اب جناب کپتان کیا چال چلیں گے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائی برڈ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بدعنوانی کے خلاف اپنی لڑائی جاری رہے گی اور عمران خان اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے لیکن جب جہانگیر ترین کا معاملہ آتا ہے تو سب اصول دھرے کے

دھرے رہ جاتے ہیں۔ جہانگیر ترین پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ شاید وزیراعظم عمران خان کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ ان کا احتساب کا بیانیہ ناکام ہو چکا ہے اور اسی لئے وہ اوپر تلے ضمنی انتخابات میں شکست کا سامنا کر رہے ہیں۔لہٰذا انہوں نے اپنے بیانیے کی عزت بچانے کیلئے راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں کچھ سرکاری افسران کو قربانی کا بکرا بنایا ہے۔ خان صاحب بھول رہے ہیں کہ احتساب کے نام پر انتقام کے بیانیے پر زیادہ عرصہ تک ووٹ نہیں مل سکتے۔ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روک کر بدعنوانی کے خلاف لڑائی جیت لی ہے حالانکہ اس معاملے میں حکومت شہباز شریف سے ڈری ڈری اور سہمی سہمی سی نظر آتی ہے۔فرض کریں کہ شہباز شریف چلے جاتے اور پھر نواز شریف کی طرح واپس نہ آتے تو حکومت کو نقصان نہیں فائدہ ہوتا۔شہباز شریف کو روک کر حکومت نقصان میں نظر آتی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کے خلاف حکومت کا انتقامی رویہ پاکستان میں داخلی انتشار پھیلا رہا ہے اور دوسری طرف خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پاکستان کیلئے خارجی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔حکومت اور کچھ نہیں تو انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنا کر عالمی سطح پر پاکستان کو ’’قابلِ دفاع‘‘ بنا سکتی ہے لیکن اس ہائی برڈ حکومت کے دور میں جاوید لطیف اور علی وزیر کو محض اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اس کیا سمجھا جانا چاہیے ؟

Comments are closed.