اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ چیلنج کسے دے دیا ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین سینیٹ الیکشن کیخلاف یوسف رضا گیلانی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کر دی، ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین عدالت کو پارلیمان کی کارروائی کا جائزہ لینے سے واضح طورپر روکتا ہے، مداخلت ایوان کی خودمختاری کمزور کریگی۔

دوران سماعت یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ خانے کے اندر نام پر مہر لگانے پر ووٹ مسترد کئے گئے،رولز میں بیلٹ پیپر یا ووٹ سے متعلق کچھ نہیں،گیلانی کو آج بھی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل،جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اکثریت ہے تو عدم اعتماد لائیں اور چیئرمین سینیٹ بن جائیں، پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عدالت توقع رکھتی ہے پارلیمنٹ کی بالا دستی کو یقینی بنایا جائیگا۔ توقع ہے پارلیمنٹ کے مسائل پارلیمنٹ کے اندر ہی حل کئے جائینگے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 69 کے تحت عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ چیئرمین کا الیکشن سینیٹ کا اندرونی معاملہ ہی ہے۔ الیکشن کا سارا عمل ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کیخلاف درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین سینیٹ الیکشن میں صادق سنجرانی کی کامیابی کے فیصلے کیخلاف یوسف رضا گیلانی کی درخواست پر سماعت کی۔یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے موقف اختیار کیا کہ صدر مملکت نے چیئرمین سینیٹ الیکشن کیلئے جی ڈی اے کے سینیٹر مظفر حسین شاہ کو الیکشن میں پریذائیڈنگ افسر مقرر کیا۔ شیری رحمٰن، سعید غنی اور میں نے بیان حلفی عدالت میں دیا ہے کہ سیکرٹری سینیٹ نے خانے کے اندر کہیں بھی مہر لگانے کا کہا تھا اور سیکرٹری سینیٹ کے کہنے کے بعد ہم نے اپنے سینیٹرز کو کہیں بھی مہر لگانے کا کہا۔ پریزائیڈنگ آفیسر نے خانے کے اندر نام پر مہر لگانے پر ووٹ مسترد کئے، الیکشن میں صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ قرار دیا گیا، اور 7 ووٹوں کو مسترد کر کے یوسف رضا گیلانی کے ہارنے کا اعلان کر دیا۔فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ چیئرمین سینیٹ الیکشن میں الیکشن کمیشن کا کوئی کردار نہیں۔ اگر طریقہ کار میں کوئی بے ضابطگی ہو تو وہ عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکتی۔ رولز میں بیلٹ پیپر یا ووٹ سے متعلق کچھ نہیں، رولز اس حوالے سے خاموش ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کو الیکشن کے روز بھی اور آج بھی سینیٹ میں اکثریت حاصل ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پارلیمان کی اندرونی کارروائی کے استحقاق کے آئین آرٹیکل 69 سے کیسے نکلیں گے ؟ پارلیمان کی اندرونی کارروائی عدالت میں چیلنج کی جاسکتی ہے؟اگر یوسف گیلانی کے پاس اکثریت ہے تو وہ صادق سنجرانی کو ہٹا سکتے ہیں، پارلیمنٹ بڑے مسائل کو حل کرنے کیلئے ہے، کیا اپنا مسئلہ حل نہیں کرسکتے؟ کیا عدالت کو پارلیمانی مسائل میں مداخلت کرنی چاہیے؟۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے دلائل سننے کے بعد یوسف رضا گیلانی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

Comments are closed.