اداکارہ صبیحہ خانم کے والد کی انوکھی داستان محبت

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان فلم انڈسٹری میں غمزہ و عشوہ و ادا کا استعارہ اور انتہائی باصلاحیت اداکارہ صبیحہ خانم تین روز قبل امریکہ میں انتقال کر گئیں۔ بلاشبہ وہ اپنے حسن اور کمال فن کے اس مقام پر رہیں کہ جس کے بیان کے لئے لفظ ہیچ ہو جاتے ہیں۔

گجرات کی مردم خیز اور رومان پرور سرزمین پر 16؍ اکتوبر 1936کو مختار بیگم کے نام سے تولد ہونے والی صبیحہ خانم بھی محمد علی ماہیا کوچوان اورا سٹیج اداکارہ اقبال بیگم کے شادی پر منتج ہونے والے عشق کی یادگار تھیں۔ والدہ کے انتقال کے بعد پندرہ سولہ برس کی مختار بیگم والد کے ہمراہ فلم انڈسٹری میں قسمت آزمائی کیلئے لاہور آ گئیں۔ 1950 میںمسعود پرویز کی فلم بیلی میں چانس ملا لیکن قسمت نہ چمکی، ابتدائی دو فلمیں فلاپ ہو گئیں تو اس کے بعد انور کمال پاشا کی فلم ’’دو آنسو‘‘ ریلیز ہوئی اور پاکستان کی پہلی سلور جوبلی ثابت ہوئی۔ انہی کی فلم سسی نے پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی شاہکار فلموں کی فہرست کسی بھی دوسری اداکارہ سے طویل ہے جس میں اردو اور پنجابی فلمیں شامل ہیں۔ انہوں نے لگ بھگ 202فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اکتوبر 1958میں صبیحہ اپنے ساتھی اداکار سید موسیٰ رضا یعنی سنتوش کمار کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں اور اس جوڑی نے پاکستانی سینما کو یادگار فلمیں دیں۔ ان کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ فلمی سفر 1950سے 1994تک محیط ہے۔ ان کو 6مرتبہ نگار ایوارڈ کے علاوہ تمغہ برائے حسن کارکردگی اور صدارتی ایوارڈ بھی ملا۔ شوہر کی وفات کے بعد وہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ فشار خون اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھیں۔ اپنی مشہور پنجابی فلم ناجی میں لازوال کردار کرنے والی ناجی بالآخر تکلیف دہ بیماریوں سے نجات پا کر 13؍ جون کو خالق حقیقی سے جا ملیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ان کی وطن عزیز میں تدفین کا اہتمام کرے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *