اسکے ساتھ انڈیا کے ہارنے کے بعد کیا ہوا ؟ ایک دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بیوی نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔پھر وہی منحوس کرکٹ، اگر تم ایک شام کرکٹ کھیلنے نہ جاؤ تو میں خوشی سے انتقال کر جاؤں ۔۔ شوہر کاندھے اچکاتے ہوئے کہنے لگا۔۔ خداکے لیے مجھے ایسا لالچ نہ دو بیگم۔۔۔

کرکٹ ٹیسٹ میچ ہو رہا تھا سٹیڈیم کے گیٹ پر ایک لڑکا پاس دکھا کر اندر جانے لگا تو گیٹ کیپر نے کہا ”یہ تمہارا پاس تو نہیں ہے“۔ لڑکے نے جواب دیا:”یہ میرے والد صاحب کا ہے“۔ گیٹ کیپر نے پوچھا:”وہ کیوں نہیں آئے؟“۔ لڑکے نے جواب دیا:”وہ بہت مصروف ہیں“۔ گیٹ کیپر نے پوچھا:”وہ کیا کر رہے ہیں“۔ بچے نے جواب دیا:”اپنا پاس تلاش کر رہے ہیں“۔۔ایک خان صاحب کو کرکٹ پر مضمون لکھنے کو کہاگیا۔۔خان صاحب نے ایک منٹ میں لکھ کر کاپی ٹیچر کو دے دی اور چلا گیا۔پٹھان نے کاپی میں لکھا تھا کہ۔۔بارش کی وجہ سے میچ نہیں ہو سکا۔۔ایک دفعہ ایک دیہاتی نے لاٹری میں ایک فلم کا ٹکٹ جیتا۔ فلم دیکھنے کے بعد اس نے اپنے دوست کو وہ فلم دکھانے کی دعوت دی۔ فلم کے دوران ایک سین میں جب ویلن ہیرو کے گھر کی طرف جا رہا تھا تو دیہاتی نے اپنے دوست سے کہا کہ میں تم سے ہزار روپے کی شرط لگاتا ہوں کہ ویلن ہیرو کے گھر کے دروازے سے واپس چلا جائے گا۔ اس کے دوست نے کہا کہ تم یہ فلم پہلے دیکھ چکے ہو، یقینا ایسا ہی ہو گا۔ لیکن دیہاتی کے بار بار ضد کرنے پر اس کے دوست نے اس سے شرط لگا لی۔ سین میں آگے چل کر ویلن ہیرو کے گھر میں دروازہ توڑ کر داخل ہوتا ہے اور اسے ہیرو سے خوب پٹائی بھی پڑتی ہے۔ اس پر وہ دیہاتی مایوس ہو کر اپنے دوست سے کہتا ہے کہ میں نے تو سوچا تھا کہ ایک دفعہ پٹنے کے بعد ویلن دوبارہ ایسی حرکت نہیں کرے گا۔۔بالکل ایسا ہی نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست چوپڑہ صاحب کے ساتھ ہوا۔۔ پاکستان کے خلاف بھارت کے میچ میں بھارت پر سٹہ لگا دیا۔۔بھارتی میڈیا کی ”ہائپ“ کی وجہ سے یقین تھا کہ بھارتی ٹیم ہی جیتے گی،اس لئے ادھر،ادھر سے ادھار لے کر ایک موٹی رقم سٹہ پر لگائی،نتیجہ سامنے آیا تو ہار گئے۔۔ رات کو جب میچ کی جھلکیاں آرہی تھیں،چوپڑا صاحب نے ایک بار پھر بھارتی ٹیم پر سٹہ لگا دیا، ان کا خیال تھا کہ شاید اس بار بھارتی ٹیم کو عقل آجائے اور وہ سنبھل کر کھیل لے۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ لعنت بھی کیا غضب کی چیز ہے، ایڈریس بھی نہ لکھو پھر بھی مستحق تک پہنچ جاتی ہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Comments are closed.