ارشاد بھٹی کی عمران اینڈ کمپنی پر بھر پور تنقید،

لاہور(ویب ڈیسک) اگر مسلم لیگ، پی پی حکومت میں آکسیجن نہ ہونے سے سرکاری اسپتال میں 6لوگ مرجاتے تو عمران خان کا پہلا مطالبہ ہوتا، وزیراعلیٰ استعفیٰ دیں، وزیرصحت مستعفی ہوں، ان کے خلاف مقدمے قائم کئےجائیں، مگر جب اپنی باری آئی تو نہ صرف 6قتلوں کے باوجود وزیراعلیٰ، وزیر صحت موجود

نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ ڈھیٹ پن کی انتہا دیکھیے 80سے زائد جان لیوا ریلوے حادثے ہوچکے،وزیر موصوف شیخ رشید قائم دائم، غلام سرور پی آئی اے پر اٹیک کر کے بھی وزارت کے مزےلُوٹ رہے، آٹا، گندم، چینی، پٹرول جیسی ’چولیں‘ مار کر سب کے سب وزیر مزے میں، حتی کہ مہنگائی بڑھانے، بروقت آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے والے بھی عہدوں پر، بس ایک ادویات اسکینڈل ایسا، جس کے بعد عامر کیانی سے وزارت لی گئی، یہ علیحدہ بات انہیں پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا،یہاں عین کورونا کے عروج میں جلسہ جلسہ کھیلتی قوم سے کہنا، دیکھ لی اپنی حیثیت، اوقات، کہیں سڑکوں پر بچے جننے پڑیں، کہیں کتا ویکسین نہ ملے، کہیں وینٹی لیٹر نہ ملے، کہیں وینٹی لیٹر ہوتو آکسیجن ختم ہوجائے، مطلب اسپتال میں جگہ نہ ڈاکٹر، نرس نہ دوائی، اب بھی انہی کے جلسوں میں ناچنا جن کی وجہ سے تمہاری زندگیاں جانوروں سے بدتر تو ناچتے رہو بلکہ گھنگھرو باندھ کر ناچو، یہاں یہ بھی بتانا،یہ پشاور اسپتال کا حال، چھوٹے شہروں کے اسپتالوں کا کیا حال ہوگا، یہ خیبرپختونخوا کے دوسرے بڑے سرکاری اسپتال کی حالت، اس سے چھوٹے سرکاری اسپتالوں کی کیا حالت ہوگی، یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ میری پیار ی قوم آپ کے بڑوں کی صحت خراب ہوئی تو ان کا دنیا کے بہترین اسپتالوں میں علاج ہوگا، دنیا کے بہترین ڈاکٹر علاج کریں گے، اگر خدانخواستہ تمہاری صحت خراب ہوئی تو یہی ہوگا، جو ہوا۔ اب باقی چھوڑیں، لیگی دور کا میٹرو منصوبہ ہو یا اورنج ٹرین منصوبہ، عمران خان کا سب سے بڑا اعتراض یہی کہ یہ منصوبے حکومت پر بوجھ، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ منصوبے اپنا خرچہ خود اٹھاتے یا منافع کماتے، الٹا ان منصوبوں کیلئے حکومت کو ہر روز پیسے دینا پڑیں گے، اب اپنے بی آرٹی منصوبے میں بھی ڈیڑھ سے اڑھائی ارب سالانہ سبسڈی دینا پڑے گی، اِس منافقت پر بندہ کیا کہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.