ارشاد بھٹی کا خصوصی سیاسی تبصرہ

لاہور(ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اپوزیشن استعفیٰ دے گی، سیاسی تاریخ دیکھیں تو ماضی قریب میں پاکستان تحریک انصاف نے استعفے دیے، استعفے دیتے ہوئے اکثریت کہہ رہی تھی عمران خان نے پھنسوا دیا، دو چار نے استعفے دینے سے انکار بھی کردیا،

بعد میں سب نے استعفے واپس لے لئے اور ایک ایک دن کی تنخواہ بھی وصول کی، ابھی جب چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو ناکامی پر پی پی سینیٹرز نے اپنے استعفے بلاول بھٹو کے پاس جمع کروائے جسے خواجہ آصف نے سیاسی شعبدہ بازی قراردیا، خواجہ آصف نے تو یہ بھی کہا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد ناکامی کے ذمہ دار زرداری صاحب، پیٹھ پر وار کیا ،خواجہ آصف بھول گئے کہ ان کے اپنوں نے بھی پیٹھ پر وار کیے ، ویسے کمال لوگ ہیں یہ سب، ایک طرف جب قیمت اچھی لگے،وصول کر لیں، دوسری طرف ملکہ جذبات جیسے ڈرامے، مگرمچھ کے آنسو، اس بار استعفے، ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت، بلاشبہ سب پارٹیاں مستعفی ہونے کیلئے تیار نہیں، تبھی 31دسمبر کی تاریخ دے کر سب کو وقت دیا گیا،پی پی کیلئے سندھ چھوڑنا، بہت بڑی گیم، ویسے پی پی جس دن سندھ چھوڑے گی وہ دن سندھ اور سندھیوں کیلئے عید کا دن ہوگا، مسلم لیگ میں سے ایک دھڑا ابھی تک نہ صرف استعفوں کے حق میں نہیں بلکہ اس اقدام کی مخالفت کر رہا تبھی مریم نواز کو کہنا پڑ رہا کہ استعفے نہ دینے والوں کا عوام گھیراؤ کریں گےنواز،مریم اور مولانا کے بس میں ہو، بیک ڈور امیدیں ختم ہو جائیں تو استعفے آبھی سکتے ہیں مگر ابھی کچھ کہنا ناممکن، اگلے اڑھائی تین ہفتے اہم، اعصابی لڑائی شروع ہوچکی، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔نتیجہ کچھ بھی برآمد ہو سکتا ہے ، لیکن چہرے سب کے سامنے آجائیں گے پول کھل جائیں گے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.