگریٹ نوشی کا ایک اہم کردار ہے۔ تمباکو نوشی کی عادت والے مرد کو ثقافتی طور پر سماج میں قبول کیا جاتا ہے۔’سچ تو یہ ہے کہ سرکاری میڈیا کے اشتہاروں میں بھی خواتین ہی مردوں کو سگریٹ نوشی چھوڑنے کی ترغیب دیتی نظر آتی ہیں۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ شمالی کوریا میں تمباکو نوشی لوگوں کو بڑے پیمانے پر ہلاک کررہی ہے۔ٹوباکا ایٹلس کے اعدادوشمار کے مطابق شمالی کوریا میں ہر سال تمباکو کے استعمال سے وابستہ امراض کی وجہ سے 71 ہزار سے زیادہ افراد انتقال کر جاتے ہیں۔جبکہ تقریبا اتنی ہی آبادی والے ملک آسٹریلیا میں ہر سال تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے 25 ہزار افراد کی موت ہوتی ہے۔ہارورڈ میڈیکل سکول میں

کورین ہیلتھ پالیسی پروجیکٹ کے ڈائریکٹر کیبی پارک کا کہنا ہے کہ ‘سنہ 2009 میں 52.3 فیصد مردوں نے تمباکو نوشی کی تھی اور اب یہ تعداد 46.1 فیصد ہے۔ میں گذشتہ 13 برسوں میں شمالی کوریا میں بیس سے زیادہ مرتبہ گیا ہوں۔ پیانگ یونگ میں سگریٹ پینے والے لوگ پہلے کی نسبت اب کم دکھائی دیتے ہیں۔ خاص کر نوجوانوں میں سگریٹ پینے والوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔’شمالی کوریا میں سگریٹ آسانی سے دستیاب اور سستی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا پیغام واضح نہیں ہے۔من چاو چو کا کہنا ہے کہ ‘بہت سے دوسرے ممالک کی طرح شمالی کوریا بھی خود کو ایک جدید قوم کے طور پر پیش کرتا ہے جس میں صحت سے متعلق کچھ نئی پالیسیاں ہیں جیسے تمباکو نوشی کو روکنے کے لیے۔ لیکن حکومت کی توقعات اور سچائی میں بہت زیادہ فرق ہے جسے ملک کی تمباکو نوشی مخالف پالیسیوں اور سگریٹ نوشی کی پھلتی پھولتی ثقافت میں دیکھا جاسکتا ہے۔کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ لوگوں کو سگریٹ پینے سے روکنے کے لیے سخت رکاوٹوں کی ضرورت ہوگی۔بینفل کہتے ہیں: ‘شاید تمباکو نوشی مخالف مہموں کا ہدف لوگوں کو خاص مقامات پر سگریٹ پینے سے روکنا ہے۔ شمالی کوریا کے لوگ صرف اپنی قوت ارادی پر ہی سگریٹ چھوڑ سکتے ہیں۔’لیکن ذرا سوچیے کہ اگر کم جونگ ان سگریٹ پینا چھوڑ دیں تو لوگوں کو کتنا زبردست پیغام پہنچے گا۔ تاہم فی الحال کم کے سگریٹ چھوڑنے کے بارے میں کچھ بھی یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *