ارشاد بھٹی کا حیران کن بیان

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہحکمرانوں نے سانحہ کے بعد ضد کی ،ریاست مدینہ میں کیا امیر کا یہی طرز عمل ہوتا ہے؟لواحقین سے معاہدے کا کوئی کریڈٹ حکومت کو نہیں جاتا،معاملے کو انا کا مسئلہ بنالیا گیا،آج جیت کسی کی نہیں ہوئی

ہم سب کی ہار ہوئی ہے،پروگرام میں میزبان علینہ فاروق شیخ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ مچھ کے متاثرین نے مذاکرات کرکے چھ روز بعد اپنے پیاروں کو دفنا دیا وزیراعظم کے بیانات اس تمام معاملات پر ہم اپنے پینل کے سامنے سوال رکھیں گے کہ جس طرح سے معاملات طے پائے ہیں کیا آپ کو لگتا ہے یہ حکومت کی کامیابی ہے۔ اس حوالے سے سنیئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ میں اس کا کریڈیٹ حکومت کو نہیں دوں گا کیوں وزیراعظم تدفین سے پہلے اپنی ضد چھوڑ کر نہیں گئے ریاست مدینہ میں کیا امیر ریاست کا یہی طرز عمل ہوتا ہے؟ کیا حکومت نے کوئی مجرم پکڑا کوئی ایک عملی قدم بھی اٹھایا گیاکیا حکومت کا ٹریک ریکارڈ ایسا ہے کہ کچھ حتمی طور پر ہوجائے گا ایسا بالکل نہیں ہوگا اس سے پہلے جو سانحات ہوئے ہین اس پر حکومت نے کیا پیشرفت کی ہے کتنے کمیشن بن چکے ہیں اب تک کچھ بھی نہیں ہوا کیوں کہ ان لوگوں کو درد محسوس نہیں ہوتا یہ سب مگرمچھ کے آنسو ہیں۔ایک دن ان کا کوئی اپنا ایسے ہی نشانہ بن جائے تو پھر پتہ چلے ان لوگوں کو۔میری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم جاننا چاہتے تھے انہیں اس کے خلاف مشورے دئیے گئے کہ نہ جائیں لیکن بہرحال وہ وزیراعظم پاکستان ہیں ریاست مدینہ کے داعی ہیں انہیں ان مشوروں پر کان نہیں دھرنا چاہیے تھا۔ سنیئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ آپ آگئے بڑی مہربانی کی آپ نے ،کاش آپ تدفین کے موقع پر وہاں کھڑے ہوتے یہ کون سی ضد تھی یہ آپ نے کیا کیاآپ نے اس کو انا کا مسئلہ بنا لیا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *