احتساب عدالت کے سوال پر شہباز شریف نے کیا جواب دیا

لاہور (ویب ڈیسک) مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف نے احتساب عدالت لاہور کے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ 107 ملین ڈالر کم کرا کے استنبول عجائب گھر کو تحفہ دینا مہنگا نہیں ہے۔لاہور کی احتساب عدالت میں مسلم لیگ نون کے

صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔لاہور کی احتساب عدالت میں شہباز شریف فیملی کے خلاف کیس کی سماعت جج جواد الحسن نے کی۔مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف نے عدالت کو اجازت لے کر بتایا کہ میری میڈیکل رپورٹ نہیں آئی ہے، اس کا حکم فرما دیں۔انہوں نے کہا کہ آج کل ویسٹ مینجمنٹ کی خبریں آ رہی ہیں، جس کا ترکی کی فرم کو ٹھیکہ دیا گیا، یہ کمپنی زیادہ کی ڈیمانڈ کر رہی تھی، میں نے کمپنی سے 107 ملین ڈالر کم کروائے۔شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ میں ترکی اور چین سے دوستی کا بہترین سفیر تھا، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ معاہدہ ہونے کے بعد واپس ہوا ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ملک میں صفائی کا بہترین نظام لے کر آئے، قوم کا ایک ایک پیسہ بچایا، قوم کو بنانے اور بچانے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔عدالت نے سوال کیا کہ آپ کا تحفہ استنبول عجائب گھر میں پڑا ہوا ہے، وہ کیسے دیا؟شہباز شریف نے جواب دیا کہ 107 ملین ڈالر کم کرا کے تحفہ دینا مہنگا نہیں ہے۔اس سے قبل احتساب عدالت لاہور کے احاطے میں شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو پہنچانے کے موقع پر پولیس اہلکاروں اور نون لیگی عہدے داروں کے درمیان تکرار ہوئی۔مسلم لیگ نون کی رہنما مریم اورنگ زیب، عطاء تارڑ، شائستہ پرویز ملک، عظمیٰ بخاری، غزالی سلیم بٹ اور دیگر رہنما بھی متعدد کارکنوں کے ہمراہ عدالت پہنچے تھے۔اپنے رہنماؤں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عدالت آمد پر نون لیگی کارکنوں نے ان کے حق میں نعرے بلند کیئے۔احاطۂ عدالت میں نون لیگی عہدے داروں عظمیٰ بخاری، غزالی سلیم بٹ اور دیگر کی پولیس اہلکاروں سے تکرار بھی ہوئی۔عظمیٰ بخاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج کورٹ روم کے اندر جیمر لگائے جا رہے ہیں، گاڑی اندر لگانے کی اجازت نہیں دے رہے، آج ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی نئے شہباز شریف عدالت آئے ہیں۔واضح رہے کہ اس کیس میں احتساب عدالت شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز، رابعہ عمران، سلمان شہباز سمیت 6 ملزمان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

Comments are closed.