اسٹیبلشمنٹ کی نظر کرم

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلمان عابد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان کے سیاسی منظرنامہ میں حزب اختلاف کی تمام جماعتیں بشمول پی ڈی ایم کافی سرگرم ، متحرک اور فعال نظر آتی ہے اگرچہ تحریک عدم اعتماد کی سیاسی گونج بھی سننے کو مل رہی ہے مگر بظاہر لگتا ایسا ہے کہ

اصل مقصد فوری انتخابات کا ہے۔ حزب اختلاف کی کچھ جماعتوں کا موقف ہے کہ ہمیں اپنی توجہ تحریک عدم اعتماد کے مقابلے میں نئے انتخابات تک مرکوز رکھنی چاہیے۔نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، فضل الرحمن فوری انتخابات جب کہ پیپلز پارٹی پنجاب اور مرکز میں عدم اعتماد کی تحریک کو بنیاد بنا کر حکومت یا وزیر اعظم کی تبدیلی کی حامی ہے ۔یہ ہی وہ بنیادی نقطہ ہے جس کو بنیاد بنا کر حکومت پر دباؤ پیدا کرکے اسے دفاعی پوزیشن پر لاکر اسے مجبور کیا جائے کہ وہ فوری انتخابات کا راستہ اختیار کرے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ دنوں میں حکومت کو مختلف معاملات جس میں بالخصوص معاشی صورتحال اور مہنگائی کے معاملات شامل ہیں، پر کافی دباؤ کا سامنا ہے۔حکومتی سطح پر بھی یہ اعتراف موجود ہے کہ حکومت کا بڑا مسئلہ حزب اختلاف کی جماعتیں نہیں بلکہ معاشی سطح پر موجود مشکلات اور مہنگائی ہے۔ حکومت کو اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ معاشی صورتحال اور مہنگائی کو بنیاد بنا کر ہی عملاً حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کو پسپائی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں۔اس لیے حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی لنگوٹ کس لیے ہیں۔اس لیے جو لوگ اس نقطہ کو سامنے لارہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں دونوں حکومت اور حزب اختلاف میں بداعتمادی کم ہوسکتی ہے ، ممکن نہیں۔ آنے والے دنوں میں ہمیں ایک بڑی محاذ آرائی کے امکانات واضح طور پر نظر آرہے ہیں جو خود حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں ۔حزب اختلاف کی جماعتوں میں اگرچہ مشترکہ جدوجہد پر دوریاں یا تضاد نمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ حکومت مخالف اتحاد میں ہمیں تقسیم نظر آتی ہے۔ اگرچہ کچھ لوگ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی میں جو دوریاں ہیں ان کو ختم کرنے اور دوبارہ پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں شمولیت کی کوشش کررہے ہیں ، مگر فی الحال ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ فریقین میں حکمت عملی پر اختلافات ہیں جو ان کو یکجا کرنے میں رکاوٹ ہیں۔البتہ اہم بات حزب اختلاف کی جماعتوں کا پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا سامنے آئی ہے اور اس میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔یہ دونوں رہنما بنیادی طور پر مزاحمت کی تحریک کے مخالف ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہمیں سڑکوں کے بجائے پارلیمنٹ میں دباؤ کی سیاست بڑھانا ہوگی جب کہ اس کے برعکس مریم نواز ، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن لانگ مارچ یا بڑی احتجاجی تحریک کے حامی ہیں ۔حزب اختلاف کی جماعتوں کا حکومت پر دباؤ بڑھانے اوراس کو دفاعی پوزیشن میں لا کر پسپائی پر مجبور کرنے میں چار اہم حکمت عملیاں نمایاں نظر آتی ہیں۔ اول حزب اختلاف کو لگتا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ایک پیچ کی کہانی ختم ہوگئی ہے اور اس میں ایک بڑا سیاسی ڈیڈ لاک اور بداعتمادی کا ماحول غالب ہے۔ ایسے میں حزب اختلاف خود کو اسٹیبلیشمنٹ کے سامنے متبادل قیادت کے طور پر پیش کرکے عمران خان حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ میں خلیج کو مزیدگہرا کرنا چاہتی ہیں،کیونکہ حزب اختلاف جانتی ہے کہ اگر کوئی واقعی حکومت مخالف تبدیلی آنی ہے

تو اس میں اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہوگا۔دوئم، حزب اختلاف کی کوشش ہے کہ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں جن میں ایم کیو ایم ، جی ڈی اے سندھ اور مسلم لیگ ق کے ساتھ اپنی سیاسی قربتوں کو بڑھاکر ان کو حکومت سے علیحدہ کرنا اور حکومتی حمایت سے دست بردار کرانا شامل ہے۔سوئم، تحریک عدم اعتماد کی سیاسی چال یا سیاسی ہتھیار کو بطور سیاسی کارڈ استعمال کرکے حکومت کو 2022ء میں عام انتخابات پر مجبور کرنا، چہارم محاذ آرائی اور عدم استحکام کی سیاست کو بڑھانا تاکہ حکومت اگلے ڈیڑھ برس انتخابات سے قبل محاذ آرائی ہی کی سیاست میں الجھی رہے اور کچھ ایسا کام نہ کرسکے جو اسے آنے والے انتخابات کی سیاست میں عوامی محاذ پر کوئی بڑا فائدہ دے سکے۔پنجم، حزب اختلاف اپنی سیاست اور میڈیا پر جاری لڑائی میں یہ عوامی تصور اور زیادہ گہرائی کی صورت میں قائم کرنا چاہتی ہے کہ یہ تاریخ کی ناکام حکومت ہے تاکہ انتخابی معرکہ میں حکومت کو ہر سیاسی اور انتخابی محاذ پر ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑے۔اسی کو بنیاد بنا کر میڈیا کی مدد سے اس تصور کو بھی حزب اختلاف کی بعض جماعتیں قائم کرنا چاہتی ہیں کہ اسٹیبلیشمنٹ بھی حکومت سے جان چھڑانا چاہتی ہے اور نئے انتخابات میں ہم ہی متبادل قیادت کے طورپر سیاسی میدان میں موجود ہیں اور ہمیں ہی اقتدار ملے گا۔حزب اختلاف کی جماعتیں بنیادی طور پر اپنی تمام تر توجہ نئے انتخابات پر دینا چاہتی ہیں۔ ان کے خیال میں ہمیں اسٹیبلیشمنٹ پر دباؤ ڈال کر نئے انتخابات کی صورت میں اپنے لیے اقتدار کے کھیل میں نئی سیاسی صف بندی کو یقینی بنانا ہے ۔