اب صرف ایک شخص انکی تلاش میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ۔۔۔۔

پشاور (ویب ڈیسک) نامور خاتون صحافی منزہ انوار کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کوہ پیماؤں کی تلاش اور ریسکیو کے لیے ورچوئل بیس کیمپ میں علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ کے علاوہ ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز امتیاز، اکبر، فضل علی اور

جلال بھی موجود ہیں جو سخت تھکن اور مشکلات کے باوجود تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے تھے۔لیکن ان میں سے صرف ساجد سد پارہ ہی ایکلیمٹائزڈ ہیں۔عمران کہتے ہیں کہ ابھی تک جو ہیلی کاپٹر مشن ناکام لوٹے ہیں ان کا یہی مطلب ہے کہ وہ 7000 میٹر سے اوپر موجود ہیں اور اس کے لیے گراؤنڈ سرچ ہی ایک آپشن ہے اور وہاں وہی جائے گا جو ایکلیمٹائزڈ ہو گا اور وہ صرف ساجد یا وہ نیپالی شرپا ہیں جو دسمبر سے وہاں موجود ہیں اور انھوں نے سات سات سمٹ کر رکھے ہیں۔عمران کہتے ہیں شمشال کے بلند پہاڑوں میں پیدا ہونے والے یہ سارے پورٹرز اگرچہ انتہائی تجربہ کار ہیں لیکن چونکہ وہ ایکلیمٹائزڈ نہیں ہیں اس لیے وہ کیمپ تھری (7350) تک ہی پہنچ پائیں گے اور اس سے آگے ان کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر تو ان تینوں کا سراغ (سپاٹ ہو گئے) مل گیا تو اس کے بعد پتا چلے گا وہ کس بلندی پر ہیں لیکن اس سب کے باوجود ’8000 میٹر سے نیچے تو کسی جسم کو نیچے نہیں لایا جا سکتا۔‘عمران کہتے ہیں کہ ’ٹھیک ہے معجزے بھی ہوتے ہیں لیکن اگر آپ سائنسی طورپر دیکھیں تو 8000 میٹر سے اوپر کوئی بھی 90 گھنٹوں سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکا۔‘یاد رہے نیپال کے پیمبا گلجئین شرپا سنہ 2008 میں دو کوہ پیماؤں کو بچانے کے لیے 90 گھنٹے تک کے ٹو کے ڈیتھ زون میں رہے تھے۔عمران کے مطابق ’نیپالی شرپاؤں کا ہیموگلبن عام انسانوں سے بہت زیادہ ہوتا ہے لہذا سب سے بہتر صورتحال تو یہی ہو گی

کہ وہاں پہلے سے بہترین انداز میں ایکلیمٹائزڈ اور تجربہ کار نیپالی شرپا جو اوپر سے نیچے آئے ہیں انھیں تلاش کرنے کے لیے بھیجا جائے۔‘لیکن وہ کہتے ہیں ’یہ نیپالی شرپا جو خود بنا سمٹ کیے اپنی جان بچا کر نیچے آئے ہیں تو وہ کسی اور کو بچانے یا ریسکیو کرنے کیوں جائیں گے۔‘ان کے مطابق ابھی کوئی سراغ نہ ملنے کی صورت میں امکان یہی ہے کہ جون میں سمٹ کرنے کے لیے آنے والوں کو ان تینوں لاپتہ کوہ پیماؤں کا کوئی نشان مل سکے۔اصغر علی کے مطابق اس بات کا فیصلہ کوہ پیماؤں کے خاندان اور بیس کیمپ میں ان کی ٹیم کے سینئیر ممبران مل کر ہی کرتے ہیں کہ کب تک سرچ اینڈ ریسکیو مشن کو جاری رکھا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوہ پیما برف کے نیچے دبا ہو اور کسی صورت اس کے مقام کا اندازہ نہ لگایا جا سکتا ہو تو ایسے میں صرف گرمیاں اور برف کا طوفان آنے کا انتظار ہی کیا جا سکتا ہے جس کے دوران ان کی جسم کے نظر آنے کا امکان ہوتا ہے۔ریسکیو اور سرچ مشن میں فوج کے کردار کے حوالے سے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’آج موسم خراب تھا لیکن پچھلے 72 گھنٹوں میں پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں نے روزانہ کی بنیاد پر لاپتہ کوہ پیماؤں کا سراغ لگانے کی کوشش کی ہے اور انھیں پاکستانی فوج کی جانب سے ہر قسم کے وسائل اور مدد فراہم کی جا رہی ہے۔‘وینیسا او برائن کی جانب سے جاری کی گئی پریس

ریلیز میں لاپتہ کوہ پیماؤں کے اہلِ خانہ نے پاکستانی حکومت اور فوج سے ریسکیو مشن جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ اس حوالے سے آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ریسکیو مشن ان کا سراغ ملنے تک جاری رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ان لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے پاکستانی فوج تمام وسائل (جن میں ہر قسم کے جدید آلات بھی شامل ہیں) بروِئے کار لائے گی۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سکرود میں موجود علی سد پارہ کے چھوٹے بیٹے مظاہر حسین سدپارہ کا کہنا تھا کہ انھیں پوری امید ہے کہ ان کے والد زخمی ہوں گے اور ریسکیو کا انتظار کر رہے ہوں گے۔مظاہر کا کہنا تھا کہ ’والدہ کو بھی ہم نے پُرامید رکھا ہوا ہے کہ والد لوٹ آئیں گے۔‘یاد رہے محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے والد اور ساتھی کوہ پیماؤں کی تلاش اور بچاؤ کی مہم کو اب ان کی میتوں کی تلاش کی مہم کے طور پر جاری رکھنا چاہیے۔عمران حیدر کہتے ہیں کہ کے ٹو پہاڑ کا وحشی پن اور اس کے موسم کی سختیاں جھیلنے کے چیلنجز اپنی جگہ لیکن کم از کم انسانی کاوشوں میں موجود کمیوں کو تو دُور کیا جانا چاہییے تاکہ پاکستان میں ماؤنٹینیئرنگ پروفیشنل انداز میں آگے بڑھ سکے۔وہ کہتے ہیں کہ سالہا سال سے کے ٹو پر جو مُہمات آتی رہی ہیں اور اس وجہ سے پہاڑ پر جو ماؤنٹینیئرنگ کے سامان کے ہارڈ ویئر کا سالڈ ویسٹ یعنی رسیاں، آکسیجن کے کنستر اور ٹُوٹے خیمے وغیرہ اُس کے لیے ایک سپیشل کلین اپ مُہم جُوئی ہونی چاہیے اور والینٹیئر کلائمبرز کو لے کر ہر کیمپ سائیٹ پر کلین اپ ہونا چاہیے۔’نیپال میں ماؤنٹ ایورسٹ پر یہ کام ہر سال ہوتا ہے تو کے ٹو پر کم از کم ہر پانچ سال بعد تو ہونا چاہیے۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *