اس انکشاف پر سنتا سنگھ کا کیا رد عمل تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) اے پی سی سے یاد آیا اپنا سنتا سنگھ جب پہلی بار سکول گیا تو اس کی ٹیچر نے کہا چلو اے بی سی سناؤ تو وہ بولا باجی تسی نال نال نمی نمی ڈھولکی وجاؤ۔ نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سنتا سنگھ بس ڈرائیور سے کسی نے پوچھا

آپ کتنی دیر بس میں رہتے ہو۔وہ بولا 24گھنٹے۔ پوچھنے والے نے کہا وہ کیسے سنتا سنگھ بولا آٹھ گھنٹے بس میں 16گھنٹے بیوی کے بس میں، مجھے رحم آتا پاکستان کے بیس کروڑ سنتوں بنتوں پر ساری زندگی ان حکمرانوں کے بس میں رہتے ہیں اور مجال سنتا سنگھ کی طرح اُف بھی کر جائیں۔ بھوک ننگ غربت مایوسی کے زیور پہنے یہ سنتے بنتے کبھی پی ٹی آئی کے دربار پر دھمال ڈالتے ہیں،کبھی ن لیگ کے مزار پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں،کبھی پیپلزپارٹی کے مرقد پر جھومر ڈالتے ہیں، ایک خاتون معرووف ڈینٹسٹ ڈاکٹر بنتا سنگھ سے داڑہ نکلوا کر ریسیپشن پر آئی۔ نرس نے کہا میڈم چکر تو نہیں آ رہے۔ ڈاکٹر بنتا جلدی سے بولے چکر تے میرا بل ویکھ کے آن گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *