اداکارہ کی زندگی کا حیران کن راز

ممبئی(ویب ڈیسک) کیا آپ جانتے ہیں آج عالیشان اور ٹھاٹ کی زندگی بسر کرنے والے ان بالی ووڈ ستاروں نے ماضی میں اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا تھا۔سونو سود، کنگنا رناوت، یش جیسے کامیاب اداکاروں کی فلموں اور ذاتی زندگیوں سے تو ہر کوئی واقف ہے مگر فلمی صنعت میں قدم جمانے کے لیے

انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا، یہ کم لوگ ہی جاتے ہیں۔اداکار سونو سود آج کل سماجی خدمات کے کاموں میں مصروف عمل ہیں۔ سونو سود نے بالی ووڈ میں آنے کے لیے 20 سال کی عمر میں اپنا گھر چھوڑا اور ڈیلکس ایکسپریس ٹرین کے ذریعے شہر لدھیانہ سے ممبئی آئے۔ سونو سود کا کہنا ہے کہ آج 20 سال بعد جب ماضی کو دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ خوابوں کو پورا ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ ایک انٹرویو میں اداکار کا کہنا تھا والدین میرے بالی ووڈ میں کام کرنے کے خلاف تھے۔اداکارہ کنگنا رناوت متعدد کامیاب فلموں میں کام کر چکی ہیں، فلموں کے علاوہ کورٹ کچہری کے حوالے سے بھی اکثر خبروں میں رہتی ہیں۔ کنگنا رناوت نے اداکارہ بننے کے لیے 15 سال کی عمر میں گھروالوں کو چھوڑ دیا۔ 16 سال کی عمر میں کنگنا رناوت کو ایک انڈر ورلڈ گروہ نےاٹھا بھی کرلیا تھا۔ آج کنگنا رناوت بھاری معاوضہ لینے والی اداکاراؤں میں سے ایک ہیں۔اداکار یش بھی بالی ووڈ انڈسٹری کا ایک نام ہے۔ یش نے بھی بالی ووڈ میں اداکار بننے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے والدین کو چھوڑ دیا تھا۔ یش کے والد انہیں ایک سرکاری آفیسر کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا اور یہی وجہ تھی کہ ان کے گھر والوں کو کبھی امید نہیں تھی کہ یش بڑے اداکار بن پائیں گے۔کارتک آریان نے بھی اداکار بننے کے لیے کافی جدوجہد کی۔ کارتک آریان اپنے 12 دوستوں کے ساتھ ممبئی میں ایک کرائے کے کمرے میں رہتے تھے۔ اداکار کے گھر والوں کو اس بارے میں کوئی خبر نہ تھی کہ وہ بالی ووڈ میں جانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کارتک آریان کو شروع میں کئی آڈیشن کے دوران مسترد کیا گیا لیکن وہ ثابت قدم رہے۔نصیر الدین بالی ووڈ کے سینئر اداکار ہیں۔ انہوں نے نہ صرف بالی ووڈ بلکہ ہالی ووڈ میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ نصیر الدین اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ ’میں اداکار بننے کے لیے 16 سال کی عمر میں اپنے گھر والوں سے الگ ہوا‘۔ نصیر الدین کچھ روز قبل طبیعت کی خرابی کے باعث اسپتال میں زیر علاج تھے تاہم اب اداکار کی طبیعت ٹھیک ہے اور وہ گھر پر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *