اسٹیٹ بنک اب جتنا منافع کمائے گا وہ پاکستان کے خزانے میں نہیں بلکہ سیدھا آئی ایم ایف کے اکاؤنٹ میں جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈٰیسک) زرداری، نواز شریف اور عمران خان… بیرونی قرضوں کے اعتبار سے یہ پاکستان کے بدترین تیرہ (13) سال ہیں۔ یوں لگتا ہے ہر کسی نے اس مملکتِ خداداد پاکستان کو اونے پونے دام پر بیچنے کیلئے کمر کس رکھی تھی۔ زرداری اور نواز شریف کے دس سالہ ادوار میں 2018ء تک پاکستان کا

بیرونی قرضہ 93 ارب ڈالر تک بڑھا۔ لیکن ’’نعرے باز لاڈلے ‘‘عمران خان کے پہلے سال یعنی 2019ء میں قرضہ بڑھ کر 100 ارب ڈالر ہو گیا، 2020ء میں 110 ارب ڈالر اور 2021ء میں اس وقت 116 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ان تین سالوں میں عمران خان حکومت نے 23 ارب ڈالر قرض لیا ہے۔ وہ عمران خان جو 23 سال سے یہ نعرہ بلند کرتا رہا ہے کہ وہ ملک کو قرضوں کی غلامی سے نجات دلائے گا، یعنی اپنی ایک سالہ سیاسی تقریروں کے بدلے میں اس نے اس ملک کو ہر سال ایک ارب ڈالر کا قرض ’’تحفے‘‘ میں دیا ہے۔ پاکستان کی حالت اس وقت یہ ہے کہ ایک ملک کا قرضہ اُتارنے کیلئے دوسرے ملک سے قرض لیتا ہے اور ایک مالیاتی ادارے کا قرض اُتارنے کیلئے دوسرے مالیاتی ادارے سے قرض لیتا ہے اور اب حالت یہ آن پہنچی ہے کہ آئی ایم ایف نے پابندی لگا دی ہے کہ آئندہ سٹیٹ بینک جو بھی منافع کمائے گا وہ پاکستان کے خزانے میں منتقل نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان اب اس وقت تک سٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لے گا جب تک اس کے پاس اتنا سرمایہ موجود نہ ہو جائے کہ وہ بیرونی قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کے قابل ہو سکے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے التجا کی ہے کہ سٹیٹ بینک سے قرض لینا تو اس کا آئینی اختیار ہے، مگر آئی ایم ایف نے ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے اور کہا ہے

کہ ایسا اختیار صرف وہ ملک استعمال کر سکتے ہیں جنہوں نے اپنی معاشی و مالیاتی خودمختاری قرضوں کی صورت عالمی معاشی سودی طاقتوں کے پاس گروی نہ رکھی ہو۔ عمران خان کی حکومت کے ’’معاشی پنڈت‘‘ اس کو ایک بار پھر غلامانہ ذہنیت والی پٹیاں پڑھا رہے ہیں۔ ہمیں ٹیکس بڑھا دینے چاہئیں، سبسڈیز ختم کر دینی چاہئیں، اخراجات میں کمی کر کے قرضوں کی ادائیگی کا بندوبست کرنا چاہئے۔ پاکستان کے یہ پچاس کے قریب معیشت دان ہیں جن کی تعلیم اور ان کا تعلیمی پسِ منظر عالمی طاقتوں کی غلامی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ گذشتہ پچاس سالوں سے ہر حکومت کا حصہ بن جاتے رہے اور پھر آقائوں کی خوشنودی کیلئے حکومتوں کو مجبور کرتے رہے کہ وہ قرض لیں اور وقت گزاریں۔ پچاس سالوں سے ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے اور اس طرح یہ پاکستان کو دھکیلتے دھکیلتے بدترین دلدل میں پھینک چکے ہیں۔ یہ ’’معاشی پنڈت‘‘ وہ معاشی غارت گر ہیں جن میں سے اکثر ان عالمی مالیاتی اداروں کے پے رول (Pay Roll) پر رہے ہیں، بلکہ آج بھی وہ جب چاہیں ان سے دوبارہ وابستہ ہو جاتے ہیں۔ پاکستان نے جس دن یعنی 15 نومبر 1958ء کو امریکہ کے کہنے پر محمد شعیب کو وزیر خزانہ لگایا، اس دن سے ہی ہمارے معاشی زوال کا آغاز ہو گیا تھا۔ اب راستہ کیا ہے؟ تین ہی راستے ہیں۔ (1) عوام کو نچوڑو اور قسط ادا کرو، (2) دیوالیہ ہو جائو کہ ایسا بے شمار ملک کر چکے یا پھر (3) اس عالمی سودی معاشی نظام سے بغاوت کا اعلان کر دو۔