اسے کہتے ہیں کبھی کے دن بڑے ، کبھی کی راتیں : اپنی حکومت قائم رکھنے کے لیے عمران خان کو کیا کرنا پڑ گیا ؟ اقتدار کے ایوانوں سے تازہ ترین خبر

اسلام آباد( ویب ڈیسک)قومی اسمبلی میں ق لیگ ،آزاد ممبران کا کردار اہمیت اختیار کرگیا، اتحادیوں کے گلے شکوے دور نہ ہوئے تو اپوزیشن فنانس بل کی منظوری میں ٹف ٹائم دے سکتی ہے، اختر مینگل اورجمہوری وطن پارٹی کی علیحدگی کے بعد بھی وزیراعظم کو سادہ اکثریت حاصل رہے گی۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں سردار اختر مینگل کی جانب سے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے اعلان اور جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے علیحدگی کے عندیہ کے بعد ایوان میں پارٹی پوزیشن اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ قومی اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد342 ہے، ایک نشست ایم این اے منیر خان اورکزئی کے انتقال سے خالی ہوگئی ہے، سادہ اکثریت کیلئے 172 ممبران درکار ہوتے ہیں، حکمران اتحاد کے ممبران کی تعداد180 ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے الیکشن میں 176 ووٹ ملے تھے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.