اسلام آباد میں 8 ممالک کے انٹیلی جنس چیفس کی ملاقات کی خاص بات کیا؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اینکر پرسن سلیم صافی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں آٹھ ملکوں کے انٹیلی جنس چیفس کی ملاقات اس حوالے سے اہم ہے کہ افغانستان اور خطے کا مستقبل کا فیصلہ کیا جاسکے۔ یہ اجلاس اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ امریکی انخلا کے بعد خطے کی طاقتوں

کی آپس کی کولڈ وار کو روکا جاسکے۔ ایک نجی میڈیا گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم صافی نے کہا کہ افغانستان پر امریکی اٹیک سے پہلے بھی پڑوسی ممالک کے درمیان کولڈ وار جاری تھی، اب بھی اگر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوتا تو دوبارہ علاقائی طاقتوں کے درمیان کوئی پراکسی وار شروع ہوسکتی ہے۔ اس لیے اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس انتہائی ضروری تھا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں شریک ممالک کے تحفظات اور مفادات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ مجموعی انڈرسٹینڈنگ پہلے سے موجود تھی کہ جو بھی قدم اٹھایا جائے گا تو وہ یہ سب ممالک مل کر اٹھائیں گے۔ اس حوالے سے ہماری انٹیلی جنس نے کافی کام کیا ہوا ہے، جنرل فیض حمید بہت سے ممالک کے دورے کرچکے ہیں، اس کے علاوہ سیاسی طور پر بھی رابطے رہے ہیں۔ سلیم صافی کے مطابق امریکی انخلا کے بعد افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ہم آہنگی لانے کیلئے یہ اجلاس بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر یہ ممالک ایک پیج پر رہیں تو نہ صرف افغانستان میں امن ہوگا بلکہ پورے خطے میں ترقی کا نیا باب شروع کیا جاسکتا ہے۔خیال رہے کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی میزبانی میں آٹھ علاقائی ملکوں کے انٹیلی جنس چیفس کا اہم ترین اجلاس ہوا ہے۔ ان ممالک میں چین، روس، ایران، تاجکستان، ازبکستان، قازقستان اور ترکمانستان شامل ہیں۔ اس اجلاس میں کئی اہم امور پر بات چیت اور صلاح مشورہ کیا گیا اور اس میٹنگ کو پوری دنیا نے غور سے دیکھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *