ابھی تو فوجی چائنا کے تھے ، اگر اصلی ہوتے تو ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ابھی پچھلی اتوار کو شیخو سے ملنے گیا، آدھا کلو یخنی پی کر، ماسک ٹھوڑی پر ٹکائے سگار پیتے شیخو کو باتوں باتوں میں جب یہ لطیفہ سنایا کہ جب چار پٹھان جنازہ اٹھائے تیزی تیزی میں قبروں کے اوپر

چلنے لگے تو کسی نے کہا، بھائی کچھ خیال کرو، نیچے قبریں، مردے ہیں، ایک پٹھان بولا، ہم نے اوپر کون سا ورلڈ کپ اٹھایا ہوا ہے۔ یہ سن کر شیخو تلخ لہجے میں بولا، شرم کرو، کبھی تو کپتان کی بدتعریفی سے پرہیز کر لیا کرو۔میں نے کہا، محترم، اس لطیفے میں کپتان کہاں سے آگیا، شیخو بولا، مجھے بچہ سمجھتے ہو، ورلڈ کپ کس نے جیتا تھا، تم نے اس لطیفے میں یہ بتایا کہ جس نے ورلڈ کپ اٹھایا، اب وہ تبدیلی کا مردہ اٹھائے پھر رہا، میں نے کہا، میرے بھائی، لطیفے کو کہاں سے کہاں ملا دیا، اس ’دور اندیشی‘ پر مبارکباد قبول کریں، مگر یقین کرو، جو کچھ آپ فرما رہے، میرے وہم و گمان میں بھی نہیں، اس سے پہلے شیخو میری بات کا جواب دیتا، میں نے کہا، چھوڑیں یہ جلی کٹی باتیں، آپ چین سے ہو کر آئے کچھ وہاں کی سنائیں، میرا یہ کہنا تھا کہ شیخو کا ایک دم موڈ بدلا، چہرے پر رونق آئی، خوشگوار لہجے میں بولا، چین کی کیا بات، جو پھینٹی بھارت کو لگا چکا، دل خوش کر دیا، نریند رمودی کو سرنڈر مودی بنا دیا۔ابھی تو فوجی چائنہ کے تھے، اگر اصلی ہوتے تو بھارت کو لگ پتا جاتا، میں نے کہا، کیا مطلب، سمجھا نہیں، میری بات نظر انداز کرتے ہوئے شیخو نے کہا، مجھے تو چینی قیادت کا یہ وژن بہت پسند آیا کہ بھارتی فوجیوں کی سرحدی خلاف ورزیوں کی مذمت نہیں بلکہ ان کی مرمت کرنی ہے، شیخو کی یہ بات میرے دل کو بھی لگی کیونکہ لاتوں کے بھوت، باتوں سے نہیں مانتے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.