اب پاکستا ن کو کس طرح سے قربانی کا بکرا بنایا جانیوالا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔عالم یہ کہ متحدہ مجلس عمل یا بعد ازاں اے این پی نہیں، سوات پہ تالبان کی حکومت تھی۔ صوفی محمد سے نفاذ شریعت کا معاہدہ ہوا مگر وہ مکر گئے۔ ایک ٹی وی مذاکرے میںتالبان کے کمانڈر محمد مسلم نے اس اخبار نویس سے کہا

:سود خور بینکوں، پارلیمان اور آئین کو ہم نہیں مانتے۔ سمجھانے کی کوشش کہ سود کی ممانعت کے سخت احکام کے باوجود، اللہ کے آخری رسولؐ نے نفاذ میں تاخیر فرمائی، حتیٰ کہ عربوں کو صدقات کا عادی بنا دیا۔ یہ حجۃ الوداع تھا، جب آپؐ نے ارشاد فرمایا:جاہلیت کے سب زمانے میرے قدموں تلے پامال ہیں۔ آج سے میں سارے سود باطل قرار دیتا ہوں۔ نیم خواندہ کمانڈر کی ذہنی کیفیت مگر دوسری تھی، جیسی آج کل حضرت مولانا عبدالعزیز کی۔ اپنے مدرسے پر انہوں نے تالبان کا پرچم لہرایا۔ پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو ارشاد کیا: پاکستانی تالبان تم سے نمٹ لیں گے۔ شیخ رشید کا کہنا یہ ہے:ہم ان کے ساتھ بات چیت کیا کرتے ہیں… خوف زدہ حکومت۔ریاست نہیں، پاکستان ایک نیم ریاست ہے۔ نیوزی لینڈ ٹیم کی اچانک واپسی ظاہر ہے کہ الگ تھلگ کوئی واقعہ نہیں۔ برطانیہ بھی مکر گیا اور فروری کا وعدہ کرنے والا آسٹریلیا بھی مکر جائے گا۔ افغانستان سے بے آبرو ہو کر نکلنے والا امریکہ اور اس کے حواری، پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے پر تلے ہیں۔ دوسری عالمگیر لڑائی کے ہنگام قائم ہونے والا امریکی اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں کا اتحاد، Five Eyes بتدریج پھیلتا گیا۔ 1946ء کے دورۂ امریکہ میں، چرچل کی تجویز پر کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کو شامل کیا گیا۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا پہلے برطانیہ کے سائے میں جیا کرتے، اب انکل سام کے۔ ان کی ٹیمیں اب پاکستان کیوں آئیں گی۔ خاص طور پر افغانستان میں پاکستان کی جسارت کے بعد۔ ہرچند مغربیوں کے پرامن انخلا میں ہم نے مدد کی

، مگر آلۂ کار بننے سے انکار کر دیا۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات یمن کے سوال پر عرب اتنا ہی ہم سے بگڑے تھے۔ بھاگے بھاگے دلّی گئے۔ امارات میں بت کدہ کھلا۔ مسلمانوں کو پِلّے قرار دینے والے مودی کے لیے مشرقِ وسطیٰ کا در کھلا۔ اعلیٰ ترین اعزاز اس کی خدمت میں پیش کیے گئے۔ دروازہ ہم پہ بھی کھلا ہے اور چوپٹ۔ سچ تو یہ ہے کہ دستِ قدرت کامل خود مختاری کی طرف ہمیں دھکیل رہا ہے۔ ہم ہی آگے نہیں بڑھتے۔ میں پا شکستہ جا نہ سکا قافلے تلک آتی اگرچہ دیر صدائے جرس رہی خود ترسی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو مدعو کیجیے۔ ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کو۔ امتحانوں میں مواقع چھپے ہوتے ہیں۔ بحرانوں سے نمٹ کر ہی قومیں سرفراز ہوتی ہیں۔ خوش بخت ہیں کہ افغانستان سے تخریب کاری کا اندیشہ ختم ہوا۔ ایٹمی پروگرام، بیس سالہ تربیت اور چین بھارت کشمکش کے طفیل، دشمن کے دھاوے کا اندیشہ باقی نہ رہا۔ تحمل، صبر اور سلیقہ مندی سے آپ کو معاشی خود مختاری کا تہیہ کرنا ہے۔ آپس کی جوتم پیزار سے عمران خان نہیں، پاکستان کے خلاف اقدام ہوا۔ آزاد خارجہ پالیسی کے لیے اپوزیشن کو حکومت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ معاشی تعمیر نو، سیاسی استحکام اور سول اداروں کو مستحکم کیے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ پختہ عزم کے بغیر نہیں۔ اصل الاصول یہ ہے کہ ایک ذرّہ خلوص بھی پروردگار ضائع نہیں کرتا۔ صحیح سمت میں کی جانے والی کوشش کبھی رائیگاں نہیں ہوتی۔ بے سرو ساماں تالبان نے اگر دوعالمی طاقتوں کو بھگایا۔ تیس پینتیس برس میں مفلس چین سپر پاور بن گیا۔ ہم کیوں ادبار سے نجات نہیں پا سکتے۔ خورشید رضوی کے ان اشعار کو ایک بار پھر پڑھیے: اپنا چلتا ہوا بت چھوڑ زمانے کے لیے اور عرصہ ایام سے ہجرت کر جا جاں سے آگے بھی بہت روشنیاں ہیں خورشیدؔ اک ذرا جاں سے گزر جانے کی ہمت کر جا گیلی پولی سے بڑا امتحان ہمیں درپیش نہیں، قیام پاکستان سے مشکل مرحلہ ہرگز نہیں۔ 1981ء میں چین کی فی کس آمدن پاکستان سے آدھی تھی، آدھی سے بھی کم۔ با لترتیب 180اور 380 ڈالر۔شیکسپیئر کا قول یہ ہے:Be great in act as you have been in Thoughts۔ امتحان آ پڑے تو اپنے عمل میں وہی بالیدگی پیدا کرلو جو تمہارے افکار میں ہے۔

Comments are closed.