ارشاد بھٹی نے نئے امریکی صدر جوبائیڈن کی زندگی کا یادگار واقعہ بیان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) جوبائیڈن دوبار پاکستان آچکے، پہلی بار سینیٹ خارجہ امور کے چیئرمین کی حیثیت سے 3رکنی وفد میں فروری 2008ءمیں پاکستان آئے، دوسری مرتبہ بحیثیت نائب صدر 12جنوری 2011ءکو پاکستان کا دورہ کیا، صدر زرداری نے اُنہیں ہلالِ پاکستان دیا، صدر اوباما سے انکی دوستی کے ایک عرصے تک چرچے رہے،

نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اوباما انکے بارے میں اکثر کہتے ’’جو کچھ جو بائیڈن کر سکتا ہے وہ کوئی اور نہیں کر سکتا‘‘۔ صدر اوباما نے شاندار خدمات پر اُنہیں صدارتی میڈل آف فریڈم بھی دیا، اپنی اہلیہ، پوتیوں فینگن، نیتالی کے ہمراہ چرچ کے بعد اپنے بیٹے، پہلی بیوی، بیٹی کی قبروں پر حاضری سے صدارتی الیکشن کے دن کا آغاز کرنے والے جوبائیڈن امریکی تاریخ کے معمر ترین صدر، وہ رواں ماہ 20نومبر کو 78برس کے ہو جائینگے۔اب آجائیں، اصل بات پر اور یہ بات اسکول، کالج، یونیورسٹی دور کے اچھے فٹ بالر اور عراق لڑائی کی قرارداد کے حق میں ووٹ دے کر بعد میں اسے اپنی غلطی قرار دینے والے نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے خود بتائی، صدر اوباما کی الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جوبائیڈن نے بتایا ’’میرے بیٹے بیوبائیڈن کو سرطان کا مرض لاحق ہوا، اسکا علاج شروع ہوا اور ایک وقت آیا کہ میں پیسے پیسے کا محتاج ہو گیا، میں نے بینک سے قرضہ لینا چاہا مگر ایک تو بینک کی شرائط بہت سخت، دوسرا میری تنخواہ اتنی نہیں تھی کہ میں قرضے کی قسطیں دے پاتا، لہٰذا مجبوراً میں نے اپنا واحد اثاثہ 4ہزار اسکوائر فٹ کا گھر بیچنے کا فیصلہ کیا، گھر کا سودا ہونے کے قریب تھا کہ صدر اوباما کو پتا چل گیا، اُنہوں نے مجھے پیسے دیے اور یوں میرا گھر بکنے سے بچ گیا‘‘۔آپ اندازہ لگائیں، 1973ءسے 2009ءتک مسلسل 36سال سینیٹر، 8سال امریکہ کا نائب صدر اور بیٹے کے علاج کیلئے پیسے نہیں، واحد اثاثہ گھر بیچنے پر لگا دیا، ذرا سوچئے، جوبائیڈن چاہتے دوچار جگاڑ لگا کر اربوں کما سکتے تھے، بیٹے کا علاج سرکاری خرچ پر کروا سکتے تھے، کوئی ارب، کھرب پتی دوست بھی علاج کا خرچ اٹھا سکتا تھا، انکی امریکہ، برطانیہ، یورپ، دبئی میں آف شور کمپنیاں، جائیدادیں ہو سکتی تھیں، بیوی، بچے ارب، کھرب پتی ہو سکتے تھے، رشتہ داروں، دوستوں، فرنٹ مینوں کے نام پر ملک ملک جائیدادیں ہو سکتی تھیں مگر جوبائیڈن نے یہ سب نہ کیا، کیوں، ایک، نظام ایسا کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے، کسی صورت قبول نہیں، دوسرا، جوبائیڈن جیسے ملک کھاتے نہیں ملک بناتے ہیں، تیسرا، اپنے ملک، اپنی قوم سے جھوٹ، دو نمبری، فراڈ جوبائیڈن جیسوں کے وہم وگمان میں نہیں ہوتا، چوتھا، ہر جوبائیڈن کیلئے اپنی عزتِ نفس، ساکھ ہر شے سے قیمتی، یہی وجہ بیٹے کے علاج کیلئے گھر بیچنے پر لگا دیا اور پہلی مرتبہ صدارتی دوڑ سے خود کو اِسلئے علیحدہ کر لیا کہ ایک برطانوی سیاستدان کی تقریر کا ایک اقتباس چوری کرنے کا الزام لگ گیا، یہ ہوتی ہیں زندہ قومیں اور یہ ہوتے ہیں زندہ قوموں کے رہنما۔ 

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *