ارشاد بھٹی نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

کراچی ( ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان علینہ فاروق نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے بھارت سے تجارت بحالی کا فیصلہ اور پھر اگلے ہی روز جب یہ فیصلہ وزیراعظم کی حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ جاتا ہے تو رد ہو جاتا ہے۔

فواد چوہدری اور معید یوسف اس پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی میں عمران خان نے منظوری ایک وزیر کی حیثیت سے دی اور کابینہ میں سمری کو بحیثیت وزیراعظم رد کیا تو کیا یہ وضاحت درست ہے ؟ اس سوال کے جواب میں سنیئر تجزیہ کاروں ارشاد بھٹی ، مظہر عباس اور ر سول بخش نے کہا کہ وزیر تجارت عمران خان سمری منظور اور وزیراعظم نامنظور کریں یہ فیصلہ درست نہیں، عمران خان کو بطور وزیراعظم اتنی ساری ہیٹس پہننے کی ضرورت نہیں۔وزیراعظم غلطی مانیں ، توجیہات نہیں دینی چاہیے، محمل فراز نے کہا کہ حکومت کو سخت فیصلوں پر کھڑا رہنا چاہئے۔ تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ وزیر تجارت عمران خان سمری منظور وزیراعظم عمران خان سمری نامنظور، یہ درست نہیں۔ بنانا ریپبلک ، سرکس اور عقل سے پیدل فیصلے ایک سال پہلے ہمارے پاس گندم وافر ہے یہ کابینہ اور وزیراعظم کہہ رہے تھے اور گندم ایکسپورٹ کر دی گئی ایک سال بعد گندم ختم ہوگئی امپورٹ کرلو ، حفیظ شیخ ہارے انہوں نے کہا میں استعفیٰ دے دیتا ہوں وزیراعظم نے کہا تمہاری ضرورت ہے ملک کو جاری رکھو چند دن بعد انہیں فارغ کر دیا۔اسی طرح کے واقعات بھرے پڑے ہیں ۔روز پیٹرول بجلی گیس کی قیمتیں کابینہ کی ای سی سی مطلب وزیراعظم بڑھاتے ہیں سمریوں پر جب دباؤ اور شور پڑتا ہے تو خود ہی نوٹس لے لیتے ہیں۔وزیراعظم کی اپنی کنفیوژن ہے۔یہ بہت پہلے سے بات چل رہی تھی جو ان کے مشیر ہیں وہ سب اس پر راضی تھے کہ تجارت کرنی چاہیے یہ متفقہ فیصلہ تھا، ردِ عمل سے گھبرا کر فیصلہ بدلا ہے۔

سنیئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ جب آپ وزیراعظم ہیں تو اتنی ساری ہیٹس پہننے کی ضرورت نہیں ہیں کیوں کہ آپ کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں۔ای سی سی سے لے کر وفاقی کابینہ تک کا جو معاملہ ہے یہ شرمندگی کی بات ہے ۔ جو حماد اظہرنے اس کی افادیت گنوائی تھیں اس کا کیا ہوگا ۔وزیراعظم کی غلطی ہے انہیں مانی چاہیے اس کی توجیہات نہیں دینی چاہیے۔ سنیئر تجزیہ کار سول بخش نے کہا کہ اس سارے معاملے میں وزیراعظم کی ساری قوم کی سبکی ہوئی ہے ایسا بالکل نہیں کرنا چاہیے اور اب جس قسم کی توجیہات دی جارہی ہیں اسے کوئی ماننے کو تیار نہیں ہے۔جب فیصلہ کیا گیا تجارت کے حوالے سے تو ساری دنیا میں اس کو سراہا جارہا تھااب فیصلہ اچانک بدل دینے پر کیا کہا جائے گا اس فیصلے سے جو حکومت اور پاکستان کے حوالے سے تاثر جائے گا وہ اچھا نہیں ہوگا ضروری ہے سوچ سمجھ کر مشاورت کر کے فیصلے کیے جائیں۔تجزیہ کار محمل سرفراز نے کہا کہ حکومت بوقت ضرورت سخت فیصلے کرتی ہیں جن پر انہیں کھڑا رہنا چاہیے پبلک کے دباؤ سے یا ردِ عمل سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ حکومت جب فیصلہ لیتی ہے تو اس کو آگے چلاتی ہے اور ان کو یہ فرق نہیں پڑتا کہ میڈیا یا سوشل میڈیا پر کیا ری ایکشن آئے گا بجائے اس کے یہ 2023 کے الیکشن جیتنے کی پلاننگ کریں یہ ٹاک شوز جیتنے کی پلانگ کر رہے ہوتے ہیں۔پچھلی حکومتوں پر اس سے کہیں زیادہ تنقید ہوتی رہی ہے لیکن ایسا نہیں ہوا کہ میڈیا کی وجہ سے اپنے فیصلے بدل لیے ہوں۔ کیا مسلم لیگ نون بلاول بھٹو کے مشورے پر عمل کرے گی؟ اس کے جواب میں محمل سرفراز نے کہا کہ مسلم لیگ عمل کرے یا نہ کرے یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے لیکن یہ بات کرنا کہ گیلانی کی جیت سے نون لیگ کو کوئی مسئلہ ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ مظہر عباس نے کہا کہ بلاول بھٹو بھی دو ہیٹس پہننا چاہتے ہیں ایک ہیٹ وہ باپ کے ذریعے گیلانی کو قبول کرنا چاہتے ہیں دوسری ہیٹ پی ڈی ایم کی بھی پہننا چاہتے ہیں ایسا ہو نہیں سکتا یہ پیپلز پارٹی سے غلطی ہوئی ہے انہیں ماننا چاہیے۔ ارشاد بھٹی نے کہا کہ موقع شناس مفادپرست ہیں اور اس سیاست میں سب نے دو دو ہیڈز پہنے ہوئے ہیں ۔یوسف گیلانی نے جب پی ٹی آئی کے ووٹ لیے تو اس وقت یہ جمہوریت پسند کہاں چلے گئے تھے۔ رسول بخش نے کہا کہ مفادات کی سیاست ہے اگر اصولوں کو دیکھا جائے تو میں سمجھتا ہوں پیپلز پارٹی کا پلڑا بالکل ہلکا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *