اب پی ڈی ایم کے جلسوں میں کیا ہو گا ؟ باخبر صحافی کا جاندار تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دیر آید درست آید کے مصداق پی ڈی ایم نے مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ ایک عرصے سے یہ طعنے دیئے جا رہے تھے کہ حکومت تو مہنگائی پر مہنگائی کئے چلے جا رہی ہے

یہ اپوزیشن اس معاملے میں حکومت کی حلیف کیوں بنی ہوئی ہے اس کے خلاف عوام کی آواز کیوں نہیں بنتی۔ لگتا ہے پی ڈی ایم کو بات سمجھ آ گئی ہے اور اس نے اس مسئلے کو اپنے احتجاج کی بنیاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو اس وقت عوام کے لئے ایک بڑا عذاب بنا ہوا ہے جب حکومت کو کسی اجتماعی ردعمل کا سامنا نہ ہو تو وہ اپنی من مانی کرتی چلی جاتی ہے۔ پچھلے تین برسوں میں اپوزیشن صرف حکومت کو بھگانے کا مقصد لے کر احتجاج کرتی رہی ہے۔ حالانکہ بلا کسی جواز کے حکومت کو کیسے بھگایا جا سکتا ہے۔ البتہ مہنگائی ایک ایسی حقیقت ہے، جس پر احتجاج کرنے کا نہ صرف جواز بنتا ہے بلکہ عوام اس معاملے میں پی ڈی ایم کی حمایت بھی کریں گے۔ ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں کو اگر مناسب طور پر منظم کیا گیا اور ان میں عوام کی بڑی تعداد کو شریک کرنے میں اپوزیشن کامیاب رہی تو حکومت کے خلاف یہ ایک بڑی پیش رفت ہو گی۔ اس کا اور کچھ نتیجہ نکلے یا نہ نکلے آئے روز حکومت کے معاشی منیجرز جس طرح نتائج سے بے پروا ہو کر صرف آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لئے ظالمانہ فیصلے کر رہے ہیں ان کو بریک ضرور لگ جائے گی۔اپوزیشن نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے قرضے کی قسط منظور کرانے کے لئے وہ فیصلے بھی کر رہی ہے، جن کا مطالبہ آئی ایم ایف کی طرف سے کیا ہی نہیں گیا، یہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری والا رویہ ہے۔

مثلاً بجلی اور پٹرول کے نرخ یکے بعد دیگرے بڑھا دیئے گئے، حالانکہ ابھی آئی ایم ایف سے مذاکرات ہی شروع نہیں ہوئے۔ اپوزیشن نے اسے آئی ایم ایف کو بھی چکر دینے کی واردات قرار دیا ہے۔ دوسری طرف حکومتی مؤقف یہ ہے پٹرول کی قیمتیں عالمی سطح پر بڑھنے کی وجہ سے بڑھائی گئی ہیں حالانکہ اعداد و شمار بتاتے ہیں پچھلے پندرہ دنوں میں عالمی مارکیٹ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے مستحکم رہی ہے، پھر یہ بات بھی قابل غور ہے اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لٹر اضافہ تجویز کیا تھا، وزیر اعظم نے اسے ساڑھے دس روپے فی لٹر کر دیا۔ ہاں اسی وزیر اعظم نے جن کے بارے میں یہ خبریں عام کی جاتی تھیں کہ انہوں نے اوگرا کی سمری کو مسترد کر دیا ہے اور 5 روپے اضافے کی بجائے صرف دو روپے فی لٹر اضافہ کیا ہے یہ آخر کیا وجہ ہے وزیر اعظم نے اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے، کیا یہ وہی آئی ایم ایف کی خوشنودی حاصل کرنے کا شاخسانہ تو نہیں جو حالات اب لاکھوں گھرانوں کے ہیں، وہی غربت وہی کرائے کے مکانات، وہی بجلی کے بھاری بھرکم بل اور وہی محدود آمدنی یا بے روزگاری، نجانے ہماری اشرافیہ کس دنیا میں رہتی ہے۔ جسے خبر ہی نہیں ہوتی خلقِ خدا کس حال کو پہنچ گئی ہے۔ معاشی محاذ پر بری طرح ناکامی کے بعد حکومت کو سارا زور اس بات پر لگانا چاہئے تھا کہ اس شعبے میں عوام کو ریلیف کیسے دینا ہے، انہیں زندہ کیسے رکھنا ہے

مگر اس طرف گویا اس حکومت کی ذرہ بھر توجہ نہیں اور ایسے فیصلے کر رہی ہے جو حالات سے نابلد افراد ہی کر سکتے ہیں۔ یہ آئی ایم ایف کا ہوا اس سے پہلے تو اتنا کبھی نہیں کھڑا ہوا کہ مطالبے کی نوبت آئے بغیر فرمانبرداری کی انتہا کر دی جائے۔ ایسی غلامی تو پہلے کبھی دیکھی نہ سنی، شوکت ترین کو بڑی شان و شوکت سے وزیر خزانہ بنایا گیا تھا، حفیظ شیخ کی چھٹی کراتے ہوئے بلند توقعات کے ساتھ یہ کہا گیا تھا اب معیشت بہتر ہو جائے گی، مگر ادارہ شماریات نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں ان کے مطابق شوکت ترین کے دور میں ریکارڈ مہنگائی ہوئی ہے اور ابھی تک رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ اب اسے ان کی نا اہلی سمجھا جائے یا پھر مجموعی طور پر حکومت کی ناقص کارکردگی کہ وہ عوام کو ایک آنے کا ریلیف دینے میں بھی ناکام رہی ہے۔ایسی غافل اور بے حس حکومت کو یہ احساس دلانے کے لئے کہ اس کی وجہ سے عوام کا جینا دشوار ہو گیا ہے ایک مؤثر آواز اٹھانے کی ضرورت عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔ پی ڈی ایم نے اگر اس ضرورت کو محسوس کر لیا ہے تو یہ بڑی اچھی بات ہے۔ اب یہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں اور ان کے کارکنوں اور رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی کے خلاف اس احتجاج کو کامیاب بنائیں۔ حکومت کی طرف سے اس احتجاج پر بھی وہی پرانا مؤقف دہرایا جائے گا کہ اپوزیشن احتساب سے بچنے کے لئے احتجاج کر رہی ہے۔ مگر اس کی اہمیت اب اس لئے نہیں رہے گی کیونکہ پی ڈی ایم نے ایک واضح مقصد کے تحت دو ہفتے کے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اگر اپوزیشن کے اس احتجاج کی وجہ سے حکومت قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو روک دیتی ہے تو یہ اپوزیشن کی ایک بڑی کامیابی ہو گی۔ اس صورت میں تو یہ اور بھی بڑی کامیابی ہو گی اگر حکومت یکم نومبر کو پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے کم کر دے خود حکومت کو بھی ہوش کے ناخن لینا چاہئیں۔ ہر شخص دہائی دے رہا ہے کہ اب اس میں مہنگائی کا مزید بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں ایسے میں اگر حکومت کے معاشی مینجرز حالات سے بے پروا ہو کر اپنے ظالمانہ فیصلوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو یہ عمل سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

Comments are closed.