استعفیٰ دیا بھی نہیں اور اسپیکر کے پاس پہنچ بھی گیا ،

اسلام آباد(ویب ڈیسک) (ن) لیگی ارکان اسمبلی کے استعفوں کا معاملہ دلچسپ معمے کی شکل اختیار کر گیا ، رکن قومی اسمبلی مرتضٰی جاوید عباسی اور محمد سجاد کے استعفوں پر حیران کن صورتحال پیدا ، اس حوالے سے اسپیکر آفس اور ن لیگ کا متضاد موقف سامنے آیا ہے ۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی مرتضٰی جاوید عباسی اور محمد سجاد کو استعفوں کی تصدیق کیلئے طلب کرلیا۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ استعفوں پر کارروائی سرکاری لیٹر پیڈ پر استعفے ملنے کے بعد کی، مرتضیٰ عباسی اور سجاد نے سرکاری لیٹر پیڈ پر اسپیکر کو استعفے بھجوائے، دستخط درست، جواب نہ آیا تو منظور کرلیا جائیگا، جبکہ دوسری جانب (ن) لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اسپیکر کو براہ راست استعفے بھجوانے کی خبر درست نہیں ،شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ استعفے اسپیکر کو نہیں پارٹی قیادت کو واٹس ایپ کیے۔ ترجمان قومی اسمبلی نے واضح کیا ہے کہ مسلم لیگ(ن )کے ارکان قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی اور محمد سجاد کے استعفوں پر کاروائی ان کی طرف سے ان کے سرکاری لیٹر پیڈ پر موصول ہونے والے استعفوں اور ان استعفوں پر کئے گئے دستخطوں کی قومی اسمبلی کے ریکارڈ سے تصدیق کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ جمعرات کو اپنے وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ممبران کی طرف سے موصول ہونے والے استعفے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں موجود ہیں اور ان کی تصدیق کے لئے ممبران کو مراسلہ بھیجا گیا ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش ہو کر ان کی تصدیق یا تردید کریں۔ترجمان نے کہا کہ استعفوں پر کاروائی قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے طریق کار 2007 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔ارکان کی طرف سے موصول استعفوں کی کاپیاں ترجمان کی طرف سے کی گئی وضاحت کے ساتھ منسلک ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *