استعفے کے پیچھے چھپی ایک اور کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) شہزاد اکبر کی کارکردگی احتساب کے وعدوں پر سوالیہ نشان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی سربراہی میں بدعنوانی کے خلاف مہم کامیاب نہ ہوئی، یہی وجہ ہے وزیراعظم انکی کارکردگی سے خوش نہ تھے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے سابق مشیر برائے داخلہ اور احتساب شہزاد اکبر،

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر ریفرنس دائر کرنے سے لے کر لوٹی ہوئی رقوم واپس لینے اور مبینہ منی لانڈرنگ میں شریف خاندان اور زرداری خاندان کو ذمہ دار ٹھہرانے تک ہر کیس کو نتیجہ خیز بنانے میں ناکام رہے۔شہزاد اکبر جو کہ بہ یک وقت تین عہدوں پر فائز تھے، انہیں وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں طاقتور ارکان میں شمار کیا جاتا تھا۔ اقتدار میں آتے ہی وزیراعظم نے انہیں لوٹی گئی رقوم واپس لانے اور بدعنوان سیاست دانوں کو ان کی بدعنوانی کی سزا دلوانے کی ذمہ داری دی تھی۔ تاہم، نہ ہی لوٹی گئی رقوم واپس لائی جاسکی اور نہ ہی کسی مبینہ بدعنوان سیاست دان کو سزا ہوسکی۔ اقتدار میں آنے کے ایک ماہ کے اندرہی پی ٹی آئی حکومت نے ٹاسک فورس تشکیل دی تاکہ بیرون ممالک سے وہ تمام پیسہ واپس لایا جاسکے جو بدعنوانی کے ذریعے بھجوایا گیا تھا۔ٹاسک فورس کی سربراہی شہزاد اکبر کررہے تھے اور انہیں مبینہ طور پر پاکستان سے لوٹے گئے 200 ارب ڈالرز واپس لانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ تاہم، تین برس سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود شہزاد اکبر کی سربراہی میں کام کرنے والا اثاثہ بازیابی یونٹ (اے آر یو) اور نہ ہی کوئی دوسرا حکومتی ادارہ یہ رقوم بیرون ممالک سے واپس لا سکا۔ سیاسی مبصرین نے شہزاد اکبر کی احتساب مہم پر سوالات اٹھائے جو لوٹی گئی رقوم واپس لانے میں ناکام رہی۔اس کے علاوہ شہزاد اکبر کی احتساب ٹیم کسی بھی ملزم کو منی لانڈرنگ کیس میں سزا دلانے میں ناکام رہی۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہی وجوہات تھیں جو شہزاد اکبر کو عہدے سے ہٹانے کا سبب بنیں، کیوں کہ وزیراعظم عمران خان ان کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے۔اقتدار میں آنے سے قبل پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا نعرہ ہی بدعنوان سیاست دانوں کا احتساب اور لوٹی گئی رقوم واپس پاکستان لانا تھا۔ لیکن تین برس بعد بھی جب ایسا نہ ہوسکا تو خود ان کے چاہنے والوں نے سوالات شروع کردیئے۔بیرسٹر شہزاد اکبر گوکہ بہت متحرک نظر آئے اور ہر ہفتے وہ پریس کانفرنس کرکے قوم کو یقین دہانی بھی کرواتے تھے کہ انہوں نے منی لانڈرنگ کا سراغ لگالیا ہے، جلد ہی لوٹی گئی رقوم واپس لائی جائیں گی لیکن یہ وعدے اور دعوے پورے نہ ہوسکے۔اے آر یو جو کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف شواہد جمع کررہا تھا تاکہ ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاسکے۔ اس کی سربراہی بھی شہزاد اکبر کررہے تھے انہوں نے اس وقت دی نیوز کو تصدیق بھی کی تھی کہ وہ سپریم کورٹ کے معزز جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے قبل تمام شواہد کی تصدیق کریں گے۔ تاہم، ریفرنس کی تفصیلات سے ثابت ہوا کہ وزیراعظم کے آفس نے اے آر یو کے ذریعے حقائق کی توثیق کرنے میں اہم کردار ادا کیا، اعلیٰ عدلیہ کے ارکان کے خلاف شواہد جمع کیے اور سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا۔شہزاد اکبر نے میڈیا کو بتایا تھا کہ تصدیق کا عمل تیز کردیا گیا ہے لہٰذا ججوں سے متعلق معلومات میڈیا کو لیک نہیں ہونی چاہیئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شہزاد اکبر کی قیادت میں ٹیم نے معزز جج کے خلاف تحقیقات مکمل کرکے حقائق کی تصدیق برطانیہ اور پاکستان سے 28 روز میں کی۔ لیکن یہی تیزی دوسرے کیسز میں نہیں دکھائی گئی۔شہزاد اکبر کی اے آر یو زرداری اور شریف خاندان کی مبینہ منی لانڈرنگ اور جعلی اکائونٹس کی تحقیقات بھی کررہا تھا لیکن دونوں خاندانوں کو اب تک ان کیسز میں سزا نہیں ہوئی ہے۔ ان ناکامیوں کے سبب ہی شہزاد اکبر اب عمران خان کابینہ کا حصہ نہیں ہیں۔ذرائع کا دعویٰ تھا کہ وزیراعظم ان کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے۔ دی نیوز نے شہزاد اکبر سے رابطے کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔