اجلاس کا احوال

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بداخلاقی کے واقعات پر مجرموں کو عام سزا دینے کے بارے میں اراکین سے رائے مانگ لی جبکہ اپوزیشن ارکان نے مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر کی تقریر کے دوران شدید احتجاج اور شور شرابہ کیا۔اس موقع پر سی سی پی او کاجو یار ہے غدار ہے

غدار ہے کے بھی نعرے بھی لگائے گئےجبکہ ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہاکہ موٹر وے واقعہ پر وزیراعظم مکمل غائب اور خاموش ہیں۔ن لیگ کے خواجہ آصف کا کہناتھاکہ ریاست مدینہ میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ خاتون کو کوئی ہاتھ لگاسکے‘ گزشتہ 2 سال ثبوت ہیں کہ وعدے صرف اقتدار تک پہنچنے کی سیڑھی تھے۔ وفاقی وزیرشیریں مزاری نے کہاکہ سرعام سزا سے ایسے واقعات کم نہیں ہوتے‘ ہمیں معاشرے اور سوچ کو بدلنا ہوگا ‘مشیر داخلہ شہزاداکبر نے کہاکہ گوجر پورہ واقعہ میں ملوث دو مجرموں میں سے ایک کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے‘ دوسرے مجرم کی گرفتاری کے لئے کارروائی جاری ہے‘ گرفتاری میں مدد دینے والے کے لئے 25 لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے‘ واقعہ پر سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق پیرکو قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ موٹروے جیسے واقعات پر وزیراعظم غائب ہیں اور ایک لفظ تک نہیں کہا،وزیراعظم کا وطیرہ بن چکا ہے کہ جب قوم خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے اور وزیراعظم کو تلاش کرتی ہے تو وہ اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں۔سانحہ پر پوری قوم سوگوار تھی تو حکومت اس بحث میں الجھی ہوئی تھی کہ موٹر وے کے اوپر کس کا کنٹرول ہےموٹروے واقعہ پرپارلیمانی کمیٹی بنائی جائے ‘ایسا پولیس افسر جو بدنام زمانہ تھا اس کو کیوں تعینات کیا گیا۔قائد حزب اختلاف کے اظہار خیال کے جواب میں مراد سعید نے کہا کہ موٹروے واقعے پر جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے‘ موٹروے واقعے پر پورے ملک کو غم ہے، ہم نظام کو ٹھیک کرنے پر بحث نہیں کررہے۔ ہمارے ہاں بحث برائے بحث اور برائے سیاست ہورہی ہے ‘اس بات پر بحث نہیں ہورہی ہے کہ درندوں کو کیسے عبرت کا نشان بنایا جائے،بحث ہورہی ہے کہ سانحہ موٹر وے پر مراد سعید مستعفی ہوجائے ‘دوسری بحث یہ ہورہی ہے کہ پنجاب فرانزک لیب کس نے بنائی۔مراد سعید کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ موٹر وے پر نہیں ہوا، 130 پر کی گئی کال میں نے خود سنی،جن کی ذمہ داری تھی ان کے ساتھ رابطہ کرایا گیا تھا، بحیثیت مرد موٹروے واقعے کا میں ذمہ دار ہوں، اس واقعے کی ذمہ دار ریاست ہے، یہ واقعہ جہاں پر بھی ہوا میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.