اتنا بڑا فنکار اور اتنی ناقص کتاب : بی بی سی نے فن کے سلطان کی زندگی پر لکھی گئی کتاب میں کیا کیا جھوٹ پکڑ لیے ؟ مداحوں کے کام کی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) بیسویں صدی کی آخری دہائی میں جب پاکستانی فلم انڈسٹری کی کمر ٹوٹ چکی تھی اور فلمی صنعت کا شیش محل زمین بوس ہو چکا تھا تب بھی ماضی کی اس شاندار عمارت کا کچھ حصّہ ایک مضبوط ستون کے سہارے کھڑا رہ گیا تھا۔اور یہ ستون سلطان راہی کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا،

نامور صحافی عارف وقار بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں جو سن پچاس کی دہائی میں ایک ایکسٹرا بوائے کے طور پر آیا تھا اور ترقی کی منازل طے کرتا ہوا پہلے ولن اور پھر ہیرو کے طور پر ساری صنعت پر چھا گیا تھا۔نو جنوری 1996 کی رات کو جب اسے نامعلوم لٹیروں نے نا حق مار ٖ ڈالا تو وہ پاکستان کا مصروف ترین اداکار اور اسکی 54 فلمیں زیرِ تکمیل تھیں۔ اسکی موت سے وہ آخری ستون بھی کھسک گیا اور فلمی صنعت کی رہی سہی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ اس جانکاہ حادثے کے بعد پاکستانی فلم انڈسٹری آج تک پیروں پہ کھڑی نہیں ہو سکی۔ہمارے یہاں چونکہ سوانح عمری کو کبھی ایک آرٹ کا درجہ حاصل نہیں ہو سکا بلکہ یہ زُمرہ افسانوی اور غیر افسانوی ادب کے درمیان کہیں لٹکتا رہ گیا ہے، اس لیے کسی بھی سوانح عمری سے عالمی معیار کی توقع رکھنا تو عبث ہے لیکن جو کچھ سلطان راہی کی سوانح عمری کے نام پر اس وقت ہمارے سامنے ہے اسے تو حالاتِ زندگی کا بیان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔یہ امر قابلِ افسوس ہے کہ اتنے اہم موضوع پر ایک اتنی کمزور اور ناقص کتاب منظرِ عام پر آئی ہے۔کتاب کے سرِ ورق پر اگرچہ زاہد عکاسی کا نام مصنف کے طور پر درج ہے لیکن کتاب میں تدوین نام کی بھی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ تحقیق کا معیار یہ ہے کہ کتاب کی پشت پر درج معلومات میں سلطان راہی کی فلموں

کی تعداد پانچ سو بتائی گئی ہے اور اسے عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا ہے، جبکہ یہ دونوں ہی باتیں درست نہیں ہیں۔کتاب کے صفحہ نمبر 22 پر درج ہے کہ سلطان راہی نے سات سو سے زیادہ فلمیں کیں اور صفحہ نمبر 11 پر پبلشر کے حوالے سے مصنف کہتا ہے کہ سلطان راہی نے آٹھ سو فلموں میں کام کیا جسکی وجہ سے گِنز بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں اِن کا نام شامل ہوگیا۔ پانچ سو، سات سو اور آٹھ سو کے اِن متضاد دعوؤں کے بعد کتاب کے آخر میں سلطان راہی کی فلموں کی جو مکمل فہرست دی گئی ہے اس میں کل چھ سو بیاسی فلمیں گِنوائی گئی ہیں لیکن یہ تعداد بھی درست نہیں ہے۔سنجیدہ محققین نے پوری چھان بین کے بعد جو فہرست تیار کی اس میں سلطان راہی کی آٹھ سو چار فلمیں شامل ہیں۔ اِن محققین میں سلطان راہی کے مداح محمد معصوم بھٹی پیش پیش ہیں جو کہ سعودی عرب میں مقیم ہیں لیکن اِن محققین نے بھی یہ دعوٰی کبھی نہیں کیا کہ سلطان راہی کا نام گِنِز بک میں درج ہو چکا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سلطان راہی کا نام کبھی گِنز بک میں نہیں آیا بلکہ دنیا میں سب سے زیادہ فلموں میں کام کرنے والے اداکار کے طور پر جنوبی ہندوستان کے اداکار کِنے گُنٹی برہمنندم کا نام وہاں درج ہے جس نے سن دو ہزار دس تک 857 فلموں میں کام کیا تھا۔یہ درست ہے کہ اگر سلطان راہی زندہ رہتے تو اس ریکارڈ کو توڑ دیتے لیکن افسوس

کہ ایسا نہ ہو سکا۔سلطان راہی کی ابتدائی زندگی کا بیان فدا احمد کاردار کے ایک پرانے انٹرویو سے اخذ کیا گیا ہے جو خاصا دلچسپ ہے لیکن سلطان راہی کے بچپن یا لڑکپن کی کوئی تصویر کتاب میں شامل نہیں کی گئی جس کی شدت سے کمی محسوس ہوتی ہے۔ اداکار کی شخصیت پر روشنی ڈالنے کے لیے اِن کے جن قریبی ساتھیوں کے تاثرات قلم بند کیے گئے ہیں اُن میں ہدایت کار اسلم ڈار، مصنف عزیز میرٹھی، فلم ساز سرور بھٹی اور صحافی جمیل قریشی شامل ہیں۔ اِن سب کے تاثرات دلچسپ ہیں لیکن یہاں بھی مُرتب نے اپنے صوابدیدی اختیارات بالکل استعمال نہیں کیے چنانچہ کئی باتوں کی تکرار ناگوار گزرتی ہے۔فہرستِ مضامین میں ایک زمرہ ہے ’سپورٹنگ کردار‘ جو کہ صفحہ 121 پر دکھایا گیا ہے لیکن جب اس صفحے پر پہنچیے تو یہ زمرہ غائب ہے۔ کتاب کا سب سے تکلیف دہ پہلو اسکی طباعت کا معیار ہے، صفحہ 65 ، 68 ، 69 ، 72 ، 73 ، 76 ، اور 77 پر دوہری چھپائی ہو گئی ہے یعنی دیگر صفحات کی عبارت اِن صفحات میں گڈ مڈ ہوگئی ہے جس کے باعث اِن سات صفحات کی عبارت پڑھی ہی نہیں جا سکتی۔پاکستانی سنیما کے اہم ترین اداکار کی سوانح عمری شائع کرتے ہوئے جس لا پرواہی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اسکی تلافی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ اس انتہائی ناقص ایڈیشن کو تلف کر دیا جائے اور کتاب کو پوری توجہ اور انہماک سے دوبارہ شائع کیا جائے۔( بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Comments are closed.