اسکے بعد کیا ہونیوالا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل ہونے والے اضافے کے بارے میں کرنسی ڈیلر اور معیشت کے شعبے کے ماہرین پُرامید ہیں کہ یہ آنے والے دنوں میں برقرار رہے گا اور روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید مضبوط ہو گا۔ سٹاک مارکیٹ اور ایکسچینج کے

ایک ماہر ملک بوستان نے ڈالر کی قدر میں مزید کمی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک امریکی ڈالر 155 پاکستانی روپے تک آ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا ڈالر اور روپے کی آزادانہ تجارت کی سطح یہی بنتی ہے۔ ملک بوستان نے کہا کہ آئندہ برس فروری میں پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکنے کے روشن امکانات ہیں جس کے نتیجے میں نئی سرمایہ کاری کے آنے کی توقع ہے۔پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے مارکیٹ میں روپے کی قدر کو مضبوط کرنے کے کردار کے بارے میں بات کرتے ملک بوستان نے کہا مرکزی بینک نے ڈالر اور روپے کی آزادانہ تجارت میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی۔فرحان محمود بھی اگلے تین چار مہینوں میں روپے کی قدر میں کمی کو نہیں دیکھتے۔ ان کے مطابق اب سے لے کر فروری تک روپیہ تھوڑا مزید مضبوط ہو سکتا ہے جس کی بنیادی وجہ جی 20 ممالک کی جانب سے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کا موخر ہونا ہے۔سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں میں توازن کے لیے دیے گئے دو ارب ڈالر کی واپسی اور اس سے روپے پر کسی قسم کے دباؤ کے سلسلے میں ملک بوستان نے کہا کہ دو ارب ڈالر کی ادائیگی کی صورت میں بھی کوئی فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ پاکستان نے کچھ متبادل ذرائع سے مزید مالی امداد کا انتظام کر رکھا ہے جو سعودی عرب کو دو ارب ڈالر کی واپسی کی صورت میں روپے کو سہارا دیں گے۔روپے کی قدر میں اضافے سے برآمد کنندگان کو ہونے والے نقصان کے بارے میں ملک بوستان نے کہا کہ پاکستانی کرنسی ابھی بھی ڈالر کے مقابلے میں خطے کی دوسری کرنسیوں کے مقابلے میں ’انڈر ویلیو‘ ہے جو ابھی پاکستانی برآمدی شعبے کے لیے منافع بخش ہے۔(بشکریہ: بی بی سی )

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *